طنز و مزاح: لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں...تقدیس نقوی

ہم نے شرما جی کے سیاسی تدبر سے مستفید ہونے کے لئے ان سے پوچھا، تو وہ بات ٹالتے ہوئے کہنے لگے’’بھئی اس منشور سے کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، اس تپتی دھوپ میں اس سے ہاتھ کے پنکھے کا کام تو لے ہی سکتے ہیں‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تقدیس نقوی

ہمارے پڑوسی شرما جی کی اس ناپسندیدہ عادت کے باوجود کہ وہ ہمیشہ صاحب اختیار و ا قتدار لوگوں کا ساتھ دینے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے ہم ان کی اس عادت کے بڑے مداح ہیں کہ وہ ہر بات میں سے ایک مثبت پہلو نکال لیتے ہیں۔ انکے اس positive طریقہ کار کا کسی اور کو فائدہ ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو خود انھیں تو بہت ہوتا ہے۔ آج صبح ہی جب وہ اپنے ہاتھ میں حزب اقتدار کا حال ہی میں جاری کردہ 'الیکش مینوفسٹو' اٹھائے ہوئے ہمارے پاس آئے تو ان کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے مینوفسٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں چھیڑتے ہوئے ان سے پوچھا کہ شرما جی کسی کی شادی کا دعوت نامہ ملا ہے کیا جو آپ اتنے خوش نظر آرہے ہیں۔ تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ جی ہاں اسے شادی کا کارڈ ہی سمجھیے کیونکہ نہ شادی کے کارڈ کا مضمون کوئی پڑھتا ہے اور نہ پارٹی کے مینوفسٹوکا، کیونکہ لوگوں کو پہلے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوگا۔

بقول غالب:

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

ہم نے شرما جی کی چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ شرما جی ابھی اتنی بھی کیا جلدی تھی اس انتخابی منشور کو جاری کرنے کی۔ کیونکہ اس میں تو ویسے بھی عوام کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے کسی قابل عمل پروگرام کے بارے میں کچھ کہنے سے مصلحتاً پرہیز کیا گیا ہے۔ تو اسے آپ اگر الیکشن کے بعد بھی جاری کردیتے تو کیا فرق پڑجاتا۔ تو وہ کہنے لگے:

’’بھئی رسم دنیا بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ اب یہ کیا اچھا لگتا کہ ملک کی ہرچھوٹی بڑی پارٹی تو اپنا انتخابی منشور جاری کرے اور ہماری جیسی اتنی شان و شوکت اور بڑے الیکشن بجٹ والی بڑی پارٹی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہ جائے۔ یوں بھی آپ خود ہی بتائیے کہ آخر اک تنہا آدمی اکیلا کیا کیا کام کرے۔ ویسے آپ نے دیکھا کتنا دیدہ زیب کور ہے اس کا۔ ذرا اس کے ٹائٹل کور کی کلراسکیم ملاحظہ فرمائیے۔ لگتا ہے کسی انٹرنیشنل مشہور ڈیزائنر سے بنوایا گیا ہے۔ بھئی پارٹی کی ساکھ کا معاملہ جو ہے۔ جب ہمارے نیتا حضرات ڈیذائنرس کے کپڑے پہن کرعوام کے سامنے جارہے ہیں تاکہ عوام کو کم از کم الیکشن کے زمانے میں تو تقریروں کے ساتھ ساتھ فیشن شو دیکھنے کا بھی فری موقعہ مل جائے تو بھلا مینوفسٹو جیسی گلیمرس اور شوبز کے اظہار کے موثر طریقہ کو تیار کروانے کے لئے کسی ڈیزائنر کی خدمات کیوں نہ لی جا ئیں گی۔ اس طرح جنتا کے لئے بغیر ٹکٹ دو دو مزے ایک ساتھ ہوگئے۔ الیکشن کا الیکشن اور فیشن کا فیشن، بھلا اور کیا چاہیے ہماری جنتا کو‘‘۔

’’چلیے شرما جی یہ تو بہت اچھا ہوا کہ مینوفسٹو میں آخرکہیں تو کوئی اسکیم موجود ہے اس کے اندر اس کے متن میں نہ سہی باہر کور پر ہی سہی، بھلے ہی کلراسکیم ہی کیوں نہ ہو‘‘۔

ہم نے بھی شرما جی کے انداز میں ہی انھیں مینوفسٹو کے مثبت پہلو بیان کرتے ہوئے جواب دیا۔

شرما جی تھوڑے خاموش ہوئے تو ہم نے از راہ تکلف اور کچھ حقوق ہمسائیگی ادا کرتے ہوئے ان سے ان کی پارٹی کا انتخابی منشور لے کر اسے پڑھنا شروع کردیا جس سے شرماجی کا چہرہ کچھ کھل سا گیا۔ کچھ دیر اس منشور کی تفصیل کھنگالنے پر بھی جب ہمیں کوئی نیا وعدہ، نیا جملہ یا نئی اسکیم نظر نہ آئی تو ہم نے شرما جی کو ہلا کر پوچھا کہ کیا وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسی الیکشن کا انتخابی منشور ہے؟ وہ کہنے لگے ’’جب کور کا ڈیزائن نیا ہے تو پھر یہ منشور بھی نیا ہی ہوا نا‘‘۔

شرما جی نے اپنی بات کو خوبصورتی سے کور کیا تو ہم خاموش ہوگئے۔

منشور کی تازہ کاپی اپنے سامنے رکھ کر موصوف ہمیں سمجھانے لگے کہ جناب اس منشور کی جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ ’قومی سلامتی‘ کے جذبے سے سرشار ہے۔ اس لئے یہ پوری طرح سے ’قومی سلامتی‘ پر مرکوز ہے۔ ہمارے عوام کے لئے ملک کی سلامتی کا مفہوم بالکل نیا ہے جسے اس وقت ان کو سمجھانا بہت ضروری ہے اور اس کے لئے انھیں آمادہ کرنا ہمارے ملک کی بڑی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ اس وقت ملک کو درپیش خارجی خطرات داخلی مسائل سے کہیں زیادہ ییں۔

نوجوانوں کے لئے روزگار اور مہنگائی جیسے گھسے پٹے مسائل کو دوہرانا تضیع اوقات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جب یہ مسائل آزادی سے لے کر آج تک حل نہیں ہوئے تو اب ان کے حل کو تلاش کرنا فضول ہے۔ اس لئے اس منشور کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کا دھیان ملک کی سلامتی جیسے اہم ترین مسئلہ کی طرف دلایا گیا ہے تاکہ وہ قومی سلامتی کے جذبات میں اس قدر جذب ہوجائیں کہ انھیں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل کی تکلیف کم محسوس ہو۔ ہماری پارٹی نے اس الیکشن سے قبل یہ نئی تکنیک ایجاد کی ہے۔ یہ کام اس سے پہلے آج تک کسی سیاسی پارٹی نے کبھی نہیں کیا تھا۔

شرما جی شاید صبح کا ناشتہ کھا کر آئے تھے اس لئے شکم سیر ہوتے ہوئے ’قومی سلامتی‘ جیسے جذباتی موضوع پر دھواں دھار تقریر کر رہے تھے۔ جبکہ ہم اس وقت نہار منہ بھوکے بیٹھے تھے اور ہمارے پیٹ میں چوہے کود رہے تھے۔ ہماری کیفیت ان عام لوگوں سے مختلف نہ تھی جو آج کل بڑے بڑے نیتاؤں کی تقریریں سننے کے لئے خالی پیٹ کھلے میدانوں میں دس دس گھنٹے اس امید پر بیٹھے رہتے ہیں کہ تقریر کے بعد شاید انھیں کھانے کو کچھ ملے گا۔ اس وقت ہمیں بھی قومی سلامتی کے دو لفظوں کے دائروں میں دو روٹیاں گھومتی ہوئی نظر آرہی تھیں اور خوب احساس ہو رہا تھا کہ خالی پیٹ بے روزگارعام آدمی کو ایسی تقریریں اور منشور کتنے پر کشش اور دلچسپ لگ رہے ہوں گے۔ اس وقت ہمارا حال بھی اس عام جنتا سے مختلف نہ تھا کہ جو اس سیاسی پارٹی کے الیکشن جلسے میں جانے کو ترجیح دیتی ہے جس کا انتخابی نشان چھتری ہو، جس کے بعد کم ازکم سر پر سایہ کرنے کے لئے ایک عدد چھتری تو ملنے کی امید ہوتی ہے۔

’’مگر شرما جی اس منشور میں حب الوطنی سے زیادہ تو موجودہ متحدہ ہندوستانی سماج کو منقسم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں تو پھر حب الوطنی سے لبریز اس منشور سے کیا مطلب اخذ کیا جائے؟ ایک لحاظ سے تو یہ ہمارے سماج کا قتل نامہ ہی ٹھرایا جائے گا ؟‘‘

ہم نے شرما جی کے سیاسی تدبر سے مستفید ہونے کے لئے ان سے پوچھا تو وہ بات ٹالتے ہوئے کہنے لگے:

’’بھئی اس منشور سے اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو، ہم اس تپتی دھوپ میں اس سے ہاتھ کے پنکھے کا کام تو لے ہی سکتے ہیں‘‘۔

اور وہ اپنے ہاتھ میں اٹھائے بک لیٹ سے پنکھا کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔

Published: 14 Apr 2019, 8:10 PM