نیشنل ہیرالڈ: آخر اتنا ہنگامہ کیوں ہے!

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے اے جے ایل کی ملکیتوں کا اندازہ 350 کروڑ روپے لگایا ہے، اسے بھی چیلنج پیش کر دیا گیا ہے، جھوٹی تشہیر کی طاقت ایسی ہے کہ 2000 کروڑ روپے کا جھوٹ لوگوں کے دماغ میں بھرا جا رہا ہے۔

ای ڈی دفتر جاتے ہوئے راہل گاندھی
ای ڈی دفتر جاتے ہوئے راہل گاندھی
user

ظفر آغا

مرکزی حکومت، میڈیا کا ایک گروپ اور مرکزی ایجنسیاں نیشنل ہیرالڈ، اس کے پبلشر ایسوسی ایٹیڈ جرنلس لمیٹڈ اور اس کی ہولڈنگ کمپنی ’ینگ انڈیا‘ پر لگاتار طرح طرح کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور دعوے کر رہے ہیں۔ الزام اتنی ہمت اور حوصلے کے ساتھ بی جے پی ترجمانوں کے ذریعہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں کہ کئی بار لگتا ہے کہ کیا واقعی پورے معاملے کی جانچ کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔

بلاشبہ حکومت ہند کے پاس سارے ثبوت ہیں، اے جے ایل اور ینگ انڈیا دونوں ہی کمپنیوں کی سالانہ رپورٹ اور مالی تفصیلات بھی ہیں۔ ان چیزوں اور ریکارڈ کی بنیاد پر حکومت کسی بھی کمپنی کے سبھی طرح کے لین دین کا پتہ لگاتی ہے یا لگا سکتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام الزامات کے باوجود اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ نہ تو اے جے ایل یا ینگ انڈیا کے خلاف، نہ ہی راہل گاندھی یا سونیا گاندھی کے خلاف، اور نہ ہی اے جے ایل یا ینگ انڈیا کے کسی دیگر شیئر ہولڈرس یا ڈائریکٹر کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

حکومت اور مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے مبینہ طور پر کچھ منتخب جانکاریاں اس ہفتہ میڈیا کو لیک کی گئیں جس کے ذریعہ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو اس ہفتہ بیان درج کرانے کے لیے بلایا۔ اسی دوران بی جے پی کے ترجمانوں اور بی جے پی کی حمایت کرنے والے میڈیا اہلکاروں نے اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس سب میں خصوصی طور پر تین بے بنیاد نکات سامنے آئے:

  1. ناٹ فار پروفٹ کمپنی ینگ انڈیا نے 1937 میں قائم ’دی ایسو سی اٹیڈ جرنلس لمیٹڈ‘ کی ملکیتوں پر قبضہ کر لیا۔

  2. سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی تینوں ہی ینگ انڈیا کے شیئر ہولڈرس ہیں (اس میں اور نام بھی ہیں) اور اب تقریباً 2000 کروڑ روپے قیمت کی ملکیتوں کے مالک ہیں۔

  3. انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اے جے ایل سے غیر قانونی طریقے سے ینگ انڈیا کو فنڈ ٹرانسفر اور ممکنہ منی لانڈرنگ کی جانچ کر رہی ہے۔


اسی طرح کی ایک غلط فہمی تب بھی پیدا کی گئی تھی جب 2015 میں بی جے پی حکومت کے ذریعہ خصوصی طور سے لائے گئے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کے بعد ینگ انڈیا نے 2016 میں انکم ٹیکس چھوٹ کے لیے اصل رجسٹریشن کی سپردگی کر دی تھی، یعنی رد کرا دیا کیونکہ اس وقت ینگ انڈیا کے پاس عطیہ میں دینے کے لیے کوئی اضافی فنڈ نہیں تھا۔

دہلی میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی انتظام کرنا، کانگریس کارکنان کو پرامن مارچ نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کرنا، تمام کانگریس لیڈروں کو روکنا اور حراست میں لینا، ان کے ساتھ ہاتھا پائی کرنا اور حد تو یہ کہ بدھ کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں پولیس کا گھس آنا اور کارکنان اور لیڈروں کو گھسیٹنا... ان سب سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ پورے معاملے کو بے وجہ اور ضرورت سے زیادہ اچھالنے اور مشتہر کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ کچھ باتوں کی وضاحت ہو۔ صاف طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ:

  1. ایسو سی ایٹیڈ جرنلس لمیٹڈ کی ساری ملکیتیں پہلے کی ہی طرح اب بھی اے جے ایل کے ہی پاس ہیں۔ ینگ انڈیا نے تو ان ملکیتوں کا مالک ہے اور نہ ہی اے جے ایل کی ملکیتوں کا کنٹرول کرتا ہے۔

  2. بی جے پی کی یہ جھوٹی تشہیر کہ ینگ انڈیا میں پرینکا گاندھی واڈرا شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر ہیں، غلط ہے۔ پرینکا گاندھی واڈرا نہ تو ینگ انڈیا اور نہ ہی اے جے ایل میں شیئر ہولڈر ہیں اور نہ ہی ڈائریکٹر ہیں۔

  3. ینگ انڈیا کے کسی بھی شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نے اے جے ایل یا ینگ انڈیا سے، ینگ انڈیا کے 2010 میں وجود میں آنے سے لے کر ابھی تک تنخواہ، کرایہ، خرچ، بھتہ، میٹنگ کی فیس، ڈیویڈنڈ، غیر منقولہ ملکیت کی منتقلی یا کسی دیگر طریقے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ہے۔

  4. ینگ انڈیا چونکہ سیکشن 25 کی چیریٹیبل ناٹ فار پروفٹ کمپنی ہے، اس لیے بھلے ہی یہ کمپنی بند ہو جائے یا کام کرنا بند کر دے، تب بھی کوئی غیر منقولہ ملکیت یا شیئر کسی شخص یا کمپنی کو، سوائے کسی دیگر سیکشن 25 کی چیریٹیبل ناٹ فار پروفٹ کمپنی کے نام، نہیں کر سکتی۔ ساتھ ہی یہ کسی قسم کا ڈیویڈنڈ بھی اعلان نہیں کر سکتی ہے۔

  5. چونکہ اے جے ایل اور ینگ انڈیا کے درمیان کسی قسم کے پیسے کا کوئی لین دین نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ڈیویڈنڈ یا کوئی دیگر ادائیگی ینگ انڈیا کے شیئر ہولڈرس یا ڈائریکٹر کو دیا گئی ہے، ایسے میں کسی بھی قسم کی منی لانڈرنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


جیسا کہ سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے سمجھایا ہے کہ منی لانڈرنگ کے لیے پیسہ ہونا ضروری ہے۔ اور چونکہ گاندھی فیملی نے کسی بھی قسم کا کوئی پیسہ نہیں لیا ہے اور نہ ہی انھیں کوئی پیسہ ملا ہے، ایسے میں ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگانا بالکل بے معنی ہے۔

اس طرح یہ الزام لگانا کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے دھوکے سے 2000 کروڑ روپے کی ملکیت ہضم کر لیا ہے، پوری طرح جھوٹ، بے بنیاد اور ہتک عزتی کا معاملہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس نے اے جے ایل کو مختلف قسطوں میں 02-2001 اور 11-2010 میں تقریباً 100 بار 90 کروڑ روپے قرض کی شکل میں دیے۔ اس پیسے کا تقریباً دو تہائی حصہ اے جے ایل کے لیے برسوں سے کام کرنے والے صحافیوں، غیر صحافتی ملازمین کی تنخواہ، پی ایف، گریچوئٹی، وی آر ایس اور دیگر آئینی ادائیگی میں خرچ کیا گیا۔ قرض کا استعمال ٹیکس ادا کرنے، بجلی کا بل جمع کرنے اور ایسی دیگر ادائیگی کرنے میں کیا جسے اے جے ایل 2008 سے نہیں ادا کر پا رہی تھی اور لگاتار بڑھتے خسارے کے سبب 2008 میں عارضی طور پر اشاعت بند کرنی پڑی تھی۔

کانگریس نے اے جے ایل کو قرض صرف اس لیے دیا کیونکہ اس کو آزادی سے قبل تمام مجاہدین آزادی اور جواہر لال نہرو، کیلاش ناتھ کاٹجو، رفیع احمد قدوائی، آچاریہ نریندر دیو، پروشوتم داس ٹنڈن اور کانگریس کے دیگر اعلیٰ اور مشہور لیڈروں نے قائم کیا تھا۔ لگاتار خسارے میں چلنے کے سبب ادارہ ملازمین اور صحافیوں کو تنخواہ نہیں دے پا رہا تھا اور بری طرح مالی بحران میں تھا، اور قرض نہ ملنے کی حالت میں یہ بند ہو جاتا۔ بلاشبہ اے جے ایل کے میمورینڈم آف ایسو سی ایشن میں 1937 میں اس کے قیام کے وقت سے ہی صاف لکھا ہے کہ اے جے ایل کے ذریعہ جاری کوئی بھی اشاعت، رسالہ یا پیریوڈیکل وغیرہ انڈین نیشنل کانگریس کے اصولوں اور پالیسیوں کے موافق ہوں گے۔


سینئر کانگریس لیڈر موتی لال ووہرا 02-2001 میں اے جے ایل کے چیئرمین بنے۔ اس وقت اے جے ایل کی اشاعتیں 2008 میں عارضی طور پر بند ہو چکی تھیں، اور صاف تھا کہ اے جے ایل کسی بھی طریقے سے نہ اپنا قرض اتار سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بقایہ جات کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ 2000 کی دہائی کے شروع میں اے جے ایل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔

جنوری 2011 میں ایسو سی ایٹیڈ جرنلس لمیٹڈ (اے جے ایل) کے شیئر ہولڈرس کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے منظوری دی گئی کہ اے جے ایل کے شیئرسیکشن 25 کی چیریٹیبل ناٹ فار پروفٹ کمپنی ینگ انڈیا کو دیے جائیں۔ یہ فیصلہ اے جے ایل کی ایکسٹرا آرڈینری جنرل باڈی میٹنگ (جی بی ایم) لیا گیا، اور اسی کو اب بی جے پی اور آر ایس ایس فیملی نے غلط بیانی کا موضوع بنا لیا ہے۔

فروری 2011 میں ینگ انڈیا کو اے جے ایل کے شیئرس کے الاٹمنٹ کے بعد 90 کروڑ روپے کے قرض کو ایکویٹی (شیئرس) میں بدل دیا گیا اور اے جے ایل کے کھاتوں میں قرض ختم ہو گیا۔

کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کے اس عام عمل سے کئی مقاصد کی فراہمی ہوئی۔ اے جے ایل قرض سے باہر نکل گیا اور نیوز پیپرس کی دوبارہ اشاعت کرنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمس شروع کرنے کی بنیاد تیار ہو گئی۔ قرض کو ایکویٹی میں بدل دیا گیا اور کئی برس بعد اے جے ایل کی بیلنس شیٹ صحت مند (یعنی کام کرنے کے قابل) نظر آنے لگی۔ ناٹ فار پروفٹ چیریٹیبل کمپنی نے یقینی بنایا کہ اے جے ایل یا ینگ انڈیا کے کسی بھی شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر کو کسی قسم کا ذاتی فائدہ نہ ہو۔

اس عمل سے اے جے ایل کی اشاعتوں کو کامیابی کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملی اور اے جے ایل دو ہفتہ واری اخبارات کے 7 ایڈیشن کی دو زبانوں انگریزی اور ہندی میں نئی دہلی، پنچ کلا اور ممبئی سے اشاعت کرتا ہے اور اس کے تقریباً 20 ہزار گاہک ہیں۔ ساتھ ہی اے جے ایل انگریزی، ہندی اور ارد ومیں تین ویب سائٹس بھی چلاتا ہے۔ (nationalheraldindia.com، navjivanindia.com اور qaumiawaz.com) اور اس کے تقریباً 1.8 کروڑ یونک یوزرس ہیں اور ہر سال 8 کروڑ سے زیادہ پیج ویوز کی رسائی ہے۔


اے جے ایل سبھی ملکیتوں کا اب بھی مالک ہے۔ دراصل بی جے پی حکومت کے انکم ٹیکس محکمہ نے خود ہی ان ملکیتوں کی قیمت کا اندازہ تقریباً 350 کروڑ روپے لگایا ہے، جو کہ ڈاکٹر سوامی کے 2000 کروڑ روپے کے دعوے سے کہیں کم ہے۔ کمپنی جو بھی کمائی کرتی ہے اس کی تفصیلات اے جے ایل کے اکاؤنٹس میں موجود ہے، اس کا استعمال پوری طرح اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا بزنس کو چلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کمپنی کی جنرل باڈی میٹنگ میں کمپنی کے خود مختار آڈیٹر کے ذریعہ جانچ کیے گئے سالانہ اکاؤنٹس کو رکھا جاتا ہے اور اسے منظوری ملتی ہے اور ضابطہ کے مطابق ریگولیٹری طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اس کی جانکاری ضروری محکموں کو دی جاتی ہے۔ آج بھی اے جے ایل کا میمورینڈم اینڈ آرٹیکل آف ایسو سی ایشن کسی بھی قسم کے ڈیویڈنڈ یا فائدہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دیتا ہے اور اے جے ایل بھی صرف عوامی مفادات میں چلایا جاتا ہے نہ کہ کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے۔

1937 میں نیشنل ہیرالڈ سے شروع ہو کر اے جے ایل کے ذریعہ شائع اخبارات نے تحریک آزادی اور آزادی کے بعد بھی ایک اہم کردار نبھایا ہے۔ اس اخبار کی ادارت کے. راماراؤ، چلاپتی راؤ اور خشونت سنگھ جیسی شہرت یافتہ شخصیتوں نے کی ہے اور انھوں نے صحافیوں کی ایک شاندار نسل کو تیار کیا ہے۔

نیشنل ہیرالڈ ملک کا پہلا انگریزی اخبار تھا جس نے اپنے اداریہ کی جگہ کو خالی رکھا تھا، جب سنسر نے خبروں اور ہیڈلائنس کا تجزیہ کرنے پر زور دیا۔ اس وقت اخبار نے کوئی سرخی ہی نہیں لگائی۔ کچھ وقت کے لیے اخبار کے ملازمین نے دفتر میں ہی رہ کر کام کیا اور کمیونٹی کچن قائم کر کھانا پینا کرتے ہوئے اپنی مرضی سے تنخواہ کی تخفیف بھی کی اور اخبار شائع کیا۔

یقیناً اے جے ایل کے میمورینڈم آف ایسو سی ایشن میں واضح طور سے تذکرہ ہے کہ ’’کمپنی کے ذریعہ جاری کسی بھی اخبار، پیریوڈیکل یا رسالہ کی پالیسی عموماً انڈین نیشنل کانگریس کی پالیسی اور اصولوں کے مطابق ہوگی۔‘‘

ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب نیشنل ہیرالڈ کو بند ہونے سے بچانے کے لیے جواہر لال نہرو نے الٰہ آباد واقع اپنی آبائی رہائش آنند بھون کو فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ آزادی کی تحریک میں اخبار کے کردار کو جانتے ہوئے نیشنل ہیرالڈ کے لیے نہرو اور کانگریس لیڈروں کے جذباتی لگاؤ کے مدنظر ہی پارٹی نے ہمیشہ میڈیا ہاؤس کا ساتھ دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Jun 2022, 12:22 AM