فیفا عالمی کپ: ایرانی کپتان علی رضا اپنے شائقین کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے پُرامید و پُرعزم
اپنے افتتاحی میچ سے قبل 4 عالمی کپ کھیلنے والے علی رضا جہاں بخش نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’فٹبال دنیا کو متحد کرتی ہے، اور ہم یہ دکھا دینا چاہتے ہیں۔‘‘

عالمی سطح پر بحران والے حالات میں فٹبال کے ذریعہ دنیا کو متحد کرنے کی بات ایک ’گھسی پٹی بات‘ محسوس ہو سکتی ہے، لیکن جب یہ بات علی رضا جہاں بخش کی زبان سے نکلتی ہے تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ایران کے سینئر پیشہ ور کھلاڑی اور کپتان، جو اپنا چوتھا اور غالباً آخری عالمی کپ کھیل رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹیم کو جن مشکلات کا سامنا رہا ہے، انہیں پس پشت ڈال کر منگل کو نیوزی لینڈ کے خلاف فیفا عالمی کپ مہم کا آغاز کریں۔
32 سالہ علی رضا، جو بلجیم پرو لیگ میں ڈینڈر کلب کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن وطن کی پکار پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں، نے کہا کہ ’’انفرادی طور پر اور ایک ٹیم کے طور پر ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ فٹبال دنیا کو متحد کرتی ہے اور لوگوں کو قریب لاتی ہے۔ قوم، چمڑے کے رنگ یا پس منظر سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم سب انسان ہیں۔ انسانوں کو تکلیف میں نہیں ہونا چاہیے اور امید ہے کہ ہم فٹبال کے ذریعہ، اپنے کھیل کے ذریعہ اور اتنے بڑے اسٹیج پر اپنی شخصیت ظاہر کرتے ہوئے دنیا کو یہی پیغام دے سکیں گے۔‘‘
ایرانی ٹیم، جسے ’ٹیمِ ملی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کی تیاری مثالی نہیں رہی کیونکہ علی رضا کا ملک میزبان امریکہ کے ساتھ ایک طویل تنازعہ میں الجھا ہوا ہے۔ ایران فٹبال فیڈریشن کی جانب سے اپنے لیگ میچوں کو میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست فیفا نے مسترد کر دی، جبکہ امریکی ویزوں کے حصول میں تاخیر کے باعث ٹیم کو مختلف ٹائم زون میں کھیلنے کے لیے درکار معمول کی موافقت کا وقت بھی نہیں مل سکا۔ اس کے علاوہ معاون عملے اور گورننگ باڈی کے بعض سینئر اراکین کو بھی ویزے نہیں دیے گئے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف افتتاحی میچ کے بعد ایران کو بلجیم اور پھر مصر کا سامنا کرنا ہے۔ اگرچہ اگلے مرحلے تک رسائی اصل ہدف ہے، لیکن تجربہ کار ’وِنگر‘ چاہتے ہیں کہ توجہ میدان تک محدود رہے کیونکہ یہ ٹورنامنٹ ان کے لیے ذاتی طور پر بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس میگا ایونٹ میں اپنی گزشتہ 6 شرکتوں میں ’ٹیمِ ملی‘ کبھی بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی، لیکن کپتان کو بھروسہ ہے کہ مہدی طارمی، محمد موہبی اور قدوس جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم بہتر تاثر چھوڑ سکتی ہے۔
’فیفا ڈاٹ کام‘ سے گفتگو کرتے ہوئے علی رضا نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ’’یقیناً وطن کی صورت حال کسی نہ کسی حد تک ٹیم کو متاثر کرتی ہے، لیکن ہم اپنے کھیل سے بات کرتے ہیں اور سبھی اس سے واقف ہیں۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں ہمارے لوگوں نے جو مشکل وقت دیکھا ہے، اسے کسی حد تک آسان بنانے کا راستہ نکالیں اور ان کے چہروں پر کچھ مسکراہٹیں لا سکیں۔‘‘
یورپی فٹبال حلقوں میں ایک معروف چہرہ ہونے کے باعث شاید وہ تنازعہ کے دباؤ سے کسی حد تک دور رہے ہوں، لیکن علی رضا کہتے ہیں کہ کوئی بھی چیز ’وطن جیسی‘ نہیں ہوتی۔ شمالی ایران میں پیدا ہونے والے اس اسٹار نے کہا کہ ’’میں ایران سے محبت کرتا ہوں اور جب بھی ممکن ہو اپنے خاندان سے ملنے گھر جاتا ہوں۔ میں خاندانی مزاج کا آدمی ہوں اور زیادہ عرصہ ان سے دور نہیں رہ سکتا۔ میں روزانہ اپنے والدین سے رابطے میں رہتا ہوں اور جتنا ممکن ہو ان سے ملنے جاتا ہوں۔ میں ایران سے محبت کرتا ہوں، اپنے ملک کے ہر حصے سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جب بھی گھر واپس جاتا ہوں تو ہمیشہ شمالی علاقے میں جاتا ہوں، جہاں میرا آبائی گھر ہے، تاکہ اس کے ہر پہلو سے لطف اندوز ہو سکوں۔ میرا پورا بچپن وہیں گزرا ہے، اور میں کوشش کرتا ہوں کہ جتنا ممکن ہو وہاں جاتا رہوں تاکہ اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں سے جڑا رہوں۔‘‘
اگر یہ عالمی اسٹیج پر ان کی آخری حاضری ثابت ہوتی ہے تو علی رضا اس کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ ایران کے کوچ امیر قلعه نوی نے ایک تجربہ کار اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے، جس کے بہت سے کھلاڑی جہاں بخش کے طویل سفر کے ساتھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ حقیقت کہ ہم نے اتنے برس ایک ساتھ کھیلے ہیں، یہ ہمیں میدان کے اندر اور باہر ہر چیز کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں مدد دیتی ہے۔ میں کہوں گا کہ ٹیم کے 70 سے 80 فیصد کھلاڑیوں کے ساتھ ہم برسوں سے اکٹھے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ قومی ٹیم کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنا چاہتے تھے۔ ہم واقعی بھائیوں کی طرح ہیں، قومی ٹیم میں ایک ساتھ وقت گزارنا ہمیشہ بہت خوشگوار احساس دیتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کیمپ سے باہر بھی رابطے میں رہتے ہیں اور یہ ہمارے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ اب ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جب بھی قومی ٹیم کو چھوڑنے کا وقت آئے تو اپنے ملک کے لیے کچھ اچھا چھوڑ کر جائیں، تاکہ ایرانی فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
