ڈھاکہ میں تقریبِ حلف برداری میں اوم برلا کو کیوں بھیجا گیا، جے شنکر یا ڈووال کو کیوں نہیں؟

بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم کی تقریبِ حلف برداری میں ہندوستان کی نمائندگی کے لیے اوم برلا کا انتخاب حیران کن ہے، جسے ڈھاکہ میں بی این پی حکومت کے تئیں نئی دہلی کے محتاط رویے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈھاکہ پہنچنے پر اوم برلا کا استقبال کرتے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ محمد نذر الاسلام / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

اے جے پربل

ڈھاکہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج 17 فروری کو طارق رحمن کی تقریبِ حلف برداری میں پاکستان، سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کے وزرائے اعظم نے شرکت کر رہے ہیں۔ اسی طرح چین، تھائی لینڈ، سنگاپور، ملائیشیا اور مالدیپ کے وزرائے اعظم بھی اس موقع پر موجود رہیں گے۔ نمایاں طور پر غیر حاضر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی رہے، جنہوں نے اندرونِ ملک دیگر سرکاری مصروفیات کی بنا پر دعوت قبول نہیں کی۔

یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ کیا ہندوستان نے ایک اور موقع ضائع کر دیا، جس کے ذریعے وہ بی این پی کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات استوار کرنے اور نئی حکومت کے ساتھ صاف ذہن اور کھلے دل کے ساتھ پیش آنے کا اشارہ دے سکتا تھا؟ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو، جو بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں زیادہ اہم سیاسی شخصیت نہیں سمجھے جاتے، بھیجنا بظاہر ایک محفوظ انتخاب محسوس ہو سکتا ہے، مگر کیا وہ اس تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کے لیے موزوں ترین شخصیت ہیں؟

اگر ہندوستان واقعی محتاط رہنا چاہتا تھا تو وزیر خارجہ ایس جے شنکر یا قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال حکومت اور وزیر اعظم کی نمائندگی کر سکتے تھے۔ ان دونوں کو یہ موقع بھی ملتا کہ وہ تقریب کے موقع پر خطے کے دیگر سربراہانِ حکومت سے ملاقاتیں کرتے اور باہمی امور پر تبادلۂ خیال کرتے۔ اس اعتبار سے لوک سبھا اسپیکر کو بھیجنا موقع کو ضائع کرنے کے مترادف نظر آتا ہے۔

اوم برلا کا انتخاب، جو اس وقت اپوزیشن کی متعدد جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد کا سامنا کر رہے ہیں، شاید اس پیغام کے لیے کیا گیا ہو کہ وزیر اعظم اور بی جے پی کی نظر میں یہ قرارداد کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ تاہم اگر داخلی سیاست میں ایک نکتہ ثابت کرنے کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارم کا استعمال کیا گیا ہو تو یہ طرزِ عمل غیر سنجیدہ اور غیر مؤثر محسوس ہوتا ہے۔ البتہ یہ اقدام اس صورت میں معنی خیز ہو سکتا ہے اگر حکومت کا ارادہ ہو کہ اسپیکر کو مستعفی کروا کر کابینہ میں شامل کیا جائے اور انہیں وزیر کے طور پر متعارف کرایا جائے۔


اس معاملے میں سفارتی آداب اور پروٹوکول کا پہلو بھی اہم ہے۔ چونکہ دعوت براہِ راست وزیر اعظم کو دی گئی تھی، اس لیے نائب صدر شاید موزوں متبادل نہ ہوتے۔ مگر کیا لوک سبھا اسپیکر درست انتخاب تھے؟ وہ حکومت یا انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں، اسی لیے ڈھاکہ میں ان کی موجودگی کسی حد تک بے محل محسوس ہوئی۔ پروٹوکول کے اعتبار سے بھی انہیں مالدیپ اور بھوٹان کے وزرائے اعظم جیسے رہنماؤں کے مقابلے میں کم درجہ حاصل ہوگا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول یا خارجہ سکریٹری وکرم مسری کی موجودگی نہ صرف نمایاں ہوتی بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی کہ نئی دہلی بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔