کسان احتجاج: بی جے پی کا زرعی بل ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کی یاد دلاتا ہے، پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’کسانوں سے ایم ایس پی چھین لی جائے گی اور انہیں کنٹریکٹ فارمنگ کے ذریعے کھرب پتیوں کا غلام بننے پر مجبور کیا جائے گا‘‘

تصویر بشکریہ این ڈی ٹی وی
تصویر بشکریہ این ڈی ٹی وی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک بھر کے کسانوں زراعت سے متعلق بلوں کے خلاف احتجاج میں آج ’بھارت بند‘ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ سمیت دیگر ریاستوں کے کسان گزشتہ کئی دنوں سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں لیکن حکومت ان سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی۔

اپوزیشن جماعتوں بھی بلوں کے خلاف کسانوں کے شانہ بشانہ نظر آ رہی ہیں اور حکومت کا محاصرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کانگریس نے بھارت بند میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز اپنے ٹویٹ میں لکھا، "کسانوں سے ایم ایس پی چھین لی جائے گی۔ انہیں کنٹریکٹ فارمنگ کے فارمنگ کے ذریعہ کھرب پتیوں کا غلام بننے پر مجبور کیا جائے گا۔ نہ قیمت ملے گی اور نہ ہی عزت و احترام۔ کسان اپنے ہی کھیت پر مزدور بن جائے گا۔ بی جے پی کا زرعی بل ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ راج کی یاد دلاتا ہے۔ ہم یہ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

وہیں، کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، "پیٹ میں انگارے اور دل میں طوفان لئے ملک کا انداتا کسان تقدیر ساز کھیت مزدور بھارت بند کرنے پر مجبور ہے۔ متکبر مودی حکومت کو نہ تو ان کے دل تکلیف نظر آتی اور نہ ہی ان کی روح کی۔ آئیے، بھارت بند میں کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہوں، جدوجہد کا عہد کریں۔‘‘

واضح رہے کہ بھارتیہ کسان یونین سمیت کسانوں کی مختلف تنظیمیں بھارت بند میں شامل ہیں۔ کسان تنظیموں کو کانگریس، آر جے ڈی، سماج وادی پارٹی، اکالی دل، عآپ، ٹی ایم سی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ پنجاب کے کسان گزشتہ روز سے تین روزہ ریل روکو تحریک چلا رہے ہیں۔ وہاں کے کسان ریلوے ٹریک پر ڈٹے ہیں اور بل واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Published: 25 Sep 2020, 12:11 PM
next