اسلام: عصرِ حاضر کی ناگزیر ضرورت...ایف اے مجیب

یہ حقیقت عیاں ہے کہ ترقی اور تہذیب کا معیار صرف بلند عمارتیں، طاقتور معیشتیں یا جدید ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ کسی بھی تہذیب کی اصل قوت اس کے اخلاق، انصاف، دیانت اور انسانی ہمدردی میں پوشیدہ ہوتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ رہنمائی سے دوری ہے۔ انسان نے وقت کے ساتھ اپنی مادی زندگی کو حیرت انگیز حد تک ترقی دی۔ اس نے سمندروں کی تہیں کھنگالیں، خلا کی وسعتوں کو مسخر کیا، مصنوعی ذہانت تخلیق کی، لمحوں میں دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا اور آسائشوں کے ایسے ذرائع پیدا کیے جن کا چند صدی پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود وہ آج بھی بے سکونی، اخلاقی انتشار، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، معاشی ناہمواری، طاقت کے ناجائز استعمال اور روحانی خلا جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس سے ایک بنیادی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسان کو صرف ترقی نہیں، بلکہ ایسی رہنمائی بھی درکار ہے جو اس کی عقل کو قائل کرے، اس کی فطرت سے ہم آہنگ ہو اور اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو متوازن بنیادیں فراہم کرے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے یہی رہنمائی ابتدا ہی سے انسان کو فراہم کی گئی۔ اسلام کسی مخصوص زمانے میں وجود میں آنے والا مذہب نہیں، بلکہ وہی دینِ فطرت ہے جس کے ساتھ حضرت آدمؑ کو زمین پر بھیجا گیا۔ انسان کو اس دنیا میں تنہا نہیں چھوڑا گیا بلکہ ہر دور میں انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے تاکہ وہ انسان کو اس کے خالق سے جوڑیں، اخلاقی اقدار کو زندہ کریں اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیں۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور دیگر تمام انبیائے کرام علیہم السلام اسی ایک سلسلۂ ہدایت کی کڑیاں تھے۔ ان کی دعوت کا مرکز ایک خدا کی بندگی، انسانی مساوات، اخلاق، امانت، عدل اور رحمت تھا۔

مذہبی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اختلاف ہدایت میں نہیں بلکہ انسان کے رویّوں میں پیدا ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب لوگوں نے وحی کی اصل تعلیمات سے دوری اختیار کی، شخصیات کو اصولوں پر، رسم کو روح پر اور مفادات کو حق پر ترجیح دی تو مذہبی اختلافات جنم لیتے گئے۔ مختلف مذہبی روایتیں وجود میں آئیں اور ان کے اندر بھی متعدد فرقے بن گئے۔ ایسے ہر دور میں اصلاح کی کوششیں بھی ہوتی رہیں، یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ پر اسی ابدی دین کی تکمیل ہوئی۔ قرآن مجید آخری الہامی کتاب کی حیثیت سے نازل ہوا، جو آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، اور نبوت کا سلسلہ مکمل ہو گیا۔ آخری الہامی کتاب قرآن میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اب قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے یہی دین اور یہی الہامی کتاب کافی ہیں۔

اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی زندگی کو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ وہ عبادت کو مسجد تک محدود نہیں کرتا اور اخلاق کو محض نصیحت نہیں بناتا، بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو ایک ہی اخلاقی اصول سے جوڑ دیتا ہے۔ انسان کا اپنے رب سے تعلق بھی اہم ہے اور انسان کا انسان سے تعلق بھی۔ نماز انسان کے اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرتی ہے، روزہ ضبطِ نفس سکھاتا ہے، زکوٰۃ معاشی ہمدردی اور سماجی توازن کی بنیاد بنتی ہے، جبکہ خاندان، تجارت، عدلیہ، حکومت اور معاشرت کے لیے بھی واضح اصول متعین کیے گئے ہیں۔ یہی جامعیت اسلام کو محض عقائد یا عبادات کے مجموعے کے بجائے ایک مکمل نظامِ حیات بناتی ہے۔


آج کا سب سے بڑا بحران علم کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی سمت کا فقدان ہے۔ دنیا کے پاس بے مثال ٹیکنالوجی ہے، مگر وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ طاقت کا استعمال انصاف کے لیے ہونا چاہیے یا غلبے کے لیے؛ معیشت انسان کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے یا چند ہاتھوں میں دولت سمیٹنے کے لیے؛ آزادی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے یا ہر حد سے آزاد ہو کر۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کا تعلق سائنس سے نہیں بلکہ اخلاق اور اقدار سے ہے، اور یہی وہ میدان ہے جہاں اسلام کی تعلیمات اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔

اگر اسلام کی تعلیمات کو ان کے اصل مآخذ اور بنیادی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت توازن ہے۔ اسلام انسان کو نہ محض روحانی مخلوق سمجھتا ہے اور نہ صرف مادی وجود، بلکہ وہ اس کی جسمانی، ذہنی، روحانی، اخلاقی اور سماجی ضروریات کو ایک ساتھ پیشِ نظر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات عبادت کے ساتھ کردار، حقوق کے ساتھ فرائض، آزادی کے ساتھ جواب دہی، دولت کے ساتھ امانت اور اقتدار کے ساتھ انصاف کو لازم قرار دیتی ہیں۔ یہ توازن ہی کسی بھی پائیدار تہذیب کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اسلام فرد کی اصلاح سے معاشرے کی تعمیر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ سچائی، دیانت، عدل، رحم، عفو، صبر، حسنِ سلوک اور امانت داری کو محض اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ والدین کے حقوق ہوں یا اولاد کی تربیت، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک ہو یا ضرورت مندوں کی مدد، تجارت میں دیانت ہو یا عدالتی انصاف، اسلام ہر مقام پر انسان کو اس کے عمل کی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں عبادت اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔

معاشی زندگی میں اسلام اعتدال اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ محنت، تجارت اور جائز ملکیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، لیکن دولت کو محض ذاتی اختیار نہیں بلکہ ایک امانت بھی قرار دیتا ہے۔ اسی طرح اقتدار کو غلبے کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت اور جواب دہی کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اگر ان اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل ہو تو معاشی استحصال، بدعنوانی، ناانصافی اور سماجی بے اعتمادی جیسے مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔


اسی طرح علم کے بارے میں اسلام کا تصور بھی غیر معمولی ہے۔ وہ انسان کو غوروفکر، تحقیق، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سکھاتا ہے کہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ انسانیت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ موجودہ دور میں، جب مصنوعی ذہانت اور سائنسی ترقی انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے، یہ توازن پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام کی تصویر ہمیشہ مسلمانوں کے طرزِ عمل سے پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمان اپنی کمزوریوں، سیاسی اختلافات اور اخلاقی لغزشوں کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ تاہم کسی بھی فکر یا نظریے کا جائزہ اس کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، نہ کہ اس کے ہر ماننے والے کے عمل سے۔ اسلام کے اصل مآخذ آج بھی محفوظ ہیں اور اس کی بنیادی تعلیمات—توحید، عدل، رحمت، علم، امانت، مساوات اور انسانی وقار—آج بھی اسی طرح موجود ہیں جیسے ابتدا میں تھیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عصرِ حاضر کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس لیے کہ دنیا کو ایسے اخلاقی اصولوں کی ضرورت ہے جو انسان کو اس کے خالق سے بھی جوڑیں اور اس کے معاشرے کو بھی سنواریں؛ جو حقوق کے ساتھ فرائض، آزادی کے ساتھ ذمہ داری، ترقی کے ساتھ انصاف اور طاقت کے ساتھ رحم کا شعور پیدا کریں۔ مکمل اور فطری و منطقی دین اسلام آخری الہامی کتاب قرآن مجید اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔

آج کی دنیا شاید پہلے سے زیادہ اس حقیقت کی محتاج ہے کہ ترقی اور تہذیب کا معیار صرف بلند عمارتیں، طاقتور معیشتیں یا جدید ٹیکنالوجی نہیں ہوتیں۔ کسی بھی تہذیب کی اصل قوت اس کے اخلاق، اس کے انصاف، اس کی دیانت، اس کے خاندانی استحکام اور اس کی انسانی ہمدردی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسلام انہی اقدار کو زندگی کا مرکز بناتا ہے۔ اسی لیے اسلام صرف ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو ہر دور کی طرح آج بھی انسان کو مقصد، توازن اور رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلام کو عصرِ حاضر کی ناگزیر ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔