ہندوستان میں پرائمری تعلیم کی صورت حال تشویش ناک، تقریباً ایک لاکھ اسکول بند...سہیل انجم

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران 25 اسکول یومیہ بند ہو رہے ہیں۔ اس مدت میں تقریباً ایک لاکھ اسکول بند کیے جا چکے ہیں۔ 2014-15 میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 11 لاکھ 7 ہزار تھی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ جو قومیں تعلیم میں پیچھے ہیں وہ تمام شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو ایک انسان کو مہذب بناتا اور دنیاوی مقابلے اور چیلنجز کا سامنا کرنے کا اہل بناتا ہے۔ اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جن ملکوں میں تعلیمی مواقع کم ہیں یا حصول تعلیم کی سہولتیں ناپید ہیں وہ ملک پسماندہ ہیں۔ وہاں روزگار کی کمی ہے۔ وہاں کے عوام تہذیب و شائستگی سے دور ہیں۔ ان کا بیشتر وقت جرائم میں گزرتا ہے۔ لیکن جو ممالک تعلیم یافتہ ہیں وہاں کے لوگ ترقی یافتہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ملکوں کی حکومتیں تعلیم کو فروغ دینے کے منصوبے بناتی اور ان پر سنجیدگی سے عمل کرتی ہیں۔ دنیا کے متعدد ملکوں میں آفاقی تعلیم کا نظام رائج ہے جن میں کم از کم چودہ سال تک بچوں کو تعلیم دینے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی اس سلسلے میں کافی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور بچوں تک تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کی اسکیمیں چلائی جاتی رہی ہیں۔ حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ ملک کا ایک بھی بچہ ان پڑھ نہ رہے۔ اسی مقصد کے تحت ’سرو شکشا ابھیان‘ نامی ایک مہم شروع کی گئی تھی۔

سرو شکشا ابھیان حکومت ہند کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے جس کا مقصد چھ سے چودھ سال تک کے بچوں کو پرائمری تعلیم سے مزین کرنا ہے۔ یہ پروگرام 2001-02 میں لانچ کیا گیا اور اسے ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کا مقصد بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم تک رسائی دینا، اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو لانا، جنس اور طبقے کی بنیاد پر جو فرق ہے اس کو مٹانا اور پرائمری اسکول کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد صرف بچوں کو داخلہ دینا نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی فراہمی، سیکھنے کے نتائج اور کمیونٹی کی شراکت پر توجہ مرکوز کرنا بھی تھا۔ حکومت نے 2009 میں ایک قانون منظور کیا جس کا نام ’رائٹ ٹو ایجوکیشن‘ یعنی تعلیم کا حق ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد سرو شکشا ابھیان کے تحت اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن گزشتہ دس برسوں میں تعلیم میں گراوٹ دیکھی گئی ہے اور یہ سلسلہ مزید تیز ہو رہا ہے۔ چند روز قبل نیتی آیوگ نے ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے جو ملک میں تعلیم کی تشویش ناک صورت حال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران 25 اسکول یومیہ بند ہو رہے ہیں۔ اس مدت میں تقریباً ایک لاکھ اسکول بند کیے جا چکے ہیں۔ 2014-15 میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 11 لاکھ 7 ہزار تھی جو اب گھٹ کر 10 لاکھ 13 ہزار رہ گئی ہے۔ اس اثنا میں سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کی تعداد بھی گھٹی ہے۔ پہلے ایسے اسکولوں کی تعداد 83 ہزار تھی جو اب کم ہو کر 79 ہزار رہ گئی ہے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس دوران پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد بڑھی ہے۔ دس سال قبل پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد دو لاکھ 88 ہزار تھی جو اب بڑھ کر تین لاکھ 39 ہزار ہو گئی ہے۔ گویا جو کام حکومت کو کرنا چاہیے وہ نجی طور پر کیا جا رہا ہے۔ یہ بات حکومت کے لیے باعث شرم ہے کہ اس کا کام عوام ذاتی طور پر کر رہے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق 2014 میں 26 کروڑ 95 لاکھ بچوں نے اسکولوں میں نام لکھوایا تھا مگر 2024-25 میں نام لکھوانے والے بچوں کی تعداد 24 کروڑ 69 لاکھ تک ہی رہ گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نام لکھوانے کی شرح میں گراوٹ کی وجہ لوگوں کا رہائش کے لیے ادھر سے ادھر جانا، شرح پیدائش میں کمی اور اسکولوں کا دوسرے اسکولوں میں انضمام کرنا ہے۔ جن اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم نظر آتی ہے ان کو دوسرے اسکولوں میں ضم کر دیا جاتا ہے اور ا ن اسکولوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت اور نیتی آیوگ نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ جہاں بچے کم ہوں ان اسکولوں کو دوسرے اسکولوں میں ملا دیا جائے۔ لیکن اس انضمام کا جو نقصان ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان اسکولوں کے بچے تعلیم سے محروم کر دیے جا رہے ہیں۔

پہلے حکومتوں کی یہ پالیسی ہوا کرتی تھی کہ کسی اسکول میں چند ہی بچے ہوں جب بھی ان کو پڑھانے کے لیے ٹیچروں کا انتظام کیا جائے تاکہ ایک بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ لیکن اب حکومت کی پالیسی یہ ہو گئی ہے کہ جہاں کم بچے ہوں ان کو بند کر دیا جائے۔ ایسے اسکولوں کو دوسرے اسکولوں میں ضم کرنے کی وجہ سے اسکول آبادیوں کے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے غریب بچے ان اسکولوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ آمد و رفت کی سہولتوں میں کمی، دور دراز کے علاقوں میں آنے جانے میں دشواری اور اسی قسم کے دیگر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو بچوں کو اسکول جانے سے روکتے ہیں۔ ایک ماہر تعلیم مترا رنجن کے مطابق اسکولوں کے انضمام کی وجہ سے بچے بچے تک تعلیم کو پہنچانے کا مقصد فوت ہو گیا ہے۔ حالانکہ حکومت نے 2030 تک تعلیم کی عالم گیری یعنی ایک ایک بچے تک تعلیم کو پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن انضمام کی پالیسی اس ہدف کی حصولیابی میں روڑا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی اقتدار والی حکومتوں میں اسکولوں کے انضمام کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

اترپردیش بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے مطابق یوپی کی بی جے پی حکومت 70 ہزار اسکولوں کو بند کر چکی ہے اور ایسے ہزاروں اسکول ہیں جہاں داخلے نہیں ہو رہے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت منظم طریقے سے پرائمری تعلیم کے نظام کو تباہ کر رہی ہے۔ سیاست دانوں سے الگ ہٹ کر بہت سے ماہرین تعلیم بھی حکومت پر تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کا الزام عاید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حکومت تعلیم کی مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ عوام کی اکثریت ناخواندہ رہے تاکہ اس کی سیاست اسی طرح چلتی رہے۔ اگر لوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو وہ حکومت کے پروگراموں کو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں اندھ بھکتوں کا جو طبقہ پیدا ہو گیا ہے اس کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے۔

حالانکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ملک کے بچے بچے تک تعلیم پہنچانا چاہتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ تعلیم پر آنے والے غیر ضروری اخراجات کو بھی کم کرنا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جن اسکولوں میں چند ہی بچے ہوں وہاں ٹیچروں کی تنخواہ کی مد میں کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان اسکولوں کو بند کرکے یا ان کو دوسرے اسکولوں میں ضم کر کے غیر ضروری اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سوچ ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم پر توجہ دے اور پرائمری تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے میں تیزی لائے۔


اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے متعدد ادارے بھی بند ہو رہے ہیں۔ اخبار انڈین ایکسپریس نے ”آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکشین“ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2025-26 کے تعلیمی سال میں 58انجینئرنگ اور ٹیکنیکل کالجز بند ہو گئے۔ بند ہونے والے کالجز کی تعداد یوپی اور مہاراشٹر میں زیادہ ہے۔ صرف 2020-21 کے درمیان 180 پیشہ ورانہ کالجز بند ہوئے ہیں۔ ادھر حکومت نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گزشتہ دس برسوں میں یو جی سی نے 12 فرضی یونیورسٹیوں کو بند کیا ہے۔ بہرحال ملک میں تعلیم کی صورت حال بالخصوص پرائمری تعلیم کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو ضروری قدم اٹھانے چاہئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔