غیر مسلموں کی شبیہ مت خراب کیجئے: سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خوف کے اس ماحول سے فی الحال بی جے پی کو فائدہ ضرور ہو رہا ہے اور اس کی اقتدار پر پکڑ بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

ہندو-مسلم یکجہتی
ہندو-مسلم یکجہتی
user

سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سال 2014 یعنی جب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت مرکز میں برسراقتدار آئی تھی تو اس وقت ملک کی اقلیتوں کو ایک تشویش تھی کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا۔ آج آٹھ سال بعد یہ تشویش دھیرے دھیرے خوف میں بدل گئی ہے۔ دادری میں فرج سے گوشت نکالنے اور اسے بیف کا نام دینے والی بھیڑ نے اخلاق کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ آج مختلف شکلوں میں فرقہ وارانہ جرائم خوب پھل پھول رہے ہیں۔

لنچنگ، جامعہ، سی اے اے - این آر سی احتجاج، شمال مشرقی دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات، مذہبی نعرے، کووڈ کے دوران تبلیغی جماعت، اسّی-بیس، حجاب سے ہوتے ہوئے بلڈوزر تک پہنچنے والے خوف سے اقلیتوں کی حالت اس بے گناہ مجرم جیسی ہو گئی ہے جس کے اوپر تفتیشی اہلکار ایک سے ایک ظلم کرتا ہے اور ہر نیا ظلم بے گناہ کو وقتی تکلیف تو ضرور پہنچاتا ہے، پر وہ ظلم کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر اس پر نئے ظلم کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان تمام حربوں سے اقلیتوں کو شروع میں درد ضرور ہوتا ہے اور وہ اور اس کے ہم خیال اس نئے ظلم کی چرچا بھی کرتے ہیں لیکن پھر آگے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ تفتیشی اہلکار کو اپنے بے گناہ مجرم کے درد میں اتنا سکون ملتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے اس عمل سے کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت بھی شائد اسی تفتیشی اہلکار کی طرح ہے جس کو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کی حقیقت کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ اس عمل کو اپنے لئے اقتدار کی کنجی سمجھ بیٹھی ہے۔

اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ خوف کے اس ماحول سے فی الحال بی جے پی کو فائدہ ضرور ہو رہا ہے اور اس کی اقتدار پر پکڑ بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ سیاسی پارٹیوں کو کچھ ریاستوں میں کامیابی ضرور مل جاتی ہے جس کے بعد وہ مرکز کا خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ریاستی پارٹیوں کی وجہ سے مرکز میں بی جے پی کو کسی ٹھوس مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے اور اس کی اقتدار کی راہ مزید آسان ہو جاتی ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ کیا تفتیشی اہلکار کے سکون سے ووٹر کو بھی سکون مل رہا ہے یا تفتیشی اہلکار کہیں اپنے سکون کے چکر میں بے گناہ مجرم کو تو فائدہ نہیں پہنچ رہا یا اکثریتی طبقہ کی شبیہ تو خراب نہیں کر رہا۔ اگر حکومت کے فیصلوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا کہ اس میں بے گناہ مجرم یعنی اقلیتوں کا ہی فائدہ ہو رہا ہے۔


ایک بار میں تین طلاق کے مسئلہ کو دیکھتے ہیں تو یہ اقلیتوں کے لئے بہت بڑا اصلاحی قدم ہے اور ایسا قدم ہے جس پر اقلیتیں عمل تو کرنا چاہتی تھیں لیکن چند لوگوں کے اختلافات کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب یہ ہے کہ حکومت کے ذریعہ اس تعلق سے قانون بننے سے کوئی اختلاف بھی نہیں کر سکا اور اصلاح بھی ہو گئی۔ بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ ایک عرصہ سے ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کر رہا تھا جبکہ اس معاملہ بھی اقلیتوں کی کوئی ضد نہیں تھی بس وہ یہ چاہتے تھے کہ دیگر عبادت گاہوں کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد جہاں مسجد کے لئے جگہ مل گئی، تنازعہ حل ہو گیا اور عدالت کے فیصلے نے بھی اس حقیقت کو اجاگر کر دیا کہ قانونی طور پر کچھ ثابت نہیں ہوا بس اس مسئلہ کو حل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے بھی اقلیتوں کو بڑی راحت ملی۔

ایک بڑا مسئلہ لنچنگ کا ہے، جس کی وجہ سے اکثریتی طبقہ کی ملک اور بیرون ملک شبیہ خراب ہوئی، ساتھ میں گوشت کی تجارت پر اکثریتی طبقہ کا جو قبضہ تھا وہ بری طرح متاثر ہوا اور اقلیتوں کے علاقوں میں گوشت کی دوکانیں جدید ہو گئیں۔ سی اے اے - این آر سی کے احتجاج میں جو پہلو نمایاں طور پر سامنے آئے ان میں ایک تو یہ ہوا کہ اقلیتوں کی خواتین جو چہار دیواری میں قید رہتی تھیں انہوں نے احتجاج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے کر اپنا لوہا منوا لیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بائیں محاذ کو کھلے ذہن کا عکاس اور دماغ سمجھا جاتا ہے اس سے ملک کی اقلیتوں کی دوری تھی لیکن اس احتجاج کی وجہ سے یہ دوری پٹ گئی اور دونوں قریب آ گئے۔ کورونا وبا کے دوران تبلیغی جماعت کے ساتھ ہونے والے رویہ، فرقہ وارانہ تشدد، اسّی-بیس، حجاب، اذان اور بلڈوزر کی وجہ سے اکثریتی طبقہ کی جو شبیہ خراب ہوئی اس سے اب اکثریتی طبقہ کے ذی شعور افراد بھی پریشان ہونے لگے ہیں اور ان کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں کل کو یہ بھی کسی انجانے تشدد کا شکار نہ ہو جائیں۔


اس سارے عمل میں جہاں اقلیتوں کی شبیہ بہتر ہوئی ہے اور ان کو ایک مظلوم کی طرح دیکھا جانے لگا ہے، وہیں ملک کے اکثریتی طبقہ یعنی غیر مسلموں کی شبیہ کو لوگ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے ہیں۔ عوام اپنے بنیادی مسائل سے بہت پریشان ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تجارت کے خراب حالات، وبا، جنگ اور اوپر سے ملک کا فرقہ وارانہ ماحول اس قدر خراب ہو گیا ہے کہ لوگ اب حکومت سے سوال کرنے لگے ہیں اور یہ بات عام ہو گئی ہے کہ پاکستان میں ضیا الحق کے دور میں جو مذہبی نشہ پیدا کیا گیا تھا کہیں ہندوستان میں بھی ویسا ہی تو نہیں ہو جائے گا۔ کہیں یہ بات تو ثابت نہیں ہو جائے گی کہ مذہب ایک افیم ہے۔ بہرحال تفتیشی اہلکار بے گناہ مجرم کو کہیں اپنے سکون کے چکر میں فائدہ تو نہیں پہنچا رہا ہے! حقیقت کچھ بھی ہو لیکن جیسا اکثریتی طبقہ یعنی غیر مسلموں کی شبیہ بنتی جا رہی ویسے وہ ہیں نہیں، اس لئے گزارش ہے کہ اقتدار کے چکر میں غیر مسلموں کی شبیہ خراب مت کیجئے!

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 07 May 2022, 4:11 PM