طنزومزاح: بڑے بےآبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے... تقدیس نقوی

صدر صاحب کا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ ان کو زبردستی وہائٹ ہاؤس سے نکالنے والے حب الوطنی کے جذبات سے عاری یہ لوگ دنیا کے دوسرے خطوں پر نظر کیوں نہیں کرتے جہاں ایک ہی صدر دہائیوں سے صدارتی قصر پر قابض ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
user

تقدیس نقوی

شکست خوردہ امریکی صدر کو عوام کا ”جانے والا صدر‘‘ کہنا پھوٹی آنکھ نہیں بھا رہا کیونکہ ابھی وہائٹ ہاؤس سے جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ان کا موڈ ہے جو کسی قانون اور منطق کا پابند نہیں ہے۔ چار برس قبل جب وہ قسمت کی دیوی کے مہربان ہونے کے سبب الیکشن جیت گئے تھے تب وہ شروع میں وہائٹ ہاؤس میں منتقل ہونے کے لئے تیار نہیں تھے کیونکہ اس وقت بھی ان کا موڈ اندر جانے کا نہیں تھا۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی رہی ہوگی کہ وہ پچھلے الیکشن کے وقت خود بھی اپنی فتح کی امید نہیں لگا رہے تھے اس لئے ذہنی طور سے وہ اس قصر کے اندر فوری جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ کیونکہ انہیں خود کو یہ یقین دلانے میں کہ وہ واقعی امریکی صدر بن چکے ہیں کافی وقت لگا اس لئے وہ وہائٹ ہاؤس میں تاخیر سے داخل ہوئے تھے۔ اچھا خاصہ وقت تو ان کو اپنے چہرے اور ہونٹوں کی کاسمیٹک کرانے میں لگ گیا ہوگا تاکہ انہیں صدارت کے عہدے سے میچ کرایا جاسکے۔ جو رہی سہی کسر تھی وہ ان کے ہیر اسٹائلسٹ نے ان کے بالوں کا حلیہ بگاڑ کر نکال دی تھی جس کی وجہ سے وہ وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے ہچکچا رہے تھے۔ اب جبکہ چار سال کی مدت میں ان کے ہیر اسٹائل کے ساتھ ساتھ سب کچھ سیٹ ہوچکا ہے تو ان کے تنگ دل مخالفین ان کو اس قصر سے نکالنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے چوری چھپے اس قصر کا اپنے یا اپنے خاندان والوں کے نام “عمرپٹہ” ہی کرا لیا ہو جسے وہ اپنی مدت صدارت کے آخری دن پوری دنیا کو دکھا کر حیرت میں ڈال دیں گے۔

شاید چارسال مسلسل اس قصر ابیض کی چھت کے نیچے رہتے رہتے وہ یہ بھول گئے کہ جس بازی کے طفیل وہ چارسال قبل الیکشن جیت کر اس محل کے مکین بنے تھے وہی بازی انہیں الیکشن میں شکست دے کر اس محل سے بے دخل بھی کرسکتی ہے۔ وہ یہ بات ماننے کے لئے کسی طرح بھی تیار نہیں ہیں کہ اب وہ اس محل میں رہنے کے مجاز نہیں رہے۔ مگر یہ بات انہیں سمجھائے کون۔ اسپیکر سے ان کی لڑائی، عدالتوں سے ان کا چھتیس کا آنکڑا، ابلاغ عامہ سے ان کو بیر اور پولیس محکمہ سے ان کو پرخاش۔ تواب بھلا یہ گھنٹی بلی کے گلے باندھے کون؟ سنا ہے نئی انتظامیہ ’’موورس اینڈ پیکرس‘‘ کو ان کے اغراض کی پینکگ کے کنٹریکٹ میں یہ شرط بھی رکھ رہی ہے کہ وہ ان کے سازو سامان کے ساتھ ساتھ اپنے رسک اور ریسپانسبلٹی پر ان کو بھی پیک کرکے محل سے منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کریں گے۔ شاید کسی پرانے اور ناکارہ سامان کو زبردستی منتقل کرنے میں اخراجات زیادہ ہو جانے کے خدشات کی بنا پر انتظامیہ مزید تاخیر کرنے کا رسک لینا نہیں چاہتی۔

رہا معاملہ الیکشن میں ان کی شکست کا تو ان کا کہنا ہے کہ اوّل تو وہ الیکشن کے نتائج سے ہی اتفاق نہیں کرتے بھلے ہی وہ ان کی زیر صدارت انتظامیہ نے ہی کیوں نہ مکمل کرائے ہوں۔ دوسرے بفرض محال اگر الیکشن کے نتائج ان پرزبردستی تھوپے بھی گئے تو وہ صدارت سے تو سبکدوش ہوسکتے ہیں مگر وہائٹ ہاؤس سے نہیں۔ کیونکہ چار سال قبل جب وہ اس قصر میں داخل ہوئے تھے تو وہ یہاں پورے آٹھ سال قیام کرنے کی تیاری سے آئے تھے جس کی تیاری میں انہیں پورے چار سال لگ گئے۔ اب جبکہ وہائٹ ہاؤس میں ان کے انجوائے کرنے کا صحیح وقت آیا ہے تو لوگ ان کے یہاں سے کوچ کرنے کی بے سرو پا باتیں کرنے لگے ہیں۔ وہ بھلا اس وہائٹ ہاؤس کو کس طرح آلوداع کہہ سکتے ہیں جس نے انہیں سیاہ فام بلوائیوں سے پناہ دی تھی۔

شاید ان کا یہ بھی ماننا ہو کیونکہ ان کی سیاست کی گاڑی امریکہ کے سفید فام طبقے کے گھوڑے سے کھینچی گئی تھی اس لئے اس سفید قصر میں مستقل قیام کرنے کا سب سے زیادہ حق ان کا ہے اور یہ حق ان سے کوئی ایسا صدر بھی نہیں چھین سکتا جو امریکہ کے سیاہ فام طبقہ کی طرفداری کرتا ہو۔ اب امریکی بزرگوں نے اس قصر کا نام وہائٹ ہاؤس یوں تو نہیں رکھ دیا تھا۔

میڈیا سے ملتی کنفیوزنگ رپورٹس کے پیش نظر قصر ابیض سے اخراج پر امریکی صدر کے اڑیل رویہ کے متعلق ہم نے اپنے میر صاحب کی رائے جاننا چاہی کیونکہ وہ امریکی صدر اور الیکشن میں ان کی شکست پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ میرصاحب امریکی صدر کے بڑے مداح اور دلدادہ ہیں۔ ان کی اس مداحی کی اصل وجہ صدر صاحب کی بیباکی، چرب زبانی اور دریدہ دہنی تھی جسے عرف عام میں ’’منہ پھٹ‘‘، ’’غلیظ زبان‘‘ یا گالی گلوچ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ میر صاحب کا ماننا تھا کہ جس دیدہ دلیری اور طوطا چشمی سے صدر صاحب اپنے مخالفین کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہیں اور ان کی نسل، خاندان اور قبیلہ کو اچھے اچھے ناموں سے یاد کرتے ہیں اسے سن کر شرفاء اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتے نظر آتے ہیں جس کی مثال اب صرف ہمارے ملک ہی میں ملتی ہے۔ اور یہ کام صرف وہی دلیر شخص کرسکتا ہے جسے خود اپنے خاندان قبیلہ کے بارے میں یہ سب کچھ سننے کی عادت ہو۔ وہ زمانے ہوا ہوئے جب بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ سیاست اور محبت میں سب کچھ جائز ہے کیونکہ آج کی سیاست میں جائز کچھ نہیں ہوتا سب کچھ ناجائز ہی ہوتا ہے۔ یہاں حصول طاقت کا کاروبار صرف نفرت کی ڈیکوریشن کے ذریعہ ہی چلتا ہے جس کو پھیلانے میں یہ صدر صاحب یدطولی رکھتے ہیں۔

ہمارا سوال میر صاحب سے یہ تھا: امریکی صدر وہائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کے اپنے فیصلہ میں کیا واقعی سنجیدہ ہیں؟

میر صاحب کا سادہ سا جواب تھا “ جی بالکل سو فیصدی سنجیدہ ہیں “

’’مگر آخر کیوں؟ کیا انھوں نے امریکی قانون نہیں پڑھ رکھا ہے؟ کیا انہیں اپنی اس ضد کے نتائج کا پورا اندازہ ہے؟ “ہم نے بھی میر صاحب کو سوالوں کی بوچھار سے گھیرنے کی کوشش کی۔

میر صاحب نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا‘‘ جناب کیونکہ صدر صاحب اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ ایسے کام کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو ان سے پہلے امریکی جمہوریت کی تاریخ میں کسی اور صدر نے کبھی نہیں کیا تھا اس لئے اسی ریت کو بڑھاتے ہوئے وہ اس وہائٹ ہاؤس سے نہ نکلنے کا فیصلہ کرکے نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں “

’’ہمارے یہ چہیتے صدر صاحب امریکہ جمہوری نظام کے پہلے ایسے صدر بن گئے ہیں جس نے اپنی ہی حکومت کے زیرانتظام منعقد کیے جانے والے الیکشن کو دھاندلی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ انہیں صدر صاحب کو سب سے پہلا یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے بار بار ووٹوں کی گنتی کرانے کے باوجود بھی اپنی شکست کا انکار کیا ہے۔ صدر صاحب کا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ ان کو زبردستی وہائٹ ہاؤس سے نکالنے والے حب الوطنی کے جذبات سے عاری یہ لوگ آخر دنیا کے دوسرے خطوں کی جانب کیوں نظر نہیں کرتے جہاں ایک ہی صدر کئی کئی دہائیوں سے صدارتی قصر پر قابض ہیں۔ اس لئے امریکی سیاست میں وہ دن یوم سیاہ مانا جائیگا جس دن وہ اس سفید قصر سے سفید جھوٹ کی بنا پر نکالے جائیں گے‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 06 Dec 2020, 10:39 PM