اعتدال: انسانی فلاح اور عالمی امن کا فطری و منطقی راستہ...ایف اے مجیب

آج کی دنیا جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، جیسے ماحولیاتی بحران، معاشی ناہمواری، ذہنی دباؤ اور سماجی انتشار—ان سب کی جڑ میں عدم توازن کارفرما ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ایف اے مجیب

کائنات کے نظام پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ توازن اور اعتدال اس کی بنیادی ساخت میں شامل ہیں۔ اجرامِ فلکی کی گردش، دن اور رات کی ترتیب، موسموں کی باقاعدہ آمد و رفت اور انسانی جسم کے پیچیدہ نظام—سب ایک ایسے مربوط توازن کے تابع ہیں جو ذرا سی بے اعتدالی کو بھی برداشت نہیں کرتا۔ جہاں یہ توازن بگڑتا ہے، وہاں انتشار، تصادم اور تباہی جنم لیتی ہے۔ یہی اصول انسانی زندگی، معاشرت اور تہذیب پر بھی لاگو ہوتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جو ایک ایسے مکمل ضابطۂ حیات کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اعتدال کو مرکزیت دیتا ہے۔

انسانی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے انتہاؤں کا راستہ اختیار کیا، نتائج تباہ کن نکلے۔ کبھی مادیت کی انتہا نے انسان کو محض ایک خود غرض وجود میں تبدیل کر دیا، جہاں اخلاقیات اور روحانی اقدار پس منظر میں چلی گئیں؛ اور کبھی روحانیت کی غیر متوازن تعبیر نے انسان کو عملی زندگی سے دور کر کے معاشرتی ذمہ داریوں سے غافل کر دیا۔ اسی طرح سیاسی اور معاشی نظاموں میں بھی افراط و تفریط نے یا تو استحصال کو جنم دیا یا انفرادی آزادی کو سلب کر لیا۔ اس تناظر میں ایک ایسا متوازن نظام ناگزیر ہو جاتا ہے جو انسان کی فطرت، عقل اور اجتماعی ضرورتوں کے عین مطابق ہو۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایسا کوئی ہمہ گیر نظام موجود ہے جو انسان کو انتہاؤں سے بچا کر ایک متوازن راستہ فراہم کر سکے؟ اگر انسانی فکر کے مختلف مکاتب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر نظریات یا تو کسی ایک پہلو پر حد سے زیادہ زور دیتے ہیں یا دوسرے پہلو کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مگر ایک ایسا نظام بھی موجود ہے جو انسان کو نہ صرف توازن کی دعوت دیتا ہے بلکہ اس کے لیے عملی اصول بھی فراہم کرتا ہے—ایک ایسا نظام جو نہ محض نظریاتی ہے اور نہ ہی وقتی، بلکہ فطری، عقلی اور ہمہ جہت ہے۔

یہ نظام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اعتدال اختیار کیا جائے۔ عبادت اور عمل، روحانیت اور مادیت، فرد اور معاشرہ—ہر سطح پر ایک متوازن تعلق قائم رکھا جائے۔ اس میں نہ تو دنیا سے فرار کی تعلیم ہے اور نہ ہی دنیا میں اس حد تک غرق ہو جانے کی اجازت کہ انسان اپنی اصل حقیقت کو بھول جائے۔ بلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو انسان کو ذمہ داری، شعور اور توازن کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔


معاشی میدان میں بھی یہی اعتدال ایک انوکھا توازن پیدا کرتا ہے۔ نہ تو یہ نظام دولت کے ارتکاز کو جائز قرار دیتا ہے اور نہ ہی فرد کی ملکیت کو مکمل طور پر ختم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ ایک ایسا معتدل معاشی ڈھانچہ پیش کرتا ہے جس میں دولت کی گردش، سماجی انصاف اور انفرادی محنت تینوں کو یکجا کیا جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف معاشی استحصال کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے بلکہ ایک متوازن اور مستحکم معیشت بھی وجود میں آتی ہے۔

اخلاقی سطح پر بھی یہ نظام ایک واضح اور متوازن رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ نہ تو بے لگام آزادی کو درست سمجھتا ہے اور نہ ہی سخت جبر کو، بلکہ ایک ایسی ذمہ دارانہ آزادی کی بات کرتا ہے جس میں فرد اپنی حدود کو پہچانتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ایک صحت مند اور پُرامن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

عقلی اعتبار سے بھی اس نظام کی برتری واضح ہے۔ انسانی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کسی بھی انتہا کا نتیجہ نقصان دہ ہوتا ہے، اور ایک متوازن راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ، سائنس اور تجربہ—تینوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اعتدال ہی بقا اور ترقی کا اصل راز ہے۔ اس پس منظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جو نظام اعتدال کو اپنی بنیاد بناتا ہے، وہی درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن بن سکتا ہے۔

آج کی دنیا جن سنگین مسائل سے دوچار ہے—جیسے ماحولیاتی بحران، معاشی ناہمواری، ذہنی دباؤ اور سماجی انتشار—ان سب کی جڑ میں عدم توازن کارفرما ہے۔ وسائل کا غیر منصفانہ استعمال، طاقت کا بے جا ارتکاز، اور نظریاتی شدت پسندی—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان نے اعتدال کے اصول کو نظرانداز کر دیا ہے۔ ایسے میں اسلام کی شکل میں ایک ایسا ہمہ گیر اور متوازن نظام ہی واحد متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے جو نہ صرف ان مسائل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ان کے عملی حل بھی فراہم کرتا ہے۔


یہ نظام انسان کو اس کی اصل فطرت سے ہم آہنگ کرتا ہے، اس کی عقل کو مطمئن کرتا ہے، اور اس کے معاشرتی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو فرد سے لے کر عالمی سطح تک ہر دائرے میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر انسانیت ایک پائیدار امن، حقیقی سکون اور متوازن ترقی کی خواہاں ہے تو اسے اسی معتدل راستے کو اپنانا ہوگا۔

آخرکار، یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اعتدال ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مستحکم اور خوشحال دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اور عصرِ حاضر کے فکری، اخلاقی اور سماجی بحرانوں کے تناظر میں اگر کسی نظام کو ایک جامع، فطری اور قابلِ عمل متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو وہ اسلام ہے—ایک ایسا نظام جو اعتدال کو اپنی روح بنائے ہوئے ہے اور جو آج کے دور میں انسانیت کے لیے سب سے موزوں، متوازن اور مؤثر راستہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔