فکر و خیالات

بی جے پی کی سطحی اور کانگریس کی باوقار انتخابی مہم...سہیل انجم

راہل گاندھی ہوں یا کوئی دوسرا رہنما سبھی تہذیب کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ کوئی ایکادھ لیڈر کچھ بول دے تو وہ الگ بات ہے۔ مجموعی طور پر کانگریس کی انتخابی مہم بڑے پروقار انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

اس وقت انتخابی مہم شباب پر ہے۔ بی جے پی بھی جی جان لگائے ہوئے ہے اور کانگریس بھی۔ دوسری سیاسی جماعتیں بھی۔ بی جے پی کی جانب سے جہاں انتخابی مہم کی کمان خود وزیر اعظم نریندر مودی نے سنبھال رکھی ہے تو کانگریس کی مہم پارٹی صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی تو تقریباً پورے ملک کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ پرینکا کی زیادہ توجہ اترپردیش پر ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ وہ مشرقی اترپردیش کی انچارج ہیں۔

بی جے پی کی جانب سے مودی کے علاوہ یوگی آدتیہ ناتھ اور پارٹی صدر امت شاہ مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ تمام پارٹیوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں اور رائے دہندگان سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم باریکی سے دیکھیں تو کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم تمام سیاسی جماعتوں سے بالکل الگ ہے۔ اس نے جو وقار قائم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ راہل گاندھی ہوں یا کوئی دوسرا رہنما سبھی تہذیب کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ کوئی ایکادھ لیڈر کچھ بول دے تو وہ الگ بات ہے۔ مجموعی طور پر کانگریس کی انتخابی مہم بڑے پروقار انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

راہل گاندھی ان ایشوز کو اٹھا رہے ہیں جو ملک کے سامنے موجود ہیں اور جو چیلنج کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ خواہ وہ رافیل کا ایشو ہو، مہنگائی کا ایشو ہو، بے روزگاری کا ایشو ہو، نوٹ بندی کا ایشو ہو، جی ایس ٹی کا ایشو ہو یا نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملکی معیشت کے تباہ ہونے کا معاملہ ہو۔ راہل گاندھی نے عوام کی نبض پر انگلی رکھی ہوئی ہے اور وہ انھیں مسائل کو اٹھا رہے ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام سے ہے۔

کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی جو وعدے کیے ہیں یا جن معاملات کو اٹھایا ہے وہ عوامی ہیں۔ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کو 72 ہزار روپے سالانہ دینے کا اعلان ہو یا کشمیر سے دفعہ 370اور 35 اے کو ختم نہ کرنے کا وعدہ ہو۔ غداری کے انگریزوں کے زمانے کے قانون کو ختم کر دینے کی بات ہو یا نیم مسلح دستوں کو شورش زدہ ریاستوں میں خصوصی اختیارات دینے والے قانون افسپا کو بتدریج ختم کرنے کی بات ہو، یہ تمام کے تمام عوامی ایشوز ہیں اور ان سے عوام کا جذباتی رشتہ ہے۔

جبکہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں جو وعدے کیے گئے ہیں ان میں بیشتر عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والے ہیں۔ جیسے کہ رام مندر کا معاملہ، دفعہ 370اور 35 اے کو ختم کرنے کی بات ہو، یکساں سول کوڈ کا معاملہ ہو یا طلاق ثلاثہ کو جرم قرار دینے کا قانون ہو یا پھر دوسرے بہت سے معاملات ہوں، اگر غور کیا جائے تو وہ ملکی ثقافت اور رنگا رنگی کو ختم کرنے والے ہیں۔

یہ تو اختصار کے ساتھ منشور پر بات ہوئی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بی جے پی کے لیڈران اپنی مہم کس انداز میں چلا رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو خو دنریند رمودی کی تقریریں دیکھ لیں۔ انھوں نے پلوامہ حملہ اور پھر آپریشن بالاکوٹ کے وقت سے ہی مسلح افواج کا سیاسی استحصال شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ کمزور الیکشن کمیشن نے بھی فوج کا نام استعمال کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے اس کے باوجود مودی نے پہلی بار ووٹ دینے والوں سے فوج کے نام پر ووٹ مانگا اور ان سے کہا کہ وہ اپنا پہلا ووٹ پلوامہ حملہ میں شہید ہونے والے جوانوں اور آپریشن بالاکوٹ میں شامل ہونے والے فوجیوں کو وقف کر دیں۔

اس کے علاوہ وہ مسلسل نہرو گاندھی خاندان کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کردار کشی کا بھی موقع نہیں چھوڑتے۔ دوسرے جو ایشوز وہ اٹھاتے ہیں وہ بھی جذباتی ہوتے ہیں۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بانٹنے والے ہوتے ہیں۔ انھوں نے جب یہ کہا تھا کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا تو اس کی براہ راست ضرب مسلمانوں پر پڑ رہی تھی کہ وہی دہشت گرد ہیں۔ اس پر الگ سے بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں سنگھی دہشت گرد کتنے ہیں اور ان کی کارستانیاں کیا ہیں۔

اب ایک دوسرے گرو گھنٹال امت شاہ کی تقریر سن لیجیے۔ وہ بھی فرقہ وارانہ سیاست کے کھلاڑی ہیں۔ لہٰذا اپنی تقریروں میں وہ بھی ہندو مسلم کر رہے ہیں۔ انھوں نے ابھی ایک تقریر میں کہا ہے کہ مودی حکومت سبھی ریاستوں میں نیشنل سٹیزن رجسٹر لاگو کرے گی اور ہندووں، سکھوں اور بودھوں کو چھوڑ کر تما دراندازوں اور گھس پیٹھیوں کو چن چن کر خلیج بنگال میں پھینک دے گی۔ یعنی ان کو واپس نہیں کرے گی بلکہ ان کا خاتمہ کرے گی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بہت واضح انداز میں دراندازی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا۔

اب آئیے ان کے ایک اور اسٹار پرچارک کی طرف یعنی یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف۔ وہ تو الیکشن ہو یا نہ ہو فرقہ وارانہ تقریر ہی کرتے ہیں۔ انھوں نے مایاوتی کی ایک تقریر کے جواب میں کہا ہے کہ علی تمھارے ہیں تو بجرنگ بلی ہمارے ہیں۔ یعنی انھوں نے بالکل صاف صاف مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹا اور ہندووں سے ووٹ کی بھیک مانگی۔

ایک سوامی ساکشی مہاراج ہیں۔ وہ بھی زہریلی بھاشا بولنے میں ماہر ہیں۔ انھوں نے اپنے حلقے اناؤ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سنیاسی ہیں اور جب ایک سنیاسی کسی کے دروازے پر کچھ مانگنے جاتا ہے تو گھر والے کو دینا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ سنیاسی اس کے پنیہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور اپنے پاپ ان کو دے جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہی سمجھ میں نہیں آتی کہ بی جے پی کے سنیاسی کیسے سنیاسی ہیں جو موہ مایا میں لِپت رہتے ہیں۔ چاہے ساکشی مہاراج ہوں یا بابا رام دیو۔ یہ سب لکشمی کے پجاری ہیں اور خود کو سنیاسی کہتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ساکشی مہاراج نے یہ بتا دیا کہ ان کے پاس پاپ کی گٹھری ہے۔ اگر انھیں ووٹوں کی بھکشا نہیں ملی تو وہ پاپ کی گٹھری وہاں چھوڑ دیں گے اور پنیہ کی گٹھری اٹھا لے جگائیں گے۔ یعنی وہ اس دنیا کو تو چھوڑیے دوسری دنیا کے لیے اکٹھا کی گئی پونجی بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔

اب ذرا مینکا جی کو بھی دیکھ لیجیے۔ انھوں نے سلطانپور میں ایک تقریر میں مسلمانوں کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر وہ انھیں ووٹ نہیں دیں گے تو ان کے پاس کام کرانے نہ آئیں۔ کیونکہ پھر وہ ان کے کام کریں گے ہی نہیں۔ بعد میں انھوں نے لولی لنگڑی صفائی دے ڈالی۔

ان کے علاوہ بھی بی جے پی میں گری راج سنگھ جیسے بے شمار لیڈر اور امیدوار ہیں جو انتہائی نچلی سطح پر اتر کر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ در اصل بی جے پی کو اس کا اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ ہار رہی ہے۔ لہٰذا اب لے دے کر فرقہ وارانہ سیاست کا ہتھکنڈہ ہی بچا ہے جو اسے انتخابی سمندر پار کرا سکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی اصل فطرت پر اتر آئے ہیں۔ ایسے میں سنجیدہ طبقات کو اور بھی سنجیدہ ہونا ہوگا اور خاص طور پر مسلمانوں کو بہت محتاط رہنا ہوگا۔ ورنہ منفی سیاست کے یہ کھلاڑی کھیل کو بڑی آسانی سے دوسرا رنگ دے دیں گے اور اس کا نقصان ملک کو اٹھانا پڑے گا۔