طنز و مزاح: کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور...

’’ارے بھئی وہی لاکھوں روپئے جن کا ذکر آپ ابھی آنے والی قیامت کے آثاروں میں کررہے تھے‘‘ ہم نے بھی شرماجی کو آسانی سے کترا کر جانے نہ دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تقدیس نقوی

ہمارے پڑوسی شرماجی علی الصبح ہمارے پاس اپنا منہ لٹکائے ہوئے اس طرح آئے کہ ایک لمحے کے لئے ہمیں محسوس ہوا کہ یقیناً ’’ان کے گھر میں کوئی بڑا سانحہ ہوگیا ہے۔‘‘ یوں بھی آج کل کے روابط بین الپڑوسیان کے لحاظ سے کسی اپنے پڑوسی کے یہاں وقوع پذیر ہوئے کسی سانحے کی اطلاع یا تو اخبارات سے ملتی ہے یا سوشل میڈیا سے، ویسے بھی آج کل لوگ اپنے پڑوسی کی خبر گیری رکھنے سے زیادہ پڑوسی ملک کی خبروں پر زیادہ نگاہ رکھنے لگے ہیں، پڑوسی کے یہاں کچھ ایسا ویسا ہو جانے سے ہمارے ملک کی سیاست پر بھلا کیا اثر پڑنے والا ہے؟ ہم نے ڈرتے ڈرتے شرما جی سے معلوم کیا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ جو وہ اتنے مضمحل نظر آرہے ہیں تو وہ بہت مایوس کن لہجے میں کہنے لگے:

’’بس جناب قیامت جلد ہی آنے والی ہے۔‘‘

قیامت؟ مگر اتنی جلدی کیسے؟ "ہم نے بھی ان کی اس دل دہلا دینے والی خبر پر اپنی حیرت کا اظہار کرنے کی غرض سے اپنی دونوں آنکھیں پوری طرح پھاڑ کے ان سے سوال کیا، مگر ساتھ ہی دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ واقعی اگر شرما جی کی خبر کہیں سچ نکلی تو پھر ہمارے ملک میں اس وقت چل رہے ’اچھے دنوں‘ کا کیا ہوگا، جنھیں ملک میں آئے ہوئے ابھی صرف پانچ برس ہی ہوئے ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ کامیابی اور خوشحالی کو بری نظر لگتے دیر نہیں لگتی۔

’’بھائی صاحب کل شام ہم حکمراں جماعت کے ایک لیڈر کے الیکشن جلسے میں ہو رہی تقریر سن رہے تھے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو اس الیکشن میں جنتا نے منتخب نہیں کیا تو ملک میں قیامت آجائے گی، جو کچھ انھوں نے پچھلے پانچ برسوں کی کڑی محنت اور مشقت سے اس ملک کو جنت نما بنایا ہے وہ سب حزب مخالف کے منتخب ہونے کی صورت میں تحس نحس ہوجائیگا۔ لوگ پھر سے بے روزگار ہوجائیں گے، ملک میں دوبارہ غریب ہر طرف نظر آنے لگیں گے، کسان خود کشیاں کرنے لگیں گے، ملک میں مہنگائی دوبارہ لوٹ آئے گی، دہشت گردوں کے حملے پھر سے ہونے لگیں گے، ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی، پٹرول کے دام آسمان سے چھونے لگیں گے، لوگ کھیتوں میں رفع حاجت کرنے کے لئے واپس جانے لگیں گے، کالا دھن ملک میں واپس استعمال ہونے لگے گا، لوگ بنکوں سے بڑے بڑے قرض لے کر ملک سے باہر بھاگنے لگیں گے، موب لنچنگ کے واقعات جگہہ جگہہ ہونے لگیں گے اور امن عامہ خطرے میں پڑ جائیگا، صاف شفاف بہتی گنگا ندی پھر سے میلی ہوجائے گی، عام جنتا کے اکاونٹ میں جمع کیے گئے لاکھوں روپئے نکال کر بنک اکاونٹ واپس خالی کردیئے جائیں گے اور جنتا کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگے گا سوائے خالی ہاتھ کے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اگر واقعی یہ سب باتیں کہیں سچ ثابت ہوگئیں تو ملک میں قیامت آنے سے کون روک سکتا ہے، بس یہی فکر ہمیں کھائے جارہی ہے‘‘۔ شرما جی ایک گہری سانس لیتے ہوہے بولے۔

’’شرما جی ذرا دھیرج رکھیں قیامت لانے کی اب اتنی بھی کیا جلدی ہے، ابھی ملک نے دیکھا ہی کیا ہے‘‘۔ ہم نے سب سے پہلے شرما جی کی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بیٹھانے کی غرض سے انھیں دلاسہ دینے کی کوشش کی۔

’’جناب یہ اگر خالی خولی الیکشن کی حد تک بات ہوتی تو ہم بھی اس جانب زیادہ دھیان نہ دیتے مگر یہ تو پورے ملک کے سالمیت کا معاملہ ہے اگر ہمارے ملک پر کوئی آفت آئیگی تو اس میں تو ہم سب ہی پسیں گے نا‘‘۔ شرماجی قیامت کو لیکر بہت سنجیدہ نظر آرہے تھے۔

’’شرما جی میری مانیے آپ سب سے پہلے متوقع قیامت کے آنے سے قبل جولاکھوں روپئے آپ کے اکاونٹ میں حکومت کے ڈالے ہوئے پڑے ہوئے ہیں انھیں جلد کیش کرا کے گھر میں کسی محفوظ جگہ منتقل کردیجیے۔ باقی قیامت آنے پر دیکھا جائے گا‘‘۔ ہم نے شرماجی کو ان کے مطلب کا مشورہ دیتے ہوئے ان کے اندیشوں کو کم کرنے کی کوشش کی۔

’’کون سے لاکھوں روپئے‘‘؟ شرماجی نے بڑی حیرت سے ہم سے ہی الٹا سوال کرڈالا۔

’’ارے بھئی وہی لاکھوں روپئے جن کا ذکر آپ ابھی آنے والی قیامت کے آثاروں میں کررہے تھے‘‘ ہم نے بھی شرماجی کو آسانی سے کترا کر جانے نہ دیا۔

’’ارے جناب ہمارے اکانٹ میں کہاں کوئی روپئے آئے تھے، وہ تو عام جنتا کی بات کر رہے تھے جو ان کی تقریر بہت دلچسپی اور لگن سے سنتی ہے‘‘ شرماجی نی جلدی اپنا پلا جھاڑنے کی کوشش کی۔

ابھی شرماجی کے ساتھ لان میں بیٹھے ہوئے ہماری یہ بات چیت جاری ہی تھی کہ ہمارے قریب ہی پھلواری میں کام کرتا ہوا ہمارا مالی چندن جو خاموشی سے بیٹھا ہماری باتیں سن رہا تھا ہمارے اور قریب آیا اور کہنے لگا:

’’لگتا ہے سرما جی کسی جیوتش بابا سے مل کر آرہے ہیں ویسے ہی جیسا کچھ دن پہلے ہمارے ساتھ ہوا تھا‘‘۔

’’کیوں بھئی تمہارے ساتھ کون سی قیامت آگئی تھی‘‘؟ ہم نے چندن کی بات میں دلچسپی دکھاتے ہوئے پوچھا۔

’’بس جی کچھ مت پوچھو، کچھ مہینوں پہلے ہمارے باغ میں جب پھلوں کی بہار آئی ہوئی تھی تو روزانہ پیڑوں پر سے بہت سے پھل غائب ہونا شروع ہوگئے، بہت چوکیداری کرنے پر بھی یہ معمہ حل نہ ہوا کہ پھل توڑ کے کون لیجا رہا ہے۔ بس ایک بات خاص ضرور تھی کہ پھل صرف انھیں پیڑوں سے غائب ہوتے تھے جو درمیان سے گزرنے والے راستے کے کنارے لگے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے سب ہی لوگ جان پہچان کے تھے۔ ان میں زیادہ تر یا تو باغوں میں کام کرنے والے مزدور تھے یا پھر ایک جیوتشی بابا تھے جن سے کسی ایسی حرکت کی امید ہر گز نہ تھی۔ آخرکار گاؤں کے ایک سیانے کے مشورے سے ہم نے کچھ پیڑوں کے آگے پیچھے کچھ گڑھے کھود کر ان پر گھاس بچھا دی تاکہ پیڑ سے پھل توڑنے والا گڑھے میں گرجائے اور پکڑا جائے۔ ایک دن صبح کو جاکر دیکھا تو گڑھے میں جیوتشی بابا پڑے ملے‘‘۔ چندن کی کہانی کا اینٹی کلائمیکس سن کر شرماجی بھی سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔

’’بابا کو گڑھے میں دیکھ کر ہمیں حیرت تو بہت ہوئی اور غصہ بھی بہت آیا، ہم نے بھی بابا سے کہہ دیا کہ اب تم یہیں پڑے سڑتے رہو، ابھی ہم یہ کہہ کر جا ہی رہے تھے کہ بابا پکار کر ہم سے کہنے لگا کہ تم مجھے گڑھے میں مرنے کے لئے چھوڑے تو جارہے ہو مگر تمہیں خبردار کیے دیتا ہوں کہ اگر میں مرگیا تو قیامت آجآئے گی‘‘۔ چندن مالی بڑے انہماک سے جیوتشی بابا اور ان کی قیامت کے بارے میں بتا رہا تھا۔

’’تو کیا تم نے بابا کی بات پر یقین کرلیا‘‘ شرما جی نے بڑے تجسس کے ساتھ چندن سے دریافت کیا۔

’’اجی صاحب ہم کیسے یقین نہ کرتے، وہ بابا جوتش جانتا تھا، ویسے بھی ہم کوئی آپ کی طرح پڑھے لکھے تھوڑے ہیں جو اس سے کوئی ثبوت مانگتے‘‘۔ چندن نے اپنی پوری صفائی دینے کی کوشش کی۔

’’لیکن ثبوت تو شرما جی نے بھی اپنی پارٹی کے لیڈر سے نہیں مانگا‘‘۔ ہم نے شرماجی کی طرف رخ کرتے ہوئے اشارہ کیا تو شرما جی نے آنکھیں چرانے کی کوشش کی۔

’’خیر ہمیں بابا کی بات سن کر ڈر تو بہت لگا اور پھر ہم نے یہ بھی سوچا کہ اگر بابا کی بات سچ ثابت ہوئی اور قیامت آگئی تو ہم سب بے قصور ہی مارے جائیں گے۔ اس لئے ہم نے بابا کو اس گڑھے سے باہر نکال لیا۔ جب بابا وہاں سے جانے لگا تو ہم نے اس سے اپنے دل کے اطمینان کے لئے پوچھا کہ بابا اب تو قیامت نہیں آئے گی؟، تو جانتے ہیں بابا نے کیا کہا‘‘؟ چندن ہم سے پہیلیاں بجھوا رہا تھا۔

’’بھئی جلدی بتاؤ کہ بابا نے کیا جواب دیا‘‘۔ شرما جی کی بے چینی دیکھنے لائق تھی۔

’’اس نے جاتے جاتے کہا، مورکھ اگر میں گڑھے میں مرجاتا تو میرے لئے تو وہی قیامت کا دن ہوتا، بھلا میرے مرنے کے بعد مجھے اس سے کیا سروکار ہوتا کہ پوری دنیا میں قیامت آئی کہ نہیں آئی، بابا یہ کہہ کے چلا گیا مگر میں سوچتا رہا کہ بات تو بابا صحیح کہہ رہا تھا، مگر بابو جی ہم تو ان پڑھ ہیں اپ ہی بتاؤ کہ جو آپ نے انے والی قیامت کے اثار بتائے ہیں کیا وہ سب آج کل موجود نہیں ہیں‘‘؟ چندن نے معصومانہ انداز سے شرما جی سے پوچھا تو وہ یہ سوچنے میں غرق ہوگئے کہ جیوتشی بابا اور ان کی پارٹی کے لیڈر کے بیان میں آخر فرق کیا ہے؟ بقول غالب:

’کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور‘