آئیے ہم اردو والے اپنے آپ پر روتے ہیں!... تنویر احمد

ہم لوگوں نے اُردو اخبارات کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو اس طرح فراموش کرنا شروع کر دیا کہ اب بڑی غلطیوں کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال صرف بہار کے اخبارات کی نہیں ہے، بیشتر ریاستوں میں یہی حال ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر احمد

ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے پر ریاست بہار سمیت پورے ملک میں تقاریب کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ بڑے بڑے دعوے کیے گئے اور تقاریر میں خوشنما الفاظ کا استعمال بھی ہوا۔ اردو صحافت کی آبیاری کر رہے کچھ صحافیوں نے اس شعبہ کے تلخ حقائق بھی سامنے رکھے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ اُردو صحافت تو چھوڑیے، خلوص نیتی کے ساتھ بقائے اُردو کی جنگ لڑنے والے افراد بھی گنے چنے نظر آتے ہیں، اور وہ بھی علیحدہ علیحدہ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اُردو کے نام پر روٹی سینکنے والوں کا بھلے ہی کچھ فائدہ ہو جائے، اُردو کا تو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ اس کی تازہ مثال 5 مئی 2022 کا روزنامہ فاروقی تنظیم (پٹنہ ایڈیشن) ہے جس کے صفحہ اول نے اُردو کا جنازہ نکال دیا ہے۔ حالانکہ اُردو کا جنازہ تو پہلے بھی کئی بار مختلف انداز میں اور بڑے دھوم دھام کے ساتھ نکل چکا ہے، لیکن ہر بار اُردو خود کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور پھر ہم اس کی موت کا سامان کرتے نظر آ جاتے ہیں۔

دراصل روزنامہ فاروقی تنظیم کے دفتر میں گزشتہ روز عید ملن کے لیے وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار کی آمد ہوئی تھی۔ یہ خبر صفحہ اول پر لگی اور اس میں ایسی ایسی غلطیاں موجود ہیں کہ دل ماننے کو تیار نہیں کہ کسی اردو داں نے اسے تیار کیا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ غلطیاں دیگر اخبارات میں نہیں ہوتیں۔ مشہور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ (5 مئی) کے صفحہ اول پر نتیش کمار کی ہی خبر میں غلطیاں موجود ہیں، اور پھر روزنامہ ’پندار‘ (5 مئی) میں بھی پہلے ہی صفحہ پر اسٹاف رپورٹر کی خبر میں غلطی ہے۔ لیکن ہر خبر میں املے اور جملے کی دو چار غلطیوں کو رفع دفع ہی تصور کیا جاتا ہے۔ قارئین بھی سمجھتے ہیں کہ اردو اخبارات کے سامنے کئی مسائل ہیں اور ملازمین کی کمی کا نتیجہ خبروں کے معیار پر پڑتا ہے۔ لیکن ’فاروقی تنظیم‘ نے تو امارت شرعیہ کو عمارت شریعت، ادارہ شرعیہ کو ادارہ شریعت، غلام رسول بلیاوی کو غلام رسول بلیو، خانقاہ منعمیہ کو خانقاہ مُنامیہ، اور میتن گھاٹ کو مٹن گھاٹ لکھ کر سب کو حیران کر دیا۔ ’اُردو میڈیا‘ نامی ایک وہاٹس ایپ گروپ پر ’فاروقی تنظیم‘ کا خوب مذاق بن رہا ہے، لیکن یہ وقت کسی ایک اخبار کا مذاق اڑانے کا نہیں، ہم اُردو والوں کو اپنے آپ پر رونے کا ہے۔ ہم لوگوں نے اُردو اخبارات کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو اس طرح فراموش کرنا شروع کر دیا کہ اب بڑی غلطیوں کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال صرف بہار کے اخبارات کی نہیں ہے، بیشتر ریاستوں میں یہی حال ہے۔ بلکہ بہار میں اُردو اور اُردو اخبارات کے حالات کچھ بہتر ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم (بہار والے) مقابلہ نچلے پائیدان سے نمبر وَن آنے کے لیے شروع کر دیں۔


’اُردو میڈیا‘ کے وہاٹس ایپ گروپ پر ’فاروقی تنظیم‘ کی خبر پر آنسو بہاتے ہوئے ایک شخص نے لکھا ہے ’’جس نیوز پیپر کا چیف ایڈیٹر، بیورو چیف اردو داں نہیں ہو، اس کا یہی حشر ہوتا ہے۔ (اخبار کے) مالک کو غلطی کے لیے عوام سے معافی مانگ لینی چاہیے۔‘‘ لیکن کیا یہاں ساری غلطی مالک کی ہے، یا پھر اسے صرف اس لیے معافی مانگ لینی چاہیے کہ وہ اخبار کا مالک ہے؟ ہاں، یہ ٹھیک ہے کہ پیسہ بچانے کے لیے اخبار کا مالک اہل لوگوں کی جگہ نااہل لوگوں کو ملازمت دیتا ہے، پھر بھی کیا نااہل لوگوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خود کو اہل بنانے کے لیے تگ و دو کرے۔ ویسے آپ ملک کے تین بڑے اخبارات کا نام سوچیے، اور پھر یہ پتہ کیجیے کہ کیا اس کے مالک اردو داں ہیں! ظاہر سی بات ہے مالک اردو داں ہو یا نہ ہو، اس کو اردو سے محبت ہونی چاہیے، یا پھر اُردو میں (کمرشیل) فائدہ نظر آنا چاہیے۔ اردو خبروں کا معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری اسٹاف رپورٹر کی ہوتی ہے، اور اگر کچھ نوک پلک درست کرنا ہو تو اس کے لیے سینئر صحافی ہر اخبار میں موجود ہیں۔ اب کوئی اپنی ذمہ داری سے بھاگنا چاہے تو اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نتیش کمار کے عید ملن کی خبر ہی قومی تنظیم، فاروقی تنظیم اور پندار (میں نے آج ان تینوں کے علاوہ اور کسی اخبار کا مطالعہ نہیں کیا) میں دیکھ لیجیے۔ پڑھ کر صاف اندازہ ہوگا کہ کہاں خانہ پری ہوئی ہے اور کہاں صحافتی معیار کے لیے محنت کی گئی ہے۔ عتیق الرحمن شعبان شاباشی کے مستحق ہیں جو لگاتار سہل اور اچھی زبان میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ سنگم سے قومی تنظیم، اور پھر وہاں سے پندار کا سفر ان کے لیے بہت حوصلہ افزا بھلے ہی نہ رہا ہو، لیکن انھوں نے اپنی کارکردگی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ بہار میں ایسے کئی اسٹاف رپورٹرس ہیں جو اُردو صحافت کی آبرو بچائے ہوئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ایسے لوگ اپنے ساتھی رپورٹرس کی رہنمائی کریں، حوصلہ افزائی کریں اور انھیں بہتر رپورٹنگ کے اصول سمجھائیں۔ اسٹاف رپورٹرس کو مقابلہ اس کے لیے نہیں کرنا ہے کہ اس کے پاس جانکاری کتنی ہے، بلکہ مقابلہ اس کے لیے کرنا ہے کہ اس جانکاری کو وہ کتنے بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ اسٹاف رپورٹرس کو چاہیے کہ ایک ساتھ بیٹھ کر اپنی خبروں پر ڈسکشن کریں، اصلاح کے مقصد سے اس میں غلطیاں نکالیں، اور پھر اگلی رپورٹنگ کے لیے کمر کس لیں۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر آئیے، ہم اُردو والے اپنے آپ پر روتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔