امریکہ ایران معاہدے کے شور میں غزہ میں اسرائیلی بربریت کو بھلا دیا گیا...سہیل انجم
امریکہ-ایران جنگ بندی کے بعد دنیا غزہ کو بھولتی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیلی کارروائیاں، فائرنگ، ناکہ بندی اور انسانی بحران بدستور جاری ہیں اور فلسطینیوں کی زندگی پہلے کی طرح غیر محفوظ ہے

’’بیشتر مغربی عوام جو کہ عالمی خبروں سے باخبر رہتے ہیں، سات ماہ کے فلسطینی بچے سیم فہد ابو ہیکل کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جسے اسی ماہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی علاقے میں چہرے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ان کو اس علاقے میں اسرائیلی افواج کی مسلسل بربریت کے بارے میں بھی شاید کچھ نہیں معلوم۔ مغربی عوام سنجیل جیسے فلسطینی مواضعات کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جہاں خاردار تاروں کی باڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگوں کو اپنی ہی زمینوں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ خبروں میں ان واقعات کا کوئی ذکر نہیں ہوتا کہ اسرائیلی بازآبادکار کس طرح مقامی لوگوں کے مکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرتے، ان کو ڈراتے دھمکاتے اور ان کو اذیت رسانی کا نشانہ بناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کا نصف سے زاید علاقہ اسرائیلی آبادکاروں کے قبضے میں ہے اور فلسطینی بھوک پیاس سے مر رہے ہیں اور انہیں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔‘‘
یہ اقتباس فلسطین کے ایک ایڈووکیٹ احمد اِباسائس کے اس مضمون کا ہے جو عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دنیا نے امریکہ-ایران معاہدے کے شور میں غزہ کو بھلا دیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ تو غزہ میں شروع کی تھی ایران میں بعد میں شروع ہوئی اور ایران مخالف جنگ دراصل غزہ جنگ کی توسیع تھی۔ امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ تو ہو گیا لیکن غزہ کی صورت حال کیا ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ حالانکہ حماس اور اسرائیل کے درمیان بھی جنگ بندی ہوئی ہے اور یہ جنگ بندی گزشتہ سال اکتوبر میں ہوئی تھی لیکن کیا واقعی وہاں جنگ بندی پر عمل ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی صرف نام کی ہے۔ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں اسی طرح جاری ہیں جیسی کہ جنگ بندی سے قبل جاری تھیں۔
جنگ بندی ہونے کے بعد اسرائیلی فوجوں نے دو ہزار سے زیادہ مواقع پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس درمیان تقریباً ایک ہزار فلسطینیوں کو جن میں اکثریت بچوں کی ہے، گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں ایلو لائن بنا رکھی ہے۔ یعنی فلسطینیوں کو اس ایلو لائن کو عبور کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ ایلو لائن کے اند رکا پورا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ اگر غلطی سے بھی کوئی فلسطینی نام نہاد ایلو لائن کو عبور کرتا ہے یا اس کے قریب پہنچتا ہے تو اسرائیلی فوجی فوراً گولی چلا دیتے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی بربریت جاری ہے۔ عمارتیں منہدم کی جا رہی ہیں۔ بچے اور بڑے مر رہے ہیں۔ خطرناک ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوجیوں نے چپے چپے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ڈرون اب بھی اڑ رہے ہیں۔ بلڈوزر اپنا کام کر رہے ہیں اور دنیا کہہ رہی ہے کہ غزہ میں سیز فائر نافذ ہے۔
اس مضمون میں وہاں کی صورت حال کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں جن کے مطابق اہل غزہ اب بھی بھوک پیاس سے مر رہے ہیں۔ انسانی امداد کو ان کا حق نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے حساب کتاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان تک غذائی اشیا صرف اتنی مقدار میں پہنچانے کی اجازت ہے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔ مارچ کے وسط میں جیسے ہی دنیا کی توجہ ایران کی طرف مبذول ہوئی اسرائیلی فوج نے امدادی تنظیموں کو نقشے بھیجے اور ان کو ہدایت دی کہ وہ کہاں جا سکتے ہیں کہاں نہیں اور یہ کہ ان کا قافلہ کن حدود سے باہر نکل رہا ہے۔ مئی میں آبادکاروں کی ایک کانفرنس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو فلسطین کے 67 فیصد علاقے تک پہنچنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس پر آبادکاروں کے ہجوم نے چیخ کر کہا کہ انہیں 100 فیصد فلسطین چاہیے جس پر نیتن یاہو نے کہا کہ پہلے 70 فیصد علاقے کو لے لیں بعد میں دیکھا جائے گا۔
وہاں کی صورت حال یہ ہے کہ فلسطینی اب اپنے علاقے کے تقریباً دو تہائی علاقے تک نہیں پہنچ سکتے۔ان علاقوں میں غزہ کی تقریباً تمام کھیتی باڑی کا علاقہ شامل ہے جو کہ ایلو لائن کے مشرق میں واقع ہے۔ کسانوں کو اپنی زمین تک پہنچنے کی کوشش کرنے پر گولی مار دی جاتی ہے۔ ماہی گیروں کو سمندر تک پہنچنے کی کوشش میں مار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ان کے گھروں کو واپس جانے کی کوشش سے باز رکھا جاتا ہے۔ بچے اگر خوراک کی تلاش میں ایلو لائن کو عبور کر جائیں تو انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دراصل سیز فائر کے باوجود غزہ بلکہ پورے فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی جاری ہے۔ سیکورٹی کے نام پر بہت سے علاقوں میں ناکہ بندی کر دی جاتی ہے۔ خطرے کی آڑ میں انسانی امداد روک دی جاتی ہے۔ جب فلسطینی مارے جاتے ہیں تو ان کا تعلق ایران جنگ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ کسی فلسطینی کو گولی لگے تو اسے دہشت گرد بتایا جاتا ہے۔ ان پر دھمکیاں دینے اور حملہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ کوئی بچہ نشانہ بنتا ہے تو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے وہ بچہ فائرنگ کرنے والا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : تمل ناڈو میں کمل کھلنے سے قبل ہی کیچڑ خشک ہو گیا...سہیل انجم
لبنان میں بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ امریکہ ایران معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو روک دینا بھی شامل تھا لیکن اسرائیل وہاں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالانکہ ایسی خبریں آئی تھیں کہ حزب اللہ اور اسرائیل میں بھی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے بعد ہی پھر اسرائیلی کارروائی کے واقعات پیش آگئے جس پر ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ-ایران ڈیل کے بعد یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اب فلسطین میں بھی جنگ ختم ہو گئی ہے۔ وہاں کی صورت حال وہی ہے جو پہلے تھی۔ بنجامن نیتن یاہو کسی بھی قیمت پر اس معاہدے کو سبو تاژ کرنے کے درپے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فلسطین اور لبنان میں سرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔
بہرحال فہد ابو ہیکل کا جسد خاکی فلسطینی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور اسے اس کے والد اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ اسے ایک قبر میں دفن کر دیا گیا اس کے تمام معصوم خوابوں کے ساتھ۔ فہد ابو ہیکل کی یہ کہانی صرف اس کی ہی کہانی نہیں ہے۔ یہ تمام فلسطینی بچوں کی کہانی ہے۔ وہاں کے تمام بچوں کو ابو ہیکل بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی بچے کی زندگی محفوظ نہیں ہے۔ کب کون سا بچہ یا کون سا شخص اسرائیلی فوجیوں کی بربریت کا شکار ہو کر اپنی زندگی گنوا بیٹھے کہا نہیں جا سکتا۔ بھوک پیاس کی کہانی الگ ہے۔ انسانی امداد ناکافی ہے۔ لیکن-امریکہ ایران جنگ بندی کے پیش نظر دنیا یہ سمجھتی ہے کہ غزہ میں بھی جنگ بندی ہے۔ امریکہ ایران معاہدے کا خیرمقدم ہے، لیکن کیا غزہ میں ہونے والی جنگ بندی پر واقعی حقیقی انداز میں عمل ہو پائے گا۔ نیتن یاہو کی دہشت گردانہ طبیعت کے پیش نظر اس بات کا امکان بالکل معدوم ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
