اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کرنے والے جسٹس مرلی دھر کو سلام...سہیل انجم
جسٹس ایس مرلی دھر نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی اور جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ اسرائیل نے رپورٹ کو بے بنیاد اور جانبدار قرار دے کر مسترد کر دیا

کیا آپ کو جسٹس ایس مرلی دھر یاد ہیں۔ وہی جسٹس مرلی دھر جنھوں نے 2020 کے دہلی فسادات میں بی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم صادر کیا تھا اور راتوں رات ان کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت ان کا نام سرخیوں میں آیا تھا اور وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور امن پسند افراد نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔ وہی جسٹس مرلی دھر ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں اور اس بار اس کی وجہ ان کی ایک رپورٹ ہے جو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے فلسطین کے چیئرمین کی حیثیت سے انھوں نے جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں انھوں نے غزہ کے معصوم بچوں کے قتل پر اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اسے نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کی یہ رپورٹ عالمی سطح پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اسرائیلی حکومت اس پر چراغ پا ہے۔
پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ ان کا راتوں رات تبادلہ کیوں ہوا تھا۔ جب دہلی میں مسلم مخالف فساد ہوا تھا تو اس وقت وہ دہلی ہائی کورٹ کے جج تھے۔ میڈیا میں بی جے پی لیڈروں کے تعلق سے جو رپورٹیں شائع ہو رہی تھیں ان کا لب لباب یہ تھا کہ ان کے بیانات کی وجہ سے فساد بھڑکا۔ لیکن جب کافی دنوں تک پولیس نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف کوئی رپورٹ درج نہیں کی تو جسٹس مرلی دھر نے رات میں اپنی رہائش گاہ پر عدالت لگائی تھی اور زخمیوں کے علاج پر زور دیا تھا۔ اگلی دوپہر کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے انھوں نے حکمراں جماعت کے لیڈروں کی ہیٹ اسپیچ پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے دہلی پولیس کی سرزنش کی تھی اور کہا کہ ہم دہلی میں ایک اور 1984 (سکھ مخالف فسادات جیسا فساد) نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے پولیس کو فوراً ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔
ان کے اس تبصرے پر ناراض ہو کر حکومت نے رات میں ایک نوٹی فکیشن جاری کرکے ان کا تبادلہ پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں کر دیا تھا۔ اس پر ملک گیر احتجاج ہوا تھا اور دہلی ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اس حکم کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ اڑیسہ ہائی کورٹ میں کر دیا گیا۔ اس کارروائی کی وجہ سے ان کی ترقی رک گئی اور وہ سپریم کورٹ کے جج بننے سے قبل ہی ریٹائر ہو گئے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کالجیم نے ان کے نام کی سفارش کی تھی مگر اس پر حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی۔ البتہ جب اڑیسہ ہائی کورٹ سے وہ ریٹائر ہوئے تو ان کو شاندار الوداعی پارٹی دی گئی اور وہاں کے وکلا ان کو الوداع کہنے کے لیے قطار اندر قطار کھڑے ہو گئے تھے۔ وہی جسٹس ایس مرلی دھر بعد میں اقوام متحدہ کمیشن برائے فلسطین کے چیئرمین مقرر کیے گئے اور اب ان کی رپورٹ عالمی میڈیا میں چھائی ہوئی ہے۔
کمیشن نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کی جانچ کی تو یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیلی فوجوں نے دو سال کے اندر غزہ کے 20 ہزار سے زائد بچوں کا قتل کیا ہے۔ یہ تعداد فلسطینی شہیدوں کی تیس فیصد ہے۔ جبکہ 44 ہزار بچے زخمی ہوئے ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ان بچوں کے خلاف اسنائپرز کا استعمال کیا اور ہدف بنا کر ان کو مارا گیا۔ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ اس رپوٹ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطین کے مغربی کنارے میں بچوں کو جنسی زیادتی اور من مانے انداز میں حراست میں لینے کی بھی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
ان کی اس رپورٹ پر اسرائیل چراغ پا ہو گیا ہے۔ اس نے رپورٹ کو پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں بے بنیاد الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ جبکہ کمیشن نے جو باتیں کہی ہیں ان کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ رپورٹ پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور ان کو کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو شرمناک، توہین آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ اس نے اسے جانبداری پر مبنی رپورٹ بتایا ہے۔ ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے بھی ان پر بے بنیاد رپورٹ پیش کرنے کا الزام عاید کیا۔ ان کے مطابق جسٹس مرلی دھر نے اپنی رپورٹ میں حماس کے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا جبکہ اس نے سیکڑوں اسرائیلیوں کو ہلاک کیا اور خواتین کی عصمت دری کی۔
اسرائلی مظالم کو صرف جسٹس مرلی دھر نے ہی بے نقاب نہیں کیا بلکہ متعدد عالمی رپورٹوں میں بھی اسے نسل کشی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کے متعدد ملکوں نے نیتن یاہو کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں بیانات دیے۔ عالمی عدالت انصاف نے ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا جس پر کئی ملکوں نے کہا کہ اگر نیتن یاہو ان کے ملک میں آئیں گے تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ گویا جسٹس مرلی دھر نے اپنی رپورٹ میں جو کچھ کہا ہے وہ بے بنیاد نہیں ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی باتوں کے تعلق سے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں۔ وہ ایک انصاف پسند جج رہے ہیں۔ ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بے بنیاد رپورٹ تیار کریں گے۔
دراصل نیتن یاہو کے بیانات ہوں یا ہندوستان میں اسرائیلی سفیر کے، ان لوگوں کو ہندوستان کے موقف سے بھی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل اور نیتن یاہو کی بارہا مواقع پر حمایت کی اس سے جہاں ہندوستان کا سابقہ موقف کمزور ہوا ہے وہیں اسرائیل کو حوصلہ ملا ہے۔ حالانکہ ہندوستان فلسطین کا حامی رہا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کی پرزور وکالت کرتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت نے سابقہ موقف کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن کو بھی مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔
اب یہی دیکھیے کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے ایک اخبار میں ایک مضمون لکھ کر جب فلسطین کی حمایت کی اور اسرائیلی بربریت پر ہندوستان کی خاموشی پر تنقید کی تو اس پر بی جے پی ناراض ہو گئی۔ سونیا گاندھی کے مطابق اگر ہندوستان نے اپنی روایتی اور متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھی ہوتی تو مغربی ایشیا میں اس کا کردار کہیں زیادہ مؤثر ہوتا۔ آج ہندوستان پورے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہوتا۔ لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا اور پاکستان کا کردار بڑھ گیا۔ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے ممالک کے ساتھ متوازن اور قابل اعتماد تعلقات قائم کر رکھے تھے لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی خاموشی اور اسرائیل کی جانب جھکاو نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ان کے اس مضمون پر بی جے پی مشتعل ہو گئی اور اس نے اسے ووٹ بینک کی سیاست جوڑ دیا۔ اس کا الزام ہے کہ کانگریس ہمیشہ خارجہ پالیسی کو ووٹ بینک کی سیاست سے جوڑتی رہی ہے۔ پارٹی حماس کی ہمدرد ہے اس نے اس کی مذمت کبھی نہیں کی۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ خود سونیا گاندھی کے اسی مضمون میں حماس کی جانب سے اسرائیل میں حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ لیکن بی جے پی کو صرف ووٹ بینک نظر آتا ہے۔ جبکہ اس کی خود اپنی سیاست کی اساس ووٹ بینک پر ہے۔ اس کی تمام پالیسیاں اور تمام پروگرام اسی ووٹ بینک کے محور پر گردش کرتے ہیں۔ بی جے پی کو معلوم ہونا چاہیے کہ فلسطین کا معاملہ ووٹ بینک کا نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ سونیا گاندھی نے انسانی رشتے کے ناطے یہ مضمون لکھا ہے۔ لیکن بی جے پی کو انسانیت کا یہ رشتہ نظر نہیں آتا۔
بہرحال ہم نے مضمون کا آغاز جسٹس مرلی دھر کی رپورٹ سے کیا تھا اور اختتام سونیا گاندھی کے مضمون پر کیا ہے۔ بلا شبہ مرلی دھر کی رپورٹ بھی اہم ہے اور سونیا گاندھی کا مضمون بھی۔ دونوں شخصیات مبارکباد کی مستحق ہیں۔
