دوسرے عالمی ٹیسٹ چمپئن شپ کا آغاز اگست سے، ہندوستان-انگلینڈ کھیلیں گے پہلا میچ، پوائنٹ سسٹم تبدیل

آئی سی سی نے نئے پوائنٹ سسٹم کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیموں کو جیت کے لیے 12 پوائنٹس، میچ ڈرا ہونے پر دونوں ٹیموں کو چار چار پوائنٹس، اور ٹائی ہونے پر چھ چھ پوائنٹس ملیں گے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

پہلے عالمی ٹیسٹ چمپئن شپ میں رَنر اَپ رہنے والی ٹیم ہندوستان اگست مہینے میں دوسرے عالمی ٹیسٹ چمپئن شپ کا آغاز انگلینڈ کے ساتھ کھیلے جانے والی ٹیسٹ سیریز سے کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈبلیو ٹی سی (عالمی ٹیسٹ چمپئن شپ) کے دوسرے ایڈیشن میں پوائنٹ سسٹم پوری طرح سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی سی سی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا ڈبلیو ٹی سی مکمل ہونے کے بعد لوگوں کی کئی طرح کی رائیں سامنے آئیں جس کو دیکھتے ہوئے پوائنٹ سسٹم میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی نے نئے پوائنٹ سسٹم کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیموں کو جیت کے لیے 12 پوائنٹ ملیں گے اور میچ ڈرا ہونے پر دونوں ٹیموں کو چار چار پوائنٹ دیئے جائیں گے، جب کہ میچ ٹائی ہونے پر دونوں ٹیموں کو چھ چھ پوائنٹ حاصل ہوں گے۔ پہلے ڈبلیو ٹی سی میں ٹیموں کو سیریز کی بنیاد پر پوائنٹ دیئے جاتے تھے۔ اس میں ہر سیریز میں جیتنے والی ٹیم کو 120 پوائنٹ ملتے تھے اور اسی کی بنیاد پر میچوں کے پوائنٹس کو تقسیم کیا جاتا تھا۔ گویا کہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہے تو ہر میچ کے لیے 40 پوائنٹس اور پانچ میچوں کی سیریز ہے تو ہر میچ کے لیے 24 پوائنٹس۔


آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو افسر جیف ایلاریڈیس کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پوائنٹس سسٹم کو آسان بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ آئی سی سی کا ماننا ہے کہ اس نے گزشتہ ایڈیشن سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہ بدلاؤ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں پرانے پوائنٹ سسٹم کو لے کر کچھ رائیں ملی تھیں کہ اسے تھوڑا آسان کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ کمیٹی نے اس بات پر غور کیا کہ ہر میچ کے لیے ایک پوائنٹ سسٹم ہونا چاہیے۔ اس سے یہ بھی یقینی ہوگا کہ ڈبلیو ٹی سی سیریز کا ہر میچ ہر ٹیم کے لیے یکساں ہوگا۔‘‘

جیف ایلاریڈیس نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’کورونا وائرس وبا کے سبب کئی سیریز مکمل نہیں ہو پائیں۔ اس وجہ سے ہمیں پوائنٹس سسٹم میں تبدیلی کرنی پڑی۔ ہم نے موجود پوائنٹس سسٹم کا اوسط نکالا۔ اس سے ہمیں فائنلسٹ طے کرنے میں مدد ملی۔ اس طرح ہم چمپئن شپ کو طے مدت میں پورا کرنے میں کامیاب رہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔