نئے رنگ روپ میں نظر آ رہا غالب انسٹی ٹیوٹ کا ’غالب میوزیم‘، غالب سے جڑے کئی نوادرات موجود

مرزا اسد اللہ خاں غالب کو قریب سے جاننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ’غالب میوزیم‘ سے بہتر کوئی دوسری جگہ نہیں، میوزیم پہنچنے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے غالب کے عہد میں پہنچ گئے ہوں۔

<div class="paragraphs"><p>غالب میوزیم (غالب انسٹی ٹیوٹ)</p></div>

غالب میوزیم (غالب انسٹی ٹیوٹ)

user

محمد تسلیم

نئی دہلی: اُردو اور فارسی کے نامور شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کا میوزیم ایک نئے رنگ روپ میں نظر آ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کی تزئین کاری کی گئی ہے۔ یوں تو غالب کی شاعری، ان کی حیات و خدمات اور عہد پر لاتعداد کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ پھر بھی آپ قریب سے غالب کو جاننا ہیں تو غالب انسٹی ٹیوٹ کا ’غالب میوزیم‘ سب سے بہتر جگہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک اور بیرون ملک سے جب کوئی غالب کو چاہنے والا دہلی آتا ہے تو ان کے مزار کے بعد وہ غالب میوزیم کا دیدار ضرور کرتا ہے۔

اس میوزیم کے تعلق سے بات کرتے ہوئے ڈکٹر ادریس احمد (ڈائریکٹر، غالب انسٹی ٹیوٹ) نے کہا کہ میوزیم کی تزئین کاری کا کام مکمل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میوزیم میں چار چاند لگ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار میوزیم کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم غالب کے عہد میں آ گئے ہیں۔ میوزم میں لائٹنگ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے، اور شوکیس میں رکھی چیزوں کی تفصیلات بتانے کے لیے پلیٹ نصب کی گئی ہیں تاکہ میوزم میں آنے والے شخص کو آسانی سے معلومات مل سکے۔


ڈاکٹر ادریس نے کہا کہ مرزا غالب کی حیات و خدمات اور ان کی شاعری پر کہیں نہ کہیں پورے سال تقاریب کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ میوزیم میں غالب کے دور کی کئی چیزیں بڑے سلیقے سے رکھی ہوئی ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کا بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم اپنی خوبصورتی سجاوٹ، نوادرات، قیمتی اشیاء اور نایاب مخطوطات کی وجہ سے دہلی کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی زندگی کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

کب ہوا غالب میوزیم کا قیام؟

غالب انسٹی ٹیوٹ میں ’بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم‘ کا قیام 1977 میں سابق صدر جمہوریہ فخر الدین احمد کی اہلیہ عابدہ بیگم نے کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد اس میوزیم کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کا بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم مرزا غالب کے عہد کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس میوزم میں عہد غالب کے دور کی اشیاء یعنی برتن، روزمرہ کی چیزیں اور غالب و معاصرین غالب کے مجسمے 18ویں اور 19ویں صدی کے دور کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں۔


دہلی حکومت کی ٹورسٹ گائیڈ میں بیگم عابدہ احمد غالب میوزیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ میوزم میں غالب کے معاصرین کی حالات زندگی ان کی تصویروں کے ساتھ موجود ہے۔ غالب کے اس میوزیم میں بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی میں لال قلعہ کے اندر جو مشاعرے ہوتے تھے اس کی جھلک کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان نوادرات میں تمام بڑے شعراء مثلاً شیخ ابراہیم ذوق، مفتی صدر الدین آرزو، امام بخش صہبائی، حکیم مومن خاں مومن کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میوزیم میں غالب کی مہروں کو بھی نمائش کے طور پر رکھا گیا ہے۔

مہروں کا رواج 19ویں صدی اور اس سے قبل بہت عام تھا۔ اس کے علاوہ غالب میوزم میں عہد غالب کی نادر اشیاء (چمڑے کا قلم، لکڑی کا قلم، سنگھار دان، ہاتھی کے دانت کی ٹکلیاں اور پانسہ،غالب کا فرشی حقہ، پاندان، غالب کا اصلی چوغہ جو وہ محفل سخن میں پہن کر جایا کرتے تھے۔ نادر مخطوطات اور دیگر تاریخی اشیاء کے علاوہ ان تصویروں کو بھی آویزاں کیا گیا ہے جو 1857 کی جنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔


یہ تصویریں ان فنکاروں کی فنکاری کا خوبصورت نمونہ ہیں جنھوں نے 1857 کی جنگ اور دہلی، کلکتہ، بنارس، آگرہ، رامپور اور لکھنو کی تاریخی عمارتوں کو بخوبی اپنے فن میں ڈھال دیا۔ ان میں کئی نوادرات غالب سے جڑے ہوئے تھا اور اس کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ فنکاروں نے اپنے سانچہ میں ڈھالا ہے۔ اس کے علاوہ میوزیم میں اندرا گاندھی کے کپڑوں کو بھی آویزاں کیا گیا ہے جو بیگم عابدہ احمد نے اندرا گاندھی کی بیماری کے بعد صحت یاب ہونے پر بطور تحفہ پیش کیا تھا۔ بعد میں اندرا گاندھی نے یہ کپڑے بیگم عابدہ غالب میوزم کو بطور عطیہ پیش کر دیا تھا۔ اس میوزیم میں سب سے دلچسپ چیز زہر مہرہ پلیٹ ہے جس کی خاصیت یہ ہے کہ اگر کھانے میں زہر ہوا تو اس پلیٹ میں ڈالنے کے بعد کھانے کا رنگ بدل جاتا ہے اور پتہ چل جاتا ہے کہ یہ زہر آلود کھانا ہے۔

میوزیم کی سکریٹری یاسمین فاطمہ نے ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ یہاں کثیر تعداد میں غالب کے چاہنے والے آتے ہیں اور میوزیم میں رکھی ایک ایک چیز کو بہت دھیان سے دیکھتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو غالب اور غالب کے عہد کو پڑھے بغیر جاننا ہے تو وہ یہاں آ کر غالب کے دور اور ان سے منسلک چیزیں دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم تزئین کاری کے بعد کچھ چیزوں میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے غالب کے عہد کو جاننے میں آسانی ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔