دین بھی تلاش کا موضوع ہے، وراثت کا نہیں...ایف اے مجیب
جس طرح انسان دنیاوی معاملات میں تحقیق اور بہترین انتخاب کرتا ہے، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی تعصب یا روایت کے بجائے عقل، فطرت، اخلاق، تاریخی اعتبار اور وحی کی بنیاد پر حق کی جستجو ضروری ہے۔

انسان کی پوری زندگی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ وہ پیدائش سے لے کر موت تک ہر اس چیز کی جستجو کرتا ہے جو اس کے لیے بہتر، مفید اور پائیدار ہو۔ وہ بہتر تعلیم چاہتا ہے، بہترین معالج کی تلاش کرتا ہے، کاروبار میں اچھے مواقع ڈھونڈتا ہے، رہائش کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کرتا ہے اور حتیٰ کہ معمولی اشیاء خریدتے وقت بھی معیار، قیمت اور افادیت کا موازنہ کرتا ہے۔ گویا انسان کی عقل اسے یہی سکھاتی ہے کہ کسی اہم معاملے میں محض روایت، جذبات یا اتفاق پر اعتماد نہ کرے بلکہ تحقیق، مشاہدہ اور دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب معاملہ دین کا آتا ہے، جو انسان کی پوری زندگی، اس کے اخلاق، اس کے مقصدِ وجود اور اس کی آخرت سے تعلق رکھتا ہے، تو اکثر لوگ تحقیق کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ بہت سے افراد وہی دین اختیار کیے رکھتے ہیں جو انہیں خاندان، معاشرے یا ماحول سے وراثت میں ملا، مگر کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ کیا یہ واقعی حق ہے؟ کیا یہ عقل، فطرت اور تاریخ کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے؟ کیا اس کے عقائد اور تعلیمات انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں؟ اگر ہم دنیا کے عارضی معاملات میں تحقیق کو ضروری سمجھتے ہیں تو پھر زندگی کے سب سے بڑے معاملے میں تحقیق سے گریز کیوں؟
حق کا متلاشی انسان تعصب کا قیدی نہیں ہوتا۔ وہ پہلے نتیجہ طے نہیں کرتا بلکہ دلائل کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ شخصیتوں سے زیادہ اصولوں کو دیکھتا ہے، جذبات سے زیادہ حقیقت کو اہمیت دیتا ہے اور اکثریت کے بجائے دلیل کی پیروی کرتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے انسانی تاریخ میں علم، سائنس اور تہذیب کو ترقی دی۔ یہی اصول دین کے باب میں بھی اختیار ہونا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ دین کو پرکھنے کی کسوٹی کیا ہونی چاہیے؟ پہلی کسوٹی عقل ہے۔ سچا دین عقل سے متصادم نہیں ہو سکتا، اگرچہ وہ عقل سے بلند حقائق ضرور بیان کر سکتا ہے۔ دوسری کسوٹی فطرت ہے۔ انسان کے اندر حق، عدل، محبت، رحم اور خیر کی ایک فطری آواز موجود ہے۔ جو دین اس فطرت سے ہم آہنگ ہو، وہ زیادہ قابلِ غور ہے۔ تیسری کسوٹی اخلاق ہے۔ کیا وہ دین انسان کو سچائی، انصاف، امانت، عفت اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتا ہے؟ چوتھی کسوٹی تاریخی اعتبار اور وحی کی حفاظت ہے۔ کیا اس کی بنیادی تعلیمات محفوظ رہی ہیں یا وقت کے ساتھ ان میں انسانی مداخلت شامل ہو گئی؟ پانچویں کسوٹی عملی نتائج ہیں۔ کیا اس دین پر عمل کرنے سے فرد اور معاشرہ بہتر بنتا ہے؟
اسلام انہی تمام سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن انسان سے یہ نہیں کہتا کہ آنکھیں بند کرکے ایمان لے آؤ، بلکہ بار بار سوال کرتا ہے: کیا تم غور نہیں کرتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ کیا تم کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کو نہیں دیکھتے؟ آسمان و زمین کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، بارش کا نظام، انسانی پیدائش، تاریخ کے نشیب و فراز اور خود انسان کے نفس کو وہ حق کی نشانیاں قرار دیتا ہے۔ گویا اسلام کا مقدمہ اندھی تقلید پر نہیں بلکہ غور و فکر، مشاہدے اور دلیل پر قائم ہے۔
اسلام کا سب سے بنیادی دعویٰ توحید ہے۔ اگر پوری کائنات ایک مربوط نظام کے تحت چل رہی ہے، اگر اس کے قوانین میں حیرت انگیز ہم آہنگی اور نظم پایا جاتا ہے، تو عقل یہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کے پیچھے ایک ہی کامل، حکیم اور قادر ہستی ہو۔ متعدد خودمختار خداؤں کا تصور اس وحدت اور نظم کی معقول توجیہ پیش نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کائنات کے نظم کو توحید کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اسلام انسان کو اس کی اصل حیثیت بھی یاد دلاتا ہے۔ وہ نہ انسان کو محض ایک حیوان سمجھتا ہے اور نہ اسے خدا کا حصہ قرار دیتا ہے، بلکہ اسے ایک باعزت، بااختیار اور جواب دہ مخلوق قرار دیتا ہے۔ یہی تصور انسانی آزادی اور اخلاقی ذمہ داری دونوں کی بنیاد بنتا ہے۔
اسلام کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ دین کو صرف عبادات تک محدود نہیں رکھتا۔ اس کے نزدیک عبادت، اخلاق، معیشت، عدل، خاندان، معاشرت اور حکمرانی سب ایک ہی اخلاقی نظام کے اجزا ہیں۔ وہ انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ مسجد میں نیک اور بازار میں بے انصاف بن جاؤ، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک ہی رب کی اطاعت اور ایک ہی اخلاقی معیار کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی جامعیت اسے محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بناتی ہے۔
قرآن مجید کی حفاظت بھی اسلام کے حق میں ایک منفرد دلیل ہے۔ دنیا کی مذہبی تاریخ میں کم ہی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی آسمانی کتاب کا متن صدیوں تک اسی صورت میں محفوظ رہا ہو جس صورت میں وہ نازل ہوا تھا۔ لاکھوں انسانوں کا اسے زبانی یاد کرنا اور نسل در نسل اسی متن کا منتقل ہونا ایک غیر معمولی تاریخی حقیقت ہے، جس نے اس کے اصل پیغام کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اسلام کی دعوت کسی نسل، زبان یا قوم تک محدود نہیں۔ وہ تمام انسانوں کو ایک ہی خاندان قرار دیتا ہے اور تقویٰ و کردار کو فضیلت کی بنیاد بناتا ہے، نہ کہ رنگ، نسل یا دولت کو۔ مساوات، عدل، رحم، امانت، حقوق العباد اور علم کی ترغیب اس کے بنیادی اصول ہیں۔ یہی اصول انسانی معاشرے کو امن اور توازن فراہم کرتے ہیں۔
البتہ اسلام خود بھی یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایمان جبر سے پیدا نہیں ہوتا۔ حق واضح کیا جا سکتا ہے، دلیل دی جا سکتی ہے، مگر فیصلہ انسان کے اپنے شعور اور ذمہ داری پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار دعوت دیتا ہے کہ انسان تعصب سے نکلے، غور کرے، دلیل سنے اور پھر انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے۔
اگر انسان دنیا کے ہر اہم معاملے میں بہترین چیز تلاش کرتا ہے، تو کیا دین اس سے کم اہم ہے؟ کیا یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی پیدائش کے مقصد، اپنے خالق، اپنی منزل اور اپنی آخری کامیابی کے بارے میں بھی اسی سنجیدگی سے تحقیق کرے؟ شاید حق کی طرف پہلا قدم یہی ہے کہ ہم وراثت کے بجائے حقیقت کو معیار بنائیں، تعصب کے بجائے دلیل کو ترجیح دیں اور جذبات کے بجائے عقل، فطرت اور وحی کے باہمی اتفاق کو اپنا رہنما بنائیں۔
جب انسان اس دیانت کے ساتھ تلاش شروع کرتا ہے تو اس کے سامنے اسلام محض ایک موروثی مذہب نہیں بلکہ ایک ایسی دعوت کے طور پر ابھرتا ہے جو عقل کو مخاطب کرتی ہے، فطرت سے ہم آہنگ ہے، اخلاق کو سنوارتی ہے، تاریخ کے امتحان سے گزری ہے اور انسان کو ایک خدا، ایک انسانیت اور ایک جواب دہ زندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جہاں تحقیق، فطرت اور وحی ایک دوسرے کی تائید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
