ملک

سفر نامہ... ’وینس‘ شہر کا ہر جزیرہ انتہائی خوبصورت

آپ کو کسی سواری سے واسطہ نہ پڑے اور کسی جگہ کوئی گاڑی بھی دکھائی نہ دے، لیکن وینس کے لئے آپ یہ تصور ضرور کر لیجئے، کیونکہ وہاں یہ سب چیزیں موجود نہیں۔

تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

بازاروں میں سیاحوں کی رونق، سڑک کنارے ہوٹلوں میں مقامی کھانے کا مزہ لیتے لوگ، پانی میں بھاگتی دوڑتی کشتیوں کے بیچ پر سکون مقامی لوگ، یہ وہ چیزیں ہیں جو وینس کو اور شہروں سے جدا بناتی ہیں۔ ہمارے لئے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ پورے شہر میں کہیں کسی سواری سے واسطہ نہ پڑے اور کسی جگہ کوئی گاڑی دکھائی نہ دے لیکن وینس کے لئے آپ یہ تصور کر لیجئے۔ دو دو تین تین کلومیٹر تک پیدل چلتے لوگ بہت خوش نظر آتے ہیں۔

دوپہرکو مرکزی بازار سے ہوتے ہوئے ’پیازو سین مارکو‘ یعنی سینٹ مارکس اسکوائر پہنچے۔یہ اسکوائر جس کے مشرق میں ایک شاندار چرچ بنا ہوا ہے اور دو جانب بڑی بڑی عمارتیں ہیں جن کی اپنی تاریخی حیثیت ہے۔ وینس میں جس طرح ہر محلہ میں ایک کھلی جگہ ہوتی ہے اور اس جگہ پر ایک چرچ ہوتا ہے ۔ اس کھلی جگہ کو ’کیمپی‘ یعنی میدان کہا جاتا ہے اس طرح شہر کے اس سب سے بڑے کھلے میدان کو اسکوائر کہا جاتا ہے، اس کی تعمیر 800 ء میں شروع ہوئی تھی۔ ہمارے ذہن میں تھا کہ اتوار کی وجہ سے شاید یہاں زیادہ بھیڑ ہے لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ روزانہ اتنی ہی بھیڑ رہتی ہے۔

یہاں کے کبوتر بھی کمال کے ہیں کندھے سے کندھا ٹکرانے والی بھیڑ میں کبوتر بےخوف ہو کر آپ کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں جبکہ کوئی انہیں دانا بھی نہیں ڈالتا۔ فن تعمیر کی بہترین مثال ہے یہ اسکوائر۔ اس کے ایک سمت ندی بہہ رہی ہے جہاں سے ہم نے وینس کے بہت سے جزیروں میں سے ایک خوبصورت جزیرے ’برانو‘ جانے کا ذہن بنایا۔ ہر آدھے گھنٹے بعد یہاں سے ایک واٹر بس جاتی ہے اور تقریبا ًایک گھنٹے دس منٹ کے سفر کے بعد اس جزیرے میں پہنچتے ہیں۔

جزیرے میں پہنچنے کے بعد ایک عجیب طرح کے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ مچھواروں کے اس جزیرے میں ایک سائز کے مکان ہیں لیکن سب کے رنگ الگ الگ ہیں جو بہت ہی خوبصورت اور دیدہ ذیب نظر آتے ہیں ۔ کل چھ رنگ ہوں گے جو ان مکانوں پر رنگے گئےہیں ۔ لیکن دو مکان ایک رنگ کے ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔ بہت ترتیب کے ساتھ یہ رنگ کئے گئے ہیں اور ہر مکان کے باہر کھڑکی میں ایک گملا ضرور دکھائی دے گا جو مکان کو اور خوبصورت بناتا ہے ۔ چاروں سمت ندی کا بہتا پانی اور وینس کی طرح جزیرے کے اندر بھی پانی بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ مکانوں کے درمیان سڑک کنارے دوکان اور ہوٹل۔ پانی اور ہریالی کے بیچ رنگ برنگے مکان۔ کئی محلوں کو جوڑنے کے لئے پل۔ دو گھنٹے میں پورا جزیرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ واپسی کے لئے پھر وہی واٹر بس جس کا ایک جانب کا کرایہ ساڑھے سات یورو ہے۔ ٹکٹ سے لے کر واٹر ٹیکسی کے سفر میں کہیں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ وینس میں ایک جزیرہ ’مرانو‘ بھی ہے جو گلاس فیکٹری کے لئے مشہور ہے اور یہاں بہت خوبصورت گلاس میوزیم ہے جس میں گلاس سے بنائی جانے والی مختلف اشیاء ہیں اور وہ کیسے بنتی ہیں اس کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے ۔ یہ وینس کے مشہور مقامات میں سے ایک ہے۔ ہر جزیرہ اتنا خوبصورت ہےکہ بے ساختہ یہاں رہنے کو دل چاہتا ہے ، وہاں کی خواتین دھاگے سے جو کپڑے بناتی ہیں وہ بہت ہی اچھے ہوتے ہیں۔ سیا حت کی وجہ سے خوشحالی تو ہے لیکن جزیرے میں رہنے والے لوگوں کی الگ پریشانیاں ہیں، یعنی یہاں کے لوگ سردیوں میں سیلاب سے پریشان ہوتے ہیں جس کے سبب ان کو علاقہ چھو ڑنا پڑتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ خوبصورت پہاڑ، زبردست ہریالی اور سمندر کے کنارے شہر اپنی ایک اہمیت رکھتے ہیں لیکن جو بات پانی کے اس شہر وینس میں ہے وہ دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔

آج روم کے لئے روانگی ہے دیکھتے ہیں وہاں کیا مختلف نظر آتا ہے۔

Published: 23 Apr 2018, 8:54 PM