آر کے دھون... اندرا گاندھی کے قابل اعتماد اور وفادار معاون

کانگریس لیڈر مرحوم آر کے دھون کی فائل تصویر

کہا جاتا ہے کہ آر کے دھون محترمہ اندرا گاندھی کی آنکھیں اور کان تھے۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ انھیں مرکزی وزراء اور ریاست کے وزرائے اعلیٰ سے زیادہ طاقتور مانا جاتا تھا۔

اندرا گاندھی کے قریبی معاون رہے آر کے دھون محترمہ اندرا گاندھی کا ذہن آسانی سے پڑھ لیتے تھے۔ وہ واقعتاً ان کے لیے قابل اعتبار تھے۔ وہ وفادار تھے، ہوشیار تھے اور نوکرشاہی پر سخت نگاہ رکھتے تھے۔

کانگریس کے لوگ یہ کہتے تھے کہ آر کے دھون محترمہ اندرا گاندھی کے لیے قابل قدر تھے کیونکہ وہ بہت جلدی یہ محسوس کر لیتے تھے کہ ان کی کیا ضرورت ہے اور ’آئرن لیڈی‘ مشکل وقت میں کیا کرنا چاہتی تھی۔ 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کی ان کے سیکورٹی گارڈس کے ذریعہ کیے گئے قتل کے ایک دہائی سے بھی پہلے آر کے دھون پی ایم او میں سب سے طاقتور شخص ہوا کرتے تھے اور ہر چیز ان کی جانکاری میں ہوتی تھی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انھیں سابق وزیر اعظم کا اعتماد حاصل تھا اور نوکرشاہ یہ اکثر دعویٰ کرتے تھے کہ دھون کو ان کے لیڈر کی خواہش پتہ چل جاتی تھی اور وہ ان لوگوں، وزراء وغیرہ کو بلا لیتے تھے جن سے وہ ملنا چاہتی تھیں، اس سے پہلے کہ وہ خود اس کے بارے میں بتائیں۔

1984 میں جب اندرا گاندھی کا زخمی جسم ایمس لے جایا گیا تو مجھے یاد ہے کہ دھون ڈاکٹروں سے یہ گزارش کر رہے تھے کہ کسی طرح وہ ان کی زندگی بچا لیں۔ وہ بے حد غمزدہ نظر آ رہے تھے جب انھیں پتہ چلا کہ اندرا گاندھی زندہ نہیں ہیں۔ یہ سن کر ان کی دنیا اجڑ چکی تھی۔

راجندر کمار دھون کی پیدائش پاکستان کے چنیوٹ میں ہوئی تھی اور 81 سال کی عمر میں ان کا انتقال 6 اگست کو ہوا۔ وہ ایک ملنسار اور وفادار معاون تھے اور 1962 سے 1984 تک یعنی 22 سالوں تک اندرا گاندھی کی خدمت میں رہے۔ وہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بنے جو کانگریس پارٹی کی فیصلہ ساز تنظیم ہے۔

ایمرجنسی کے دوران وہ محترمہ گاندھی کے اہم معاون تھے لیکن انھیں اس بات کا افسوس تھا اور اسے انھوں نے غلط اطلاع قرار دیا کہ ایمرجنسی صرف اندرا گاندھی کو بچانے کے لیے لگائی گئی تھی۔

حالانکہ یہ کوئی خفیہ اطلاع نہیں ہے کہ سدھارتھ شنکر رے نے اندرا گاندھی کو اس بات سے مطلع کرایا تھا کہ ملک میں آئین کے تحت ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لینے کے پیچھے وجہ تھی۔ محترمہ گاندھی کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ انھیں اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک سازش کی جا رہی تھی۔ دھون نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت حکومت کے پاس اس سے متعلق کئی خبریں تھیں۔

اس کے بعد دھون نے نرسمہا راؤ حکومت میں بھی وزیر کی شکل میں اپنا کام کیا۔ وہ لگاتار دوسروں سے محترمہ گاندھی کی محبت اور اپنائیت کا تذکرہ کرتے تھے۔ یکم جون سے 8 جون کے درمیان فوج کے ذریعہ آپریشن بلو اسٹار کیا گیا تھا اور امرتسر کے ہرمندر صاحب سے دہشت گرد لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرا والے اور مسلح عقیدتمندوں کو باہر نکالا گیا۔ جولائی 1983 میں اکالی دل کے صدر ہرچرن سنگھ لونگووال نے بھنڈروالے کو گرفتاری سے بچنے کے لیے سورن مندر میں رہنے کی دعوت دی تھی۔ بھنڈراوالے نے بعد میں پاکیزہ مندر کے احاطہ کو اسلحہ گھر اور صدر دفتر بنا لیا۔

آپریشن بلو اسٹار کے پہلے ہوئے تشدد میں دہشت گردوں نے 165 ہندوؤں اور نرنکاریوں کو مار دی اتھا جن میں 39 سکھ بھی تھے جو بھنڈراوالے کے مخالف تھے۔ رام گڑھ کے سکھ ریجیمنٹل سنٹر میں اس کا لازمی نتیجہ سامنے آیا۔ 48 گھنٹے کے اندر 10 جون کو رام گڑھ کے سکھ ریجیمنٹل سنٹر میں بغاوت ہو گئی جہاں باغیوں نے اپنے کمانڈر بریگیڈیر آر ایس پُری کا قتل کر دیا۔

دھون بتاتے تھے کہ اندرا گاندھی نے مردہ کمانڈر کے گھر والوں کی قابلیت کو لے کر لگاتار مثبت رخ ظاہر کیا۔ کمانڈر کے گھر والوں کو بہت مشکل سے سیکورٹی دی گئی۔ اندرا گاندھی مردہ افسر کے گھر والوں سے ملنے کی خواہش مند تھیں تاکہ انھیں بغاوت کا پورا واقعہ پتہ چل سکے۔ اندرا گاندھی نے مہلوک کی فیملی کو سبھی ضروری مدد پہنچانے کا بھی حکم دیا۔

آر کے دھون ہر وقت کام کرتے تھے اور ہمیشہ موجود رہتے تھے۔ ایسا کہا جاتا تھا کہ وہ محترمہ گاندھی کی آنکھیں اور کان تھے۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ انھیں مرکزی وزراء اور ریاست کے وزرائے اعلیٰ سے زیادہ طاقتور مانا جاتا تھا۔ جس چیز نے انھیں سب سے زیادہ تکلیف اور غم پہنچایا وہ اندرا گاندھی کی موت کی جانچ کے لیے مقرر ایم پی ٹھکر کمیشن تھا۔ کمیشن کے سربراہ کے طور پر جسٹس ٹھکر نے اندرا گاندھی کے قتل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں آر کے دھون کے رد عمل کو ناقابل اعتماد قرار دیا تھا اور یہ محسوس کیا تھا کہ شبہ کی سوئی ان کی ملی بھگت یا ان کے ملوث ہونے کی طرف خاص طور پر اشارہ کرتی ہے۔

ان واقعات کے بعد حالانکہ شروع میں راجیو گاندھی نے انھیں عہدہ سے ہٹا دیا لیکن بعد میں ان پر لگے سارے الزامات کو خارج کر دیا۔

(رائٹر سینئر صحافی ہیں۔)

سب سے زیادہ مقبول