خدا سے دوری: تہذیبی ارتقاء یا پستی؟...ایف اے مجیب
خدا سے دوری انسان کو وقتی طاقت تو دیتی ہے مگر اسے حقیقی معنوں میں مہذب نہیں بناتی۔ سائنسی ترقی کے باوجود اخلاقی بنیاد کمزور ہو جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن کر انصاف اور انسانیت سے دور ہو جاتا ہے

انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتدار کے میدان میں حیرت انگیز ترقی حاصل کی ہے۔ وہ چاند تک پہنچ گیا، ایٹم کو توڑ دیا، اور دنیا کے نظام کو اپنی انگلیوں پر نچانے لگا۔ مگر ایک سوال آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: کیا یہ ترقی انسان کو واقعی مہذب بنا سکی ہے، یا وہ اندر سے اب بھی ویسا ہی ہے جیسا صدیوں پہلے تھا؟
اصل مسئلہ علم یا طاقت کا نہیں، بلکہ اس بنیاد کا ہے جس پر انسان اپنی اخلاقیات تعمیر کرتا ہے۔ جب انسان خود کو ہر قسم کی بالادستی سے آزاد سمجھ لیتا ہے، اور کسی اعلیٰ ہستی کے سامنے جوابدہی کا احساس کھو دیتا ہے، تو اس کی عقل اس کے نفس کی خادم بن جاتی ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو جواز دینے لگتا ہے، نہ کہ انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی تناظر میں جب ہم نام نہاد مہذب دنیا کے بااثر طبقات پر نظر ڈالتے ہیں تو بعض ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو اس چمکتی ہوئی تہذیب کے پس پردہ تاریک پہلو کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز جیسے اسکینڈلز نے دنیا کو یہ دکھایا کہ کس طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ، بااختیار اور باوقار سمجھے جانے والے افراد بھی سنگین اخلاقی الزامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ان واقعات نے اس حقیقت پر سوال اٹھایا کہ کیا محض تعلیم، دولت اور طاقت انسان کو اخلاقی طور پر بھی بلند بنا دیتے ہیں؟
یہیں اسلام کا تصورِ توحید ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ توحید سے انسان کو یہ شعور ملتا ہے کہ وہ خود مختار مطلق نہیں بلکہ ایک ایسے رب کا بندہ ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ہر عمل سے باخبر ہے۔ یہ احساس محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی نگرانی کا نظام ہے، جو انسان کو تنہائی میں بھی ذمہ دار بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اندھیروں میں کیا گیا عمل بھی ایک دن روشنی میں لایا جائے گا۔
خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرنا دراصل انسان کو غلام نہیں بلکہ آزاد کرتا ہے—اپنی خواہشات، لالچ اور نفس کی غلامی سے۔ اس کے برعکس، جب انسان خود کو ہی معیار بنا لیتا ہے تو وہ اپنی کمزوریوں کا قیدی بن جاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقتور ترین افراد بھی جب اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوئے تو انہوں نے انسانیت کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اسلام آخرت کے تصور کے ذریعے اس اخلاقی نظام کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ یہ یقین کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، انسان کو ایک مستقل احتساب کے عمل میں رکھتا ہے۔ دنیا کی عدالتیں کمزور ہو سکتی ہیں، قوانین خریدے جا سکتے ہیں، مگر ایک ایسی عدالت بھی ہے جہاں نہ کوئی سفارش چلے گی اور نہ ہی کوئی طاقت کام آئے گی۔ یہی یقین انسان کو ظلم، بددیانتی اور استحصال سے روکتا ہے۔
اسلامی اخلاقیات کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ نیتوں تک رسائی رکھتی ہے۔ یہاں سچائی صرف ایک سماجی قدر نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے، اور ظلم صرف قانونی جرم نہیں بلکہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا عمل ہے۔ یہی ہمہ جہت اخلاقی نظام انسان کو اندر اور باہر دونوں سطحوں پر سنوارتا ہے۔
سماجی سطح پر اسلام ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جس میں حقوق اور فرائض ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کوئی شخص مکمل طور پر آزاد نہیں اور نہ ہی مکمل طور پر مجبور۔ ہر ایک کے حقوق ہیں، مگر ان کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ حکمران ہو یا عام فرد، سب ایک ہی اصول کے تحت جوابدہ ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جو کسی بھی معاشرے کو انصاف اور استحکام فراہم کرتا ہے۔
آج کی دنیا کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ترقی کو تہذیب سمجھ لیا ہے، اور آزادی کو لاقانونیت۔ جب اخلاقیات کو محض ذاتی رائے بنا دیا جائے تو پھر اچھائی اور برائی کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔ ایسے میں طاقتور اپنی مرضی کو قانون بنا لیتا ہے، اور کمزور انصاف کے لیے ترستا رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا سے بے نیازی انسان کو وقتی طور پر بااختیار تو بنا سکتی ہے، مگر اسے حقیقی معنوں میں مہذب نہیں بنا سکتی۔ ایک پائیدار، منصفانہ اور باوقار معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب انسان اپنے خالق کو پہچان کر اس کے سامنے جوابدہی کا شعور اختیار کرے۔ یہی شعور اسے درندگی سے نکال کر انسانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے۔
لہذا سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا ترقی یافتہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کتنا جوابدہ، کتنا بااخلاق اور کتنا خدا شناس ہے۔ کیونکہ تہذیب کا اصل معیار یہی ہے، اور یہی وہ لکیر ہے جو انسان اور درندے کے درمیان فرق قائم کرتی ہے۔