یوپی میں یوگی راج کا کمال، سرکاری اسکولوں میں بغیر کتاب ہی پڑھ رہے 2 کروڑ نونہال

اساتذہ سے لے کر نونہالوں تک کو پتہ نہیں ہے کہ ریاست کے 1.58 لاکھ کونسل اسکولوں میں پڑھنے والے تقریباً 1.85 کروڑ طلبا و طالبات کے ہاتھ میں پڑھنے کے لیے کتابیں کب آئیں گی۔

اسکول، تصویر یو این آئی
اسکول، تصویر یو این آئی
user

کے. سنتوش

گزشتہ دسمبر مہینے میں بریلینٹ ایجوکیشن کمیٹی نے علی گڑھ میں اترولی کے راجگاؤں واقع پرائمری اسکول کو گود لیا تھا۔ اسکول میں وسائل تو بڑھے ہی، سرپرستوں میں پبلک ساکولوں والی فیلنگ بھی آنے لگی۔ نئے تعلیمی سیشن میں پڑھائی شروع ہوئے مہینے بھر سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن بچوں کے پاس نہ تو ڈریس ہے، نہ ہی کتابیں۔ بچوں کے والدین اساتذہ سے کتاب کے بارے میں جانکاری مانگتے ہیں تو سادہ سا جواب ملتا ہے ’’یہ تو صوبے کے بیسک ایجوکیشن وزیر سندیپ سنگھ ہی بتا پائیں گے۔‘‘ سنہرے دعووں کے درمیان حقیقت یہ ہے کہ وزیر سے لے کر وزیر اعلیٰ-وزیر اعظم کے اضلاع میں 1.80 کروڑ سے زیادہ بچے بغیر کتابوں کے ہی ’اسکول چلے ہم‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ فی الحال پرانی کتابوں سے ہی کام چلایا جائے۔

وزراء کے دعوے تو بڑے بڑے ہیں

سندیپ سنگھ دراصل یوگی حکومت میں سب سے کم عمر کے وزیر ہیں۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے پوتے ہیں۔ وہ میڈیا میں لگاتار دعویٰ کر رہے ہیں کہ پرائمری اسکولوں میں طلبا کی تعداد 1.80 کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ کرنے کا ہدف ہے۔ مڈ-ڈے میل کے لیے 30 ارب کی تجویز بنا کر مرکز سے بجٹ کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے۔ ریاست میں 21 ہزار نئے اسمارٹ کلاس کھولے جائیں گے۔ ریاست کے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کا بھی دعویٰ ہے کہ پرائمری اسکولوں کا نقشہ بدلے، بچوں کے لباس سے لے کر بیت الخلاء وغیرہ تک کے لیے 11411 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ طلبا و طالبات کے لیے الگ الگ بیت الخلاء کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، وزیر اعلیٰ یوگی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی ضلع گورکھپور اور وارانسی میں سنٹرلائزڈ کچن کے لیے 16 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے گئے ہیں۔


اسی ماہ ہو جائے ٹنڈر تو اگست میں ملیں گی کتابیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ اساتذہ سے لے کر نونہالوں تک کو پتہ نہیں ہے کہ ریاست کے 1.58 لاکھ کونسل اسکولوں میں پڑھنے والے تقریباً 1.85 کروڑ طلبا و طالبات کے ہاتھ میں پڑھنے کے لیے کتابیں کب آئیں گی، جب کہ نیا تعلیمی سیشن یکم اپریل سے ہی شروع ہو گیا ہے۔ نصابی کتابوں کے لیے دسمبر مہینے میں ٹنڈر کا عمل پورا ہوتا تو اپریل کے پہلے ہفتہ تک کتابیں بچوں کو مل جاتیں۔ ٹنڈر میں تنازعہ کے سبب پورا عمل لٹک گیا ہے۔ سب کو تعلیم مہم کے تحت کتابوں کا ٹنڈر دوبارہ جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم سے جڑے افسر بتاتے ہیں کہ ٹنڈر کا عمل 15 مئی تک بھی پورا ہو گیا تو اگست تک کتابیں بچوں کے ہاتھوں میں پہنچنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ تقریباً 10 کروڑ نصابی کتابیں، وَرک بک وغیرہ چھاپنے کے لیے 20 سے 25 پبلشرز کے گروپ کو ذمہ داری دی جانی ہے۔

تجربہ گاہ بن گیا ہے پرائمری ایجوکیشن

خصوصی بی ٹی سی ٹیچر ویلفیئر ایسو سی ایشن کے ریاستی سکریٹری تارکیشور شاہی کہتے ہیں کہ ’’سرکار کے وزراء اور افسران نے پرائمری ایجوکیشن کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے جہاں پڑھائی کو چھوڑ کر سارے کام ہوتے ہیں۔ نئے اجلاس میں کتاب اور ڈریس کو لے کر بچوں میں جوش رہتا ہے، لیکن کوئی بتانے کی حالت میں نہیں ہے کہ ڈریس اور کتابیں نونہالوں کو کب ملیں گی۔ پرانی کتابوں سے پڑھائی جاری رکھنے کا حکم مضحکہ خیز ہے۔‘‘


حکومت کا یہ بھی حکم ہے کہ نئے سیشن میں ڈریس، بیگ، جوتا-موزہ انہی بچوں کو ملے گا جنھوں نے گزشتہ سیشن میں اس کی خریداری کی تھی۔ اس کی تصدیق کے لیے پرنسپل کو بچوں کے ساتھ سیلفی پریرنا ایپ پر اَپ لوڈ کرنا پڑ رہا ہے۔ وارانسی کے ایک کمپوزٹ اسکول میں تعینات ایک ٹیچر بتاتے ہیں کہ ’’گزشتہ سال انتخابات سے پہلے والدین کے اکاؤنٹس میں ڈریس سے لے کر بیگ وغیرہ کے لیے رقم بھیج دی گئی تھی۔ لیکن 90 فیصد سے زیادہ والدین نے ڈریس نہیں خریدے۔ اب نئے فرمان کے بعد ایک ہی اسکول ڈریس کئی بچوں کو پہنا کر سیلفی ایپ پر اَپ لوڈ کرنا پڑ رہا ہے جس سے بچوں کے سرپرستوں کے اکاؤنٹس میں 1100 روپے پہنچے اور ہماری ملازمت بھی محفوظ رہے۔‘‘

سرکاری اسکولوں سے ختم ہو رہیں والدین کی امیدیں

ویسے حکومت نے داخلہ بڑھانے کے لیے ’اسکول چلو مہم‘ چلا رکھی ہے، لیکن کورونا بحران میں تمام والدین نے پڑھائی نہیں ہونے کی وجہ سے پبلک اسکولوں سے نام کٹوا کر پرائمری اسکول میں ڈال دیا تھا۔ مئو ضلع میں پبلک اسکول چلانے والے راجیش شریواستو بتاتے ہیں کہ ’’خورونا میں اسکولوں کی بندی کے درمیان 20 سے زیادہ والدین نے فیس سے بچنے کے لیے بچوں کا ایڈمیشن پرائمری اسکولوں میں کرا لیا تھا۔ اب وہ نئے سرے سے داخلہ کرانا چاہتے ہیں۔‘‘ ایسا ہی تجربہ نیپال سرحد سے ملحق مہاراج گنج ضلع میں تعینات ٹیچر انوپ دوبے کا ہے۔ انوپ بتاتے ہیں کہ ’’حکومت کا فرمان ہے کہ اسکولوں میں بچوں کا داخلہ 30 فیصد نہیں بڑھا تو تنخواہ روک دی جائے گی۔ اسکولوں میں نہ تو ڈیسک-بینچ ہے اور نہ ہی کتابیں۔ ایسے میں کون بیدار والدین پرائمری اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجے گا؟‘‘


گورکھپور میونسپل کارپوریشن میں کونسلر امرناتھ یادو بھی سسٹم سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے لاکھوں روپے سے وارڈ کے اسکول کو ٹھیک کروا دیا، لیکن دروازہ نہیں لگایا۔ اسکول میں چار سے دو پنکھے خراب ہیں۔ گرمی سے پریشان بچوں کی دقتوں کو لے کر بی ایس اے اور سٹی ایجوکیشن افسر سے شکایت کی تو انھوں نے میرا نمبر ہی بلاک کر دیا ہے۔‘‘ سماجی کارکن راجیش منی کہتے ہیں کہ ’’پرائمری اسکول کے دو کروڑ بچوں کے والدین سیاسی پارٹیوں کے لیے ووٹ بینک سے زیادہ نہیں ہیں۔ اسی لیے بیسک ایجوکیشن میں پڑھائی نہیں صرف تجربات ہی ہو رہے ہیں۔‘‘

رسوئیوں کی تنخواہ کا وعدہ بھی ادھورا

گزشتہ سال انتخابی ماحول میں یوگی حکومت نے پرائمری اسکولوں میں مڈ ڈے میل بنانے کے لیے تعینات 377520 رسوئیوں کی تنخواہ 1500 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی خاتون رسوئیوں کو سال میں ایک بار ساڑی اور مرد رسوئیوں کے لیے پینٹ شرٹ کا انتظام کرنے کے لیے 500-500 روپے کی رقم الگ سے دینے کا اعلان ہوا تھا۔ لیکن بڑھی ہوئی تنخواہ تو چھوڑیے، پہلے سے طے تنخواہ بھی نہیں مل رہی ہے۔ رسوئیا ایسو سی ایشن کے ریاستی صدر رینو شرما کا کہنا ہے کہ ’’کئی اضلاع میں رسوئیوں کی تنخواہ مہینوں سے نہیں ملی ہے۔ انتخابی فائدہ لینے کے لیے تنخواہ بڑھانے کا اعلان تو ہوا لیکن عمل نہیں ہوا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔