عالمی آواز-8: فرانس قوم پرستی کی آگ میں جھلسنے کو تیار... سید خرم رضا

فرانس میں یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ فرانس میں حالات سال 2015 کے اس واقعہ کے بعد سے بدلنے شروع ہوئے جب چارلی ہیبدو نامی میگزین نے حضور پاک کے گستاخانہ خاکے شائع کئے۔

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

سید خرم رضا

کیوں کیا، کس نے کیا اور کس کا سر قلم کیا، اس سے کوئی سروکار نہیں۔ بنیادی طور پر یہ غیر انسانی فعل تھا اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دونوں جانب سے جس شدت پسندی کا مظاہرہ ہو رہا ہے اس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں منقسم کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد جہاں مسلم دنیا غصہ، بائیکاٹ اور مذمت کے ہتھیاروں سے لیس کھڑی نظرآرہی ہے وہیں دوسری جانب شدت پسند دائیں محاذ اور آزاد خیال لوگ آزادی اظہار کی میزائل داغ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فرانس بدل رہا ہے یا فرانس دنیا کی راہ پرچل رہا ہے۔

فرانس میں یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ دراصل فرانس میں حالات سال 2015 کے اس واقعہ کے بعد سے بدلنے شروع ہوئے جب چارلی ہیبدو نامی میگزین نے حضور پاک کے گستاخانہ خاکے شائع کئے۔ ان خاکوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ چارلی ہیبدو کے اس عمل کے بعد 7 جنوری کو پیرس میں جو دہشت گردانہ حملہ ہوئے جس میں 17 افراد کی قیمتی جانیں گئیں، اس نے فرانس کو ایک نئی پٹری پر ڈال دیا اور اب فرانس اسی پٹری پر گامزن ہے۔ ان حملوں کے خلاف خود فرانس میں ایک تاریخی احتجاجی مارچ نکالا گیا جس میں دنیا کے 40 رہنماؤں نے مارچ نکالنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ 7 سے 9 جنوری 2015 کے درمیان یہ دہشت گردانہ حملے ہوئے اور 12 مارچ کو یہ ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی کا مقصد چارلی ہیبدو میگزین کی اظہار آزادی کےاصول کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا، لیکن جب کچھ لوگوں نے چارلی ہیبدو کے خلاف آن لائن اپنی رائے کا اظہار کیا تو فرانس کی پولس نے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی۔ یعنی چارلی ہیبدو کو اظہار آزادی کاحق حاصل ہے باقی کو نہیں۔

ان حملوں کا اثر یہ ہوا کہ فرانس میں قوم پرستی اور شدت پسندی کےرجحان میں اس تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا کہ اس وقت کے فرانس کے صدر ہولینڈا، جن کا تعلق فرانس کی سوشلسٹ جماعت سے تھا، انہوں نے یکم دسمبر 2016 کو اعلان کر دیا کہ وہ صدر کےعہدے کے لئے دوبارہ چناؤ نہیں لڑیں گے۔ اس کی وجہ سروے میں ان کی ریٹنگ کا کم آنا تھا۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ فرانس آنے والے سالوں میں کس جانب گامزن ہے۔ اس کے بعد دائیں محاذ کی شدت پسند سیاسی تنظیم نیشنل فرنٹ کی مقبولیت میں شدید اضافہ ہوا۔ ریپبلکنس کے فیلون کے خلاف بدعنوانی کے معاملہ کے اجاگر ہونے کے بعد سینٹرسٹ پارٹی این مارچ یعنی جو نہ سوشلٹ تھی اور نہ ہی دائیں محاذ سے ان کا کوئی ربط تھا، اس پارٹی کے امیدوار امینوئل میکرون فلون کے بعد نیشنل فرنٹ کی امیدوار میرین لی پین سے سیدھے مقابلہ میں آ گئے۔ مارچ 2017 میں ہونے والے پہلے دور کےانتخابات میں لی پین اور امینوئل میکرون کا مقابلہ برابر رہا اور کوئی بھی جیت نہیں پایا۔ لیکن مئی 2017 میں دوسرے دور کے مقابلہ میں میکرون کو 66 فیصد ووٹ ملے جبکہ دائیں محاذ کی لی پین کو 34 فیصد ووٹ ملے۔

ان انتخابات کے بعد میکرون نے فرانس اور دنیا کی سیاست میں اپنا مقام بنایا۔ اب جب 47 سالہ استاد سیموئل نے پہلے مسلم طلبا کو کلاس سےباہر جانے کے لئے کہا اور پھر اظہار رائے کی آزادی کی مثال پیش کرتےہوئے چارلی ہیبدو کے بنائے ہوئے حضور کےخاکوں کو دکھایا تو چارلی ہیبدو کا جنّ دوبارہ بوتل سےباہر آ گیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ فرانس میں کورونا وبا کے معاملوں میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے اور وبا کی پہلی لہر میں وہاں بڑی تعداد میں اموات بھی ہوئیں جس کی وجہ سے میکرون کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ سال 2022 یعنی تقریباً ڈیڑھ سال بعد فرانس میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں اس لئے وہاں کی تمام سیاسی پارٹیوں نے سیموئل کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کی بات زوروں سے کرنی شروع کر دی۔اس شور کا نتیجہ یہ ہوا کہ میکرون نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسلام کے خلاف سخت بیان دے دیئے۔

میکرون بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کےان بیانات پر مسلم دنیا کےرہنماؤں کا ردعمل سخت آئے گا کیونکہ ان ممالک کے عوام حضور کے خاکوں کے معاملہ کوبالکل برداشت نہیں کریں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں مسلم ممالک نے دباؤ بنانے کے لئے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ اور میکرون کے بیان کی مذمت کی وہیں اپنی سیاسی زمین کی خاطر میکرون نے اپنے رویہ میں مزید سختی اختیار کی اور کہا کہ اسلام پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوغان، جن کے یہاں صدارتی انتخابات ہونےہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت میں زبردست کمی کارجحان ہے، ان کے لئے عوام کا ذہن مسائل سے ہٹانے اور عرب دنیا کا قائد بننے کا ایک موقع بیٹھے بٹھائے مل گیا۔ لہٰذا انہوں نے فرانس اور اس کے صدر کے خلاف سخت زبان اختیار کر لی۔ اردوغان پہلے ہی آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ میں کھل کر آذربائیجان کی حمایت کر رہے ہیں۔

دنیا اس وقت جس طبی بحران سے دو چار ہے، ان حالات میں نہ تو میکرون کو اورنہ اردوغان کو اپنے سیاسی نفع و نقصان کے حساب سے بیان بازی کر نی چاہئے۔ اس وقت دنیا کوامن اور بھائی چارہ کی ضرورت ہے۔ شدت پسندی چاہے مسلمانوں کی جانب سے ہو چاہے اظہار رائے کی آزادی کےعلمبرداروں کی جانب سے، اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ قتل اور دہشت گردی کو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ہم کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کریں۔ میکرون کو چاہئے کہ وہ فرانس کے صدر کی حیثیت سے فیصلہ لیں نہ کے دائیں بازو کی بڑھتی مقبولیت کے دباؤ میں اپنی سیاسی زمین بچانے کے لئے بیانات دیں۔ مسلم ممالک کو بھی چاہئے کہ ان کو کسی بھی طرح کی شدت پسندی اور دہشت گردانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرنی چاہئے، نہ کہ مصنوعات کے بائیکاٹ کی دھمکی دینی چاہئے۔سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ دنیا کو کسی بھی لائن پر منقسم نہ ہونے دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس نہ صرف سیاسی دباؤ میں بدل رہا ہے بلکہ دنیا جس قوم پرستی کی لپیٹ میں ہے، فرانس بھی اس آگ میں جھلسنے کے لئے تیار ہے۔

next