عالمی آواز-2: ہتھیار اور بدامنی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں... سید خرم رضا

اقتصادی استحکام کے لئے اسلحہ کا بڑا اہم کردار ہے۔ جو ممالک آج اقتصادی طور پر مستحکم ہیں وہ اسلحہ بناکر بیچنے والے ملک ہیں۔ دراصل یہ ہتھیار ہی ان کے سب سے بڑے معاشی ہتھیار ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

ویسے تو جتنی ضرورت گراہک کو دوکاندار کی ہوتی ہے اتنی ہی ضرورت دوکاندار کو گراہک کی ہوتی ہے۔ یعنی دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دوکاندار کا ہاتھ اوپر ہی رہتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی ملک کے سیاسی استحکام کے لئے معاشی استحکام انتہائی لازمی عنصر ہے۔ امریکہ اگر آج دنیا کا چودھری بنا ہو ا ہے تو اس کی وجہ امریکہ کی اقتصادی طاقت ہے۔ امریکہ اس اقتصادی طاقت کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لئے دوسرے ممالک کے ذرائع کو استعمال کرتا ہے اور اس کے لئے وہ ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ اس عالمی طبی وبا کے دور میں امریکہ کی اقتصادی طاقت پہلے سے ضرور کم ہوئی ہے لیکن دوسرے ممالک کے مقابلہ میں اب بھی بہتر ہے۔ آج اگر دنیا کےکسی بھی ملک کی کرنسی نیچے آتی ہے، تو اس کے مقابلہ میں امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں اگر روپے کی قیمت گرتی ہے تو اس کو امریکی ڈالر کے مقابلہ میں ہی دیکھا جاتا ہے۔ اپنی اقتصادی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کو کئی ممالک کا پیسہ، ذرائع اور مارکیٹ درکار ہیں۔ اسی لئے امریکہ نے حال ہی میں سیاسی فائدہ کے ساتھ ساتھ اقتصادی فائدہ کی غرض سے اسرائیل اور عرب ممالک میں دوستی کرانے کی مہم شروع کی ہوئی ہے۔

اقتصادی استحکام کے لئے اسلحہ کا بڑا اہم کردار ہے۔ جو ممالک آج اقتصادی طور پر مستحکم ہیں وہ اسلحہ بناکر بیچنے والے ملک ہیں۔ دراصل یہ ہتھیار ہی ان کے سب سے بڑے معاشی ہتھیار ہیں۔ امریکہ ہو،اسرائیل ہو، روس ہو، چین ہو یا یوروپی ممالک ہوں، ہر ملک اپنے ہتھیار بیچنے میں مصروف ہے ۔ ان ہتھیاروں کو بیچنے کے لئے ان کو اس کی ضرورت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ ظاہر ہے ہتھیاروں کی ضرورت امن کے دور میں تو ہوتی نہیں۔ اس کی پہلی ضرورت تو بدامنی، اختلافات اور ایک دوسرے کا خوف ہے۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت ہےکہ اسرائیل اور عرب ممالک میں جو قربتیں اچانک بڑھ رہی ہیں اس کی وجہ بھی ہتھیار ہی ہیں۔ عرب ممالک کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آنے والے دن ان کے لئے اچھے نہیں ہیں کیونکہ جیسے گراہک اور دوکان ایک دوسرے کے لئے لازمی ہیں ویسے ہی ہتھیار اور بد امنی ایک دوسرے کے لئےلازم و ملزوم ہیں۔

ویسے تو عرب اور ایران کے اختلافات کا مغربی ممالک نے ہمیشہ اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا ہے اور اس کے لئے چاہے ایران اور عراق کی جنگ ہو، عراق کا کویت پرقبضہ کی کوشش ہو یا پھر قطر اور سعودی عرب کے حالیہ اختلافات ہوں۔ آج جس طرح عرب ممالک مجبور نظر آ رہے ہیں اس کی وجہ سعودی شہزادہ ایم بی ایس یعنی محمد بن سلمان اور امریکی صحافی جمال خاشقجی ہیں۔ جمال خاشقجی کا قتل جس انداز سے کیا گیا تھا اس نے ایم بی ایس کو اتنا کمزور کر دیا کہ مغرب کا سرغنہ امریکہ عرب ممالک کے خوب ہاتھ مروڑ رہا ہے۔ ابھی اسرائیل اور دو عرب ممالک کے مابین امن معاہدہ کو ہوئے چند روز ہی گزرے ہیں کہ یوروپی پارلیمنٹ نے کل اپنے رکن ممالک کے لئے تجویز منظور کی ہے کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل اور یمن جنگ کے خلاف بطور احتجاج عرب ممالک کو اسلحہ بیچنے پر پابندی لگائیں جیسے جرمنی، فن لینڈ اور ڈنمارک نے لگائی ہوئی ہے۔

یوروپی پارلیمنٹ کا اپنے رکن ممالک سے یہ اسرار کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والے دن عرب میں بدامنی لے کر آئیں گے۔ عرب ممالک اب زیادہ سے زیادہ ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے خریدیں گے۔ عرب کی اس خریداری کا حوا اور خوف چین، روس اور یوروپی ممالک ایران کو دکھائیں گے اور وہ ایران کو ہتھایار خریدنے پر مجبور کریں گے۔ اس سے اس خطہ میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو جائے گی۔ یوروپی پارلیمنٹ کا اپنے رکن ممالک پر یہ زور دینا کہ وہ سعودی عرب کو خاشقجی کے قتل اور یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے اس پراسلحہ کے فروخت پر پابندی لگائیں۔ دراصل خلیج میں بد امنی پھیلانے کی دعوت ہے اورخود کو عرب ممالک سے دور اور اس کے دشمنوں کے قریب دکھانا ہے۔

جب دوسال پہلے خاشقجی کا قتل ہوا تھا اس وقت سمندر میں جال پھینک دیا گیا تھا، کئی مچھلیاں جال میں پھنس چکی ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں جب مغربی ممالک خلیج میں اپنی روٹیاں سیکیں گے اور شام جیسے حالات اس خطہ کے کئی ممالک میں ہو جائیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ ایم بی ایس کل کے صدام حسین ثابت ہوں۔ دوکاندار اور گراہک ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ضرور ہوتے ہیں لیکن ہاتھ ہمیشہ دوکاندار کا ہی اوپر رہتا ہے۔ اس لئے یہاں بھی ہتھیاروں کے دوکاندار مغربی ممالک ہی اپنی روٹیاں سیکیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔