یا رب! ریاض عظیم آبادی سے میری ملاقات جنت میں کروانا... تنویر احمد

معروف صحافی ریاض عظیم آبادی سے میرا رابطہ 20 سالوں پر مشتمل ہے۔ اگر میرے کسی کام کی وہ تعریف کرتے اور سر پر دست شفقت رکھتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی بڑے مرتبے پر فائز ہو گیا ہوں۔

تصویر بذریعہ فیس بک
تصویر بذریعہ فیس بک
user

تنویر احمد

رمضان کے بابرکت مہینے میں مشہور و معروف صحافی ریاض عظیم آبادی نے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی اردو طبقہ ایک ایسے عظیم صحافی سے محروم ہو گیا جس پر عظیم آباد ہی نہیں، پورا بہار فخر کرتا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں فخر کرتا رہے گا۔ جن لوگوں کو ریاض عظیم کی قربت حاصل ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ ان کے قلم میں جس قدر بے باکی اور بے خوفی تھی، وہ اتنے ہی مخلص، ملنسار اور مشفق بھی تھے۔ مختلف اخبارات کے اداریوں اور اپنے مضامین میں وہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اردو سے متعلق ایشوز بھی اٹھاتے تھے، اور نام نہاد رہبروں کی کان بھی اینٹھتے تھے۔ لیکن کیا کریں کہ دل سے اردو دوستوں کی فکر کرنے والا اور مسلم طبقہ کی رہنمائی کرنے والے ریاض عظیم آبادی نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ تقریباً دو ہفتے پہلے ہی انھوں نے کووڈ-19 ٹیکے کی پہلی خوراک لی تھی اور پھر طبیعت جو ناساز ہوئی تو ہارٹ اٹیک نے ان کو ابدی نیند سلانے کا کام کر دیا۔

ابھی 3 اپریل کی ہی بات ہے جب میری ریاض عظیم آبادی سے فون پر بات ہوئی تھی۔ میرے چھوٹے بھائی کے ولیمے کی تقریب تھی جس کے لیے وہ گھر سے نکلے تھے لیکن کسی غلط ہال میں پہنچ گئے۔ پھر مجھے فون کر کے کہا ’’بیٹا تنویر، میں غلطی سے نورانی باغ کے ہال میں چلا آیا، اور اب میری ہمت جواب دے رہی ہے کہ سلطان گنج پہنچوں۔ میں اکیلا آ رہا تھا، طبیعت بھی کچھ ناساز ہے اور آنکھ کی بینائی بھی کمزور ہے، اس لیے بہت معذرت۔ لیکن میری طرف سے توقیر بابو کو ڈھیر ساری دعائیں اور مبارکباد دے دینا۔‘‘ ریاض صاحب نے یہ جملے بہت جلدی جلدی میں کہے تھے، اور میں جواب میں صرف اتنا کہہ سکا کہ ’’کوئی بات نہیں، میں توقیر سے کہہ دوں گا۔ اور میں جلد آپ کے گھر پہنچ کر ملاقات کروں گا۔‘‘ میری بات سن کر وہ خوش ہوئے، لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ ملاقات نہیں ہو پائے گی۔ اب تو رب العالمین سے یہی دعا ہے کہ مشفق صفت ریاض عظیم آبادی کو جنت الفردوس میں جگہ ملے، اور پھر میری ملاقات اللہ پاک ان سے جنت میں کروائے۔


ریاض عظیم آبادی نے بلٹز اور دینک جاگرن جیسے اداروں کے لیے کام کر کے اور بہار کے ساتھ ساتھ دوسری ریاستوں کے اردو اخبارات میں اپنے مضامین لکھ کر یقیناً ایک اعلیٰ معیاری صحافت کا نمونہ پیش کیا اور ان کے ذریعہ لکھا جانے والا کالم ’بے باک قلم‘ سے کون آنکھیں پھیر سکتا ہے جس میں انھوں نے وہ سب کچھ لکھا جس پر قلم چلانے سے پہلے دوسرے صحافی ہزار بار سوچتے ہیں اور پھر قلم رکھ دیتے ہیں۔ یہ بات شاید ہی کسی کو معلوم ہوکہ آج سے تقریباً 14 سال پہلے وہ چار پانچ چھوٹے سائز کے کاغذ میں ’بے باک قلم‘ لکھ کر لایا کرتے تھے اور مجھے کمپوزنگ کے لیے دیتے تھے۔ ان کی تحریروں کی کشش کا ہی نتیجہ ہے کہ میں ہاتھ میں کاغذ ملتے ہی اسے کمپوزنگ کے لیے بیٹھ جانا چاہتا تھا۔ یہ بھی جاننے کو بے تاب رہتا تھا کہ اس بار کا موضوع کیا ہے! سچ تو یہ ہے کہ جن علم دوستوں اور اعلیٰ قدر صحافیوں کی صحبت نے مجھے کمپوزر سے صحافی تک کا سفر طے کرایا، ان میں ریاض عظیم آبادی کا نام بھی شامل ہے۔ تقریباً 20 سال پہلے میں ان کے دفتر میں کام کرنے جاتا تھا۔ جب کبھی کام سے فرصت ملتی تھی تو انتہائی خلوص کے ساتھ مجھ سے دنیا جہان کے بارے میں بات کرتے۔ ایسا لگتا جیسے میں کوئی عالم یا دانشور ہوں۔ اگر میرے کسی کام کی وہ تعریف کرتے اور سر پر دست شفقت رکھتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی بڑے مرتبے پر فائز ہو گیا ہوں۔ ریاض عظیم آبادی کے ساتھ میری بہت سی اچھی یادیں جڑی ہوئی ہیں، اور ایک بات جو میں کبھی نہیں بھول سکتا وہ یہ کہ میرے نام سے جو پہلا انٹرویو پٹنہ کے روزنامہ ’پندار‘ میں شائع ہوا تھا، اس کا خاکہ ریاض عظیم آبادی نے ہی تیار کیا تھا۔ سچ مچ ریاض عظیم آبادی بہت یاد آئیں گے، ان سے وعدہ کردہ ملاقات نہ ہونے کا غم بھی رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Apr 2021, 6:10 PM