23 اپریل 1930: سانحہ بازار قصہ خوانی کے 92 برس مکمل... شاہد صدیقی علیگ

برطانیہ عظمیٰ نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے برصغیر میں جس طرح کے انسانیت سوز جبر و تعدی کے باب رقم کیے ہیں، ان میں سے قصہ خوانی قتل عام بھی ایک ہے۔

مہاتما گاندھی کے ساتھ بادشاہ خان
مہاتما گاندھی کے ساتھ بادشاہ خان
user

شاہد صدیقی علیگ

تاریخ ہند ایسی شخصیات اور واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں صریح یکسانیت ہیں لیکن ان کے ساتھ دورخی برتاؤ یعنی سوتیلا رویہ صاف جھلکتا ہے، اگر ایک کردار یا سانحہ لوگوں کے ذہن ودل سے لے کر زبان تک ازبر ہیں تو دوسرا تاریخ کے صفحات میں گم۔ رسوائے زمانہ بے رحم جنرل ڈائر تو سب کو یاد ہے لیکن، سر ایچ اوبرے میٹکاف کا نام حافظے سے غائب؟

برٹش انڈیا میں شاز ونادر ہی کسی برطانوی افسر کو اس کے جرموں کی سزا دی گئی ہو یہاں تک کہ قتل عام جیسے سنگین جرم کے مرتکب انگریز کو بھی خاموشی سے قانونی چارہ جوئی سے بچائے کے لیے برطانیہ بھیج دیا جاتا تھا جس کا جیتا جاگتا ثبوت سانحہ جلیانوالہ باغ کا گناہگار جنرل ڈائر ہے جسے زبردستی سبکدوش کر کے واپس وطن روانہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن ستم بالائے ستم پشاور کے قصہ خوانی بازار میں درجنوں غیر مسلح افراد کا قتلِ عام کروانے والے میٹکاف کو نہ صرف ترقی دے کر 1939ء میں بلوچستان کا چیف کمشنر مقرر کیا گیا بلکہ سر سمیت کئی خطابات سے بھی سرفراز کیا گیا۔


سرحدی گاندھی یعنی خان عبدالغفار خان جنہیں باچا خان یا بادشاہ خان کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔انہوں نے سرحدی علاقے کے پختون قوم کو عدم تشدد کا سبق پڑھا کر 1929ء کے اواخر میں خدائی خدمت گار تنظیم قائم کی جس نے صرف چند ماہ میں اتنی مقبولیت حاصل کرلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ایک لاکھ سے زیادہ رضاکار ہوگئے۔ اس کے ارکان سرخ لباس پہنا کرتے تھے جس کی مناسبت سے انہیں سرخ پوش یا لعل کرتی بھی کہا جاتا تھا۔ خان عبدالغفار خان کی کرشمائی شخصیت کے سائے میں خدائی خدمت گار رضاکاروں نے ہڑتالوں اور دیگر پرامن احتجاجوں سے برطانوی ظالمانہ سرگرمیوں کے خلاف صدا بلند کرنی شروع کردی تو برطانوی اعلیٰ اقتدار کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں۔ انہوں نے خدائی خدمت گاروں کو سبق سکھانے کا تہہ کر لیا۔ جس کا نتیجہ 23 ؍اپریل 1930ء کو منظر عام پر آتا ہے۔

مہاتما گاندھی نے 1930ء میں برطانوی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا تو اسے شمال مغربی سرحدی صوبے میں پروان چڑھانے کے لیے خدائی خدمت گزاروں نے بھی کمر کسی لی۔ جسے توانائی بخشنے کے لیے عبدالغفار خان کی رہنمائی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے وفد نے عثمان زئی تا پشاور کا دورہ شروع کیا۔ خدائی خدمت گار اپنے محبوب قائد کا قصہ خوانی بازار میں تعظیم وتکریم کے لیے جمع ہوئے، لیکن جابر حکام نے عثمان زئی ضلع اٹک میں ہی عبدالغفار خان کی تقریر کو حکومت مخالف قرار دے کر ان کے ساتھ دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا، ان میں سے کچھ قائدین کو کابلی تھانہ لے جایا گیا جس کی خبر جنگل میں آگ کی طر ح پھیل گئی، جس نے پورے حلقے میں غم وغصہ کی لہر دوڑ ادی، مشتعل خدائی خدمت گزاروں کے ساتھ عام و خواص نے بھی کانگریس کے دفتر کے سامنے جمع ہونا شروع کر دیا، بعض نے چار سدہ جیل کا گھیراؤ کیا جہاں عبدالغفار خان کو رکھا گیا تھا۔


یہ دیکھ کر پشاور کے ڈپٹی کمشنر میٹکاف کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا حکم دیا، لیکن ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ حالات کے مد نظر میٹکاف نے چار بکتر بند گاڑیاں بلوا لیں، جن میں سے ایک بکتر بند گاڑی بغیر کسی پیشگی خطرے کے ہجوم میں تیز رفتار سے دوڑتی ہوئی آئی۔ جس کی زد میں آکر14؍ افراد ہلاک ہوگئے۔ نعشوں کو دیکھ کرہجوم اپنے غصہ پر قابو نہ پا سکا۔ انہوں نے بکتر بند گاڑی کو نذر آتش کر دیا، مزید برآں ایک انگریز موٹر سائیکل سوار بکتر بند گاڑی سے ٹکرا کر کچل گیا۔ ان تمام واقعات کا مورد الزام مجمع کو ٹھہرایا گیا۔ اس موقع پر آمریت کے نشے میں چور میٹکاف نے فوراً برطانوی فوجیوں کو فائرنگ کا حکم دے دیا، لیکن اٹھارویں رائل گڑھ وال رائفلز کی دوسری پلٹن کے جوانوں نے گولی چلانے سے انکار کر دیا، تو میٹکاف نے دیگر فوجی دستہ کو آگے کر دیا۔

اس واقعہ کے عینی شاہدین کے مطابق ڈپٹی کمشنر کا قیاس تھا کہ ایک مرتبہ گولیاں چلانے سے چند لاشیں گریں گیں تو باقی مظاہرین موت کے ڈر سے خوف زدہ ہو کر منتشر ہو جائیں گے، لیکن جیسے ہی آگے کی صف میں نعشیں گریں تو رضاکار بھاگنے کے بجائے اللہ اکبر کہتے ہوئے ان کی جگہ لینے پیچھے سے مزید آگے آتے گئے۔ فائرنگ کا سلسلہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے تین گھنٹے تک جاری رہا۔ قصہ خوانی کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ برطانوی انتظامیہ نے 30؍ افراد ہلاک اور 38 ؍ لوگوں کے زخمی ہونے کے غلط اعداد و شمار فراہم کیے، جبکہ غیر مصدقہ تخمینے کے مطابق 400 سے زیادہ غیر مسلح افراد نے اپنے سینوں پر گولی کھائی اور 500؍ افراد زخمی ہوئے۔


برطانیہ عظمیٰ نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے برصغیر میں جس طرح کے انسانیت سوز جبر وتعدی کے باب رقم کیے ہیں۔ ان میں سے قصہ خوانی قتل عام بھی ایک ہے۔ لیکن اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا کہ جلیانوالہ باغ سانحہ اور بازار قصہ خوانی دونوں برطانوی نو آبادیاتی نظام کی خونی داستان ہیں لیکن ایک واقعہ کی تاریخ بچہ بھی جانتا ہے تو دوسرے پے بے حسی کی دبیز تہہ جمی ہوئی ہے بہر حال یہ دن جنگ آزادی میں ایک میل کا پتھر ثابت ہوا۔ جسے سن تیس شہدا کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔