سفر نامہ... روم ایک مذہبی اور تاریخی شہر

کلوزیم ’ایمپی تھیئٹر‘ سن 80 عیسوی میں پوری طرح مکمل ہو گیا تھا۔ اس زمانے میں یہاں طرح طرح کے مقابلے ہوا کرتے تھے اور ایک وقت میں اسی ہزار افراد سے زیادہ لوگ بیٹھ کر ان مقابلوں کا مزہ لے سکتے تھے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

سیاحوں کی تفریح گاہ وینس سے رخصت ہو کر جب مذہب، تاریخ اور کھنڈرات کے شہر روم پہنچے تو وہاں پھر سے وہی دہلی کی طرح بھاگتے دوڑتے شہر ’روم‘ سے ملاقات ہوئی۔ رات بھر ٹرین سے سفر طے کرنے کے بعد صبح 6.30 بجے ٹرین سے اترے، وہیں سے ’کورنیلیا‘ کے لئے میٹرو لی، جہاں ہمارے لئے اپارٹمنٹ بک تھا۔ یہاں میٹرو کی دو لائنیں ہیں ایک ’اے‘ اور دوسری ’بی‘۔ کورنیلیا کے لئے لائن ’بی‘ سےمیٹرو لینی تھی۔ صبح کا وقت اوپر سے پیر کا دن یعنی ہفتہ کا پہلا ورکنگ ڈے اور آفس کے اوقات۔ یہ سب کچھ کافی تھا بھاگنے دوڑنے کے لئے، جس طرف نگاہیں اٹھتیں کوئی نہ کوئی بھاگتا دوڑتانظر آیا۔ یہ نظارہ دیکھ کر دہلی کی یاد تازہ ہوگئی۔ جس ٹرین سے وینس سے روم آئے تھے وہ ایک لوکل ٹائپ ٹرین تھی، مسافروں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ٹرین کی اسپیڈ بھی کم تھی۔کیونکہ یہاں بلٹ ٹرین جیسی تیز ٹرینوں کا رواج نہیں ہے۔ سلیپر کلاس، کوچ میں چار چار سواریوں کے لئے ایک بند کمرہ، جس میں انتہائی صاف شفاف بیڈ شیٹ، کمبل، جوس، کنگھا، ٹشو پیپر، پانی وغیرہ سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ ہر چیز نہایت نفیس تھی۔

اپارٹمنٹ پہنچنے کے بعد ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر ’ویٹیکن‘ کے بعد سب سے مشہور تاریخی جگہ ’کلوزیم ‘ کو دیکھنےکے لئے نکل پڑے۔ ’کلوزیو‘ نام کے میٹرو اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی کلوزیم نظر آ گیا۔ یہ عمارت کھنڈر ضرور ہے لیکن ان کھنڈرات سے اس کی تاریخی حیثیت چیخ چیخ کر بولتی نظر آتی ہے۔ سن 72 عیسوی میں یہ عمارت تعمیر ہونی شروع ہوئی تھی اور 80 عیسوی میں پوری طرح مکمل ہو گئی تھی۔ یہ اس زمانہ کا اسٹیڈیم ہوا کرتا تھا جس میں ہر طرح کے مقابلے ہوا کرتے تھے اور ایک وقت میں اسی ہزار افراد سے زیادہ لوگ یہاں بیٹھ کر ان مقابلوں کا مزہ لے سکتے تھے۔اس کو اس زمانہ کا ’ایمپی تھیئٹر‘ کہا جاتا ہے۔

تین منزلہ اس عمارت میں داخلہ کا ٹکٹ 12 یورو ہے اور کافی سیکورٹی کے بعد اس عمارت میں داخلہ ممکن ہو سکا۔ اندر پہنچ کر ایسا احساس ہوا کہ جیسے ہم اسی دور میں پہنچ گئے ہوں۔ سیڑھیاں، بیٹھنے کی جگہ یعنی اندر موجود ہر شے ہمیں زمانہ قدیم کےدور سے روشناس کرارہی تھی اور ہم ادوار قدیم کو یاد کر کے محظوظ ہو رہے تھے ۔ تین گھنٹے تک اسے دیکھنے کے بعد اس سے ملحقہ ’پلاٹینی ہلس‘ گئے مگر اس کے لئے علیحدہ سے ٹکٹ نہیں لینا پڑا، اسی کے ساتھ ’روما فورم‘ بھی ہے۔

پلاٹینی ہلس تھوڑا اونچائی پر ہے لیکن بہت ہی خوبصورت، مگر یہ خوبصورتی کھنڈرات کی ہے۔ یہ ہلس (پہاڑ) وہ ہیں جہاں سب سے پہلے رومن آکر رہایش پذیر ہوئے تھے۔ یہاں خوبصورت چرچ اور چاروں طرف ہریالی کا راج ہے۔ یہیں سے ’روما فورم‘ کے لئے اندر سے ہی راستہ ہے۔ روما فورم در اصل وہ جگہ ہے جہاں سے اس وقت کے بڑے لوگ عوام سے خطاب کیا کرتے تھے، یہیں سے بڑے فیصلوں کا اعلان کیا جاتا تھا اور یہیں پر مجرموں کو سر عام پھانسی دی جاتی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہاں کئی اسٹیج ہوں، ایک حصہ ناظرین کے لئے اور سب سے بالائی حصہ چرچ کے لئے۔ اس زمانہ میں چونکہ سب سے زیادہ اہمیت چرچ کی ہوا کرتی تھی اس لئے چرچ کو ہر جگہ اونچے اور اعلی مقام پر ہی بنایا گیا ہے۔ ان جگہوں کی بہت لمبی تاریخ ہے جو کسی اور وقت بیان کی جائے گی۔ دو گھنٹے گھومنے کے بعد ہم پوری طرح تھک چکے تھے اس لئے تھوڑی دیر روم کی سڑکوں پر گھومنے کے بعد واپس اپنے اپارٹمنٹ پہنچے۔

روم میں پیرس اور ہندوستان دونوں نظر آئے۔ تاریخی اور مذہبی مقامات کے ساتھ ہر چیز ترتیب میں ہے لیکن ہر مقام پر دلالوں کا بول بالا ہے جو کہ بنگلہ دیشی باشندے ہیں۔ ان مقامات پر آپ کا سب سے پہلا واسطہ ان دلالوں سے پڑے گا۔ اگر آپ ان دلالوں سے کسی طرح گھبرائے نہیں تو ہر چیز آپ کو آسانی سے دستیاب ہو جائے گی۔ یہاں پر اس طرح کی وارننگ صاف طور پر لکھی ہوئی ہے کہ باہر گھوم رہے وینڈرس سے آپ کچھ نہ خریدیں۔ ہندوستان کی طرح ان دلالوں کو اگر کوئی پولس والا دکھائی دیتا ہے تو یہ سب بھاگتے ہوئے بھی نظرآتے ہیں۔ جوکہ ان کے ساتھ ایسا ہر گھنٹے ہوتا ہے۔

روم کا سفر جاری ہے کچھ مذہبی مقامات کی معلومات کے ساتھ پھر آپ سے رو برو ہوں گے۔