عالمی آواز-3: امریکی عوام کو صدارتی انتخابات کے نتائج کی کیوں فکر نہیں؟

اس وقت امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر بحث نہیں ہو رہی بلکہ موضوع بحث یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے ہارنے کے بعد امریکہ میں اقتدار کی منتقلی پر امن طور پر ہو پائے گی یا نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

حال ہی میں بیلاروس میں انتخابات ہوئے جس میں وہاں کے موجودہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے 80 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ حز ب اختلاف کی امیدوار سویتلانا تیخانوفسکایا کو 9.9 فیصد ووٹ ملے۔بیلا روس میں ووٹنگ ضرور ہوئی لیکن یہ انتخابات کئی طرح کے سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ الیگزینڈر لوکاشینکو بیلاروس کے گزشتہ 26سالوں سے صدر ہیں۔ ان کے خلاف ملک میں جو احتجاج ہو رہے ہیں یا ہوتے ہیں وہ ان کو پر تشدد طریقوں سے قابو میں کرتے ہیں اور حالیہ دنوں میں کافی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

1986 میں یوکرین میں چرنوبل حادثے کے منفی اثرات سے بچنے کی خاطر فلاحی تنظیموں کی جانب سے آئرلینڈ لائے جانے والے ہزاروں بچوں میں سویتلانا بھی تھیں اور اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔ آئیرلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیلاروس کی یونیورسٹی میں وہ تدریس کا کام کرنے لگی تھیں۔37 سالہ سویتلانا کا سیاست سے سیدھا تعلق صرف اتنا ہے کہ ان کے شوہر سرگئی تخانووسکی کو اس اعلان کے دو دن بعد ہی گرفتار کر لیا تھا جب انہوں صدارت کے عہدے کے لئے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد وہ سیاست کے میدان میں آئیں لیکن اب وہ پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ سویتلانا نے ملک چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے لیتھوینیا میں پناہ لے لی ہے۔

9اگست کو انتخابات میں سویتلانا اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے لاپتہ رہیں جس کے بعد خبر آئی کہ وہ لیتھوینیا میں ہیں۔ اپنے ملک چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ سویتلانا عوام کی شکایت بن کر سامنے آئی تھیں اور ان کا امیروں سے پیسہ لے کر غریبوں کو دینے کا اصلاحاتی پروگرام انتخابی مہم کے دوران کافی مقبول ہوا تھا۔

بیلاروس کے بارے میں آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں ایک شخص کا راج ہے اور جمہوریت صرف نام کی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں اس ملک کا ذکر ہو رہا ہے۔ ذکر کرنے والا حزب اختلاف کا کوئی رہنما نہیں بلکہ بر سر اقتدار ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر رمٹ رومنی نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’اقتدار کی پرُامن منتقلی جمہوریت کا بنیادی جزو ہے اور اس کی عدم موجودگی تو بیلاروس ہے۔ ایسا تاثر ملنا کہ صدر جمہوریہ ملک کے آئین کا احترام نہیں کریں گے، یہ ناقابلِ یقین اور ناقابلِ قبول ہے۔‘‘ دراصل امریکی صدر نے حال ہی میں ڈاک کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اس انداز کے بیلٹ سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اقتدار کی منتقلی نہیں ہو گی بلکہ اقتدار کا تسلسل ہو گا۔‘‘

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ’’اگر ایسا نہ ہوا تو اقتدار کی منتقلی نہیں ہوگی بلکہ اقتدار کا تسلسل ہوگا‘‘ نے امریکہ کے اقتدار کے گلیاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریپبلیکن سینیٹر مٹ رومنی نے بیلاروس کا ذکر کیا۔ صرف یہی نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف اسی صورت میں ہار سکتے ہیں جب انتخابات میں دھاندلی ہو۔یعنی وہ جیتیں گے جبھی انتخابات صحیح اور شفاف ہوں گے۔ ان کے کئی افسران اور ساتھی اس بات کو کہہ چکے ہیں کہ اگر انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تو وہ انتخابات کے نتائج قبول کر لیں گے۔ اس ’اگر‘ میں ہی سب کچھ چھپا ہوا ہے۔ ان تمام بیانات کا سیدھا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے پیغام دینا شروع کر دیا ہے کہ ضروری نہیں کہ وہ انتخابات میں ہار جائیں تو وہائٹ ہاؤس کو خالی کر دیں گے جیسے پہلے صدور کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکی عوام کو خوفزدہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ قوم پرستی اسی کا نام ہے، اگر ہم جیتتے ہیں تو سب کچھ ٹھیک ہے نہیں تو انتخابات بھی غلط اور عوام بھی ملک دشمن۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات گزشتہ انتخابات سے کچھ جدا ہیں۔ ایک تو یہ کہ پہلی مرتبہ انتخابات اس دور میں ہو رہے ہیں جب پوری دنیا طبی بحران کی زد میں ہے اور خود امریکہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت بہت بری طرح متاثر ہے اور سب سے مختلف بات یہ ہے کہ صدر جو دوسری مرتبہ کے لئے صدارتی امیدوار بھی ہیں وہ بہت ضدی اور مختلف ہیں جواقتدار میں بنے رہنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مقابلہ پر ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائڈن ہیں اور تمام سروے کے مطابق وہ صدر ٹرمپ سے کافی آگے نظر آ رہے ہیں۔

اب امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج یا کون آگے چل رہا ہے یا کس کی مقبولیت کتنی ہے اس پر بحث نہیں ہو رہی بلکہ اب موضوع بحث یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے ہارنے کے بعد امریکہ میں اقتدار کی منتقلی پر امن طور پر ہو جائے گی یا نہیں۔ لوگوں کو تشویش ہے کہ کہیں امریکہ بیلا روس کی جانب تو گامزن نہیں ہے جہاں کی جمہوریت پر بڑے سوال کھڑے ہو چکے ہیں۔ ویسے تو دنیا کے کئی ممالک بیلاروس بن چکے ہیں لیکن اگر امریکہ میں اقتدار کی منتقلی پر سوال کھڑے ہوتےہیں تو پھر جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ ابھی تک یہ مانا جاتا رہا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت ہے۔

next