انقلابی صنف نازک بیگم حضرت محل، یوم وفات 7 اپریل 1879ء کے موقع پر خصوصی پیش کش

بیگم حضرت محل، جن کی پیدائش غلام حسین کے گھر 1830ء میں ہوئی، ان کے والد نے ان کی ایسی تعلیم وتربیت کی جس کی بدولت وہ نواب واجد علی شاہ کے قائم کردہ ’پری خانہ‘ سے گزرتی ہوئی ان کی شریک حیات بنیں۔

بیگم حضرت محل کی آخری آرام گاہ
بیگم حضرت محل کی آخری آرام گاہ
user

شاہد صدیقی علیگ

تحریک 1857ء میں جہاں ہندوستانی جانبازوں نے ملک عزیز کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا تھا، وہیں دختران ہند نے بھی اپنے عزم واستقلال اور جرأت وشجاعت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ فرنگیوں کے حواس گم ہوگئے تھے۔ جن کی لازوال قربانیاں تاریخ ہند کا ایک روشن و تابناک باب ہے، جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم ہستی کا نام ہے بیگم حضرت محل، جن کی پیدائش فیض آباد کے غلام حسین کے گھر 1830ء میں ہوئی، ان کے والد نے ان کی ایسی تعلیم وتربیت کی جس کی بدولت وہ نواب واجد علی شاہ کے قائم کردہ ’پری خانہ‘ سے گزرتی ہوئی ان کی شریک حیات بنیں۔

حرص وطمع کی پیکر کمپنی حکومت نے 13؍فروری 1856ء کو ریاست اودھ کا انضمام کرلیا اور واجد علی شاہ پر نااہلی کا بے بنیاد الزام لگا کر معزول کرکے کلکتہ بھیج دیا۔ کمپنی کے اس غاصبانہ قدم کا عوام کے ذہن ودل پر کافی گہرا اثر پڑا اور تاجران فرنگ کے خلاف اندر ہی اندر نفرت کی آگ سلگنے لگی۔ اسی اثنا میں 24؍اپریل 1857ء کو میرٹھ کے دیسی سپاہیوں نے کارتوسوں کے خلاف بغاوت بلند کر دی۔ جس کا ردعمل 30؍اپریل کو لکھنؤ میں بھی نظر آیا۔ جب 7؍ رجمنٹ نے نئے کارتوس قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ قابل ذکر بات ہے کہ جنگ آزادی کے روح رواں مولوی احمد اللہ عرف ڈنکا شاہ آگرہ سے لکھنؤ پہنچے اور حریت پسندی کی شمع روشن کرکے پورا علاقہ کو منور کر دیا۔


انجام کار 30؍مئی کو لکھنؤ میں برطانوی استعمار کی زنجیروں کو کاٹنے کے لیے ہندوستانی جیالے اتر پڑے، جسے کچلنے کے لیے کمپنی حکام نے سخت گیر قدم اٹھائے، لیکن جون کے دوسرے ہفتہ میں احمد اللہ شاہ اور سید برکت احمد کی لکھنؤ آمد انگریزوں پر بجلیاں بن کر گریں۔ جن کی کمان میں انقلابی سپاہیوں نے انگریزی فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ تمام انگریزوں کو بیلی گارد میں پناہ لینی پڑی۔ مگر شہر میں انگریز پرست خیمہ کی بدولت بیلی گارد میں محصور انگریزوں کو ضروریات زندگی بروقت پہنچتی رہی، بیلی گارد کوچھوڑ کر پورے اودھ پر باغیوں کا قبضہ ہوگیا، چنانچہ انقلابی حکومت کی عنان سنبھالنے کے لیے سب کی نگاہ اودھ کے شاہی خاندان کی جانب اٹھی۔ جنہیں بیگم حضرت محل نے مایوس نہیں کیا۔ 5؍جولائی کو بر جیس قدر کی تخت نشینی کی گئی اور امور معاملات کی ذمہ داری بیگم حضرت محل نے اپنے ہاتھوں میں لی۔

بیگم حضرت محل نے اپنی فراست، دور اندیشی اور ذہانت سے ایسے فیصلے لیے کہ جن سے قائل ہوئے بغیر ولیم رسل بھی نہ رہ سکا۔ وہ بڑی بے باکی سے لکھتا ہے کہ: بیگم نے بڑی توانائی اور قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ ان رانیوں اور بیگمات کے پرجوش کردار کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ زنان خانوں اور حرم کے اندر رہ کر بھی یہ کافی عملی و ذہنی طاقت اپنے اندر پیدا کر لیتی ہیں۔


بیگم حضرت محل کی حکمت عملیوں کی بدولت انگریز بیلی گارد کی دیواروں سے سر پٹکنے پر مجبور تھے۔ جن کی حالت زار کی اطلاعات نے انگریزی ایوانوں میں کھلبلی مچادی۔ مجاہدین نے 37؍مرتبہ بیلی گارد کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی جو انگریزی زر خرید غلاموں کی بدولت پروان نہیں چڑھ سکی۔ بیگم حضرت محل کے جھنڈے تلے تقربیاً ایک لاکھ اسی ہزار فوجی سر پہ کفن باندھ کر جام شہادت کے لیے تیار کھڑے تھے۔ چنانچہ اودھ کی انقلابی مہم کو دبانے کے لیے اوٹرام، نیل اور سر کولن کیمپ بیل جیسے برطانوی افسران کو آنا پڑا۔ جن کے ساتھ نیپال کے راجہ رانا جنگ بہادر، گورکھوں، بھوٹانیوں اور سکھ ریاستوں کی فوجیں ہندوستانی انقلابیوں کا بھوکے شیر کی مانند شکار کرنے کو بے چین تھیں۔ لیکن انقلابیوں نے نامساعد حالات و سامان حرب کی قلت کے باوجود ہار نہیں مانی اور اپنے لہو کی آخری بوند تک انگریزوں کی ایسی سخت مزاحمت کی کہ جنرل کولن کیمپ بیل نے ان کے عزم اور جوش ولولہ کو دیکھ کر دانتوں تلے انگلی دبا لی۔

لکھنؤ کی ہر گلی و کوچہ کو انقلابیوں نے اپنے خون سے لالہ زار بنا دیا۔ مگر جدید اسلحہ، آزمودہ کار افسران، تازہ دم فوجیں اور سب سے بڑھ کر سید میر واجد علی، نقی خاں، انگد تیواری اور قنوجی لعل جیسے غداروں کی ٹولیوں کا مقابلہ آخر کہاں تک ہوتا۔ لہٰذا موقع ومحل کی مناسبت سے بروز سہ شنبہ ۲۹؍رجب 1274ھ مطابق 16؍مارچ 1858ء کو بوقت شام بادل ناخواستہ جناب عالیہ مع برجیس قدر اور انقلابیوں کے ساتھ باڑی پہنچیں۔ بیگم نے اودھ کے راجگان اور تعلقہ داروں کے تعاون سے انگریزوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی آخری کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوسکیں، انجام کار انہوں نے نیپال کی ترائی کا رخ کیا۔ اگرچہ انگریز اعلیٰ اقتدار نے بیگم حضرت محل کو لکھنؤ واپس آنے کا پیغام بھیجا کہ ہم آپ کے اعزاز واکرام کو برقرار رکھیں گے اور وظیفہ بھی بدستور جاری رہے گا۔ لیکن حضرت محل جیسی خوددار خاتون نے انگریزوں کے آگے سر جھکانے کے بجائے دیار غیر میں ناساگار و تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنے کا عزم کیا اور مادر ہند کی آزادی کی تمنا لیے نیپال میں 7؍اپریل 1879ء کو آخری سانس لی۔


بیگم حضرت محل کو امرت لعل ناگریوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ: بیگم عالیہ (بیگم حضرت محل) نے بھی رانی لکھشمی بائی کی طرح خواتین کے ایک فوجی گروہ کی تشکیل کی تھی۔ محلوں کی باندیاں ان کی نگرانی میں قواعد وغیرہ کرتی تھیں اور ان کی شاگرد کہلاتی تھیں انہوں نے جاسوس عورتوں کی بھی اچھی تنظیم تیار کی تھی۔ اس طرح آپسی نفاق کے مایوس کن حالات میں بھی ایک ایک فرد کے دل میں بغاوت کا جذبہ تقربیاً پونے دو برس تک اودھ میں برقرار رکھنا بیگم ہی کا کام تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔