ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے... مرزا جاوید علی

احمد پٹیل جن کو مرحوم لکھنے سے میری انگلی کانپ رہی ہے، وہ میری سماجی وسیاسی زندگی کے آئیڈیل تھے، ان کی زندگی سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے، گہرے تجربات اور مشاہدے حاصل ہوئے ہیں۔

احمد پٹیل کے ساتھ مرزا جاوید علی (فائل تصویر)
احمد پٹیل کے ساتھ مرزا جاوید علی (فائل تصویر)
user

قومی آوازبیورو

یہ قانون قدرت ہے کہ ہرذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور دنیائے فانی میں چند دن عارضی زندگی گزارنے کے بعد توشہ آخرت کے ساتھ ابدی دنیا کی طرف رخت سفر باندھنا ہے۔ لیکن اس دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی زندگی قوم وملت کی امانت ہوجاتی ہیں، ان کی رحلت سے سماجی اور معاشرتی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے اور زمانہ مدتوں ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔

ایسی ہی ایک انتہائی معتبر شخصیت عظیم رہنما احمد پٹیل ہم سے جدا ہوگئے، ان کے انتقال سے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت کی سیاسی، سماجی زندگی میں غم والم کے ایسے بادل گھر آئے ہیں جو جلد چھٹنے والے نہیں ہیں، عظیم مسلم قائد، مفکر و دانشور احمد پٹیل کی موت ایک عظیم سانحہ ہے۔ ان کے انتقال سے بھارت ایک ایسے رہنما سے محروم ہوگیا جو خاموشی سے ملک و ملت کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتا تھا، انہوں نے سیکولرزم کی بھرپور حمایت کی اور مسلم قوم کے آئینی حقوق کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے، وہ نہایت منکسر المزاج اور شرافت کا بہترین نمونہ تھے، جناب احمد پٹیل شفاف اور نیک کردار کے حامل ایک سچے محب وطن، ملت کے خیر خواہ، دوراندیش اور اعلیٰ دماغ انسان تھے۔ وہ ایک ایسے سیاست داں تھے جن میں مستقبل کی آہٹ سننے کی صلاحیت تھی اور وہ مسلمانوں کے ہی نہیں تمام کمزور طبقات کی آواز تھے، جن کی دور رس نگاہیں آنے والے ہندوستان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، انہوں نے پوری زندگی ملک وقوم اور وطن عزیز کی بے لوث خدمت میں لگا دی، وہ ایک متواضع انسان تھے، وہ سب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں رہتے تھے اور جذبات و انتقامی سیاست کو ہمیشہ ناپسند کرتے تھے، جس کی بنا پر وہ تمام لوگوں کے نزدیک یکساں مقبول تھے۔ کانگریس پارٹی اس وقت جن حالات سے دوچار ہے ایسے نازک موڑ پر احمد بھائی کی وفات کانگریس پارٹی کے لئے بڑا خسارہ ہے، وہ گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے، وہ ہر ایک سے بات کرنے کا مزاج رکھتے تھے اور صلح کا راستہ بنانے میں ماہر تھے۔ انہوں نے نام و نمود اور صلہ و ستائش کی پروا کیے بنا ملک وقوم کے لئے وہ کار ہائے نمایاں انجام دیئے جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ان کی موت سے میں ایک بہترین کرم فرما اور سرپرست سے محروم ہوگیا ہوں۔

1994جس وقت میں این ایس یو آئی میں تھا تب سے میرے ان سے کافی نزدیکی تعلقات رہے، انہوں نے میری سماجی وسیاسی زندگی میں اپنے وجود سے نمایاں نکھار بخشا ہے، انہوں نے سیاست سے زیادہ سماجی کاموں میں میرے اندر دلچسپی پیدا کرنے پر ہمیشہ زور دیا، یہی وجہ ہے کہ جب میں یوتھ کانگریس میں تھا تو 2001 میں گجرات میں زلزلہ سے بھاری تباہی ہوئی تھی، اس خبر سے وہ بہت بے چین ہوگئے تھے اور سردست کافی مقدار میں راحت رسانی کے سامان گجرات کے لئے روانہ کیا تھا، جس کو پہنچانے کی ذمہ داری انہوں نے میرے سپرد کرکے عملی میدان میں کام کرنے کے تجربات سے مجھے روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا تھا، اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے... مرزا جاوید علی

ان کی سرپرستی ونگرانی میں مجھے کانگریس پارٹی نے مختلف عہدوں اور اعزازات سے نوازا جس میں چیئرمین دہلی پردیش کانگریس کمیٹی شعبہ اقلیت، صدر چاندنی چوک شہر ضلع کانگریس کمیٹی خاص طور پر شامل ہے، اس کے علاوہ ان کی ہی منشا پر مٹیا محل اسمبلی حلقہ سے مجھے دوبار کانگریس پارٹی کا امیدوار بنایا گیا۔ حقیر سے ان کی محبت وشفقت کا یہ عالم تھا کہ میرے والد محترم کی وفات کے بعد بھی انہوں نے ہمیں کبھی والد کی کمی محسوس ہونے نہ دی، انہوں نے میری زندگی کی ہر موڑ پر رہنمائی ہی نہیں کی بلکہ میرے سرپر ایک ایسا سایہ بن کر رہے جس طرح ایک مشفق باپ اپنے بیٹے کے لئے رہتا ہے۔

وہ جاتے جاتے اپنے ساتھ اخلاص، انسانیت، بھائی چارہ، تہذیب، دردمندی، حلم، شفقت، شرافت، محبت، متانت، مروت، پاکیزگی جیسی خصوصیات لے کر چلے گئے جو شاید اس انداز واسلوب کے ساتھ کسی ایک شخص کی ذات میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔

بچھڑا کچھ اس انداز سے کہ رت ہی بدل گئی

ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

احمد پٹیل جن کو مرحوم لکھنے سے میری انگلی کانپ رہی ہے، وہ میری سماجی وسیاسی زندگی کے آئیڈیل تھے، ان کی زندگی سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے، گہرے تجربات اور مشاہدے حاصل ہوئے ہیں۔قانون فطرت کے مطابق رونما ہونے والے اس سانحہ پر صبر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اب اپنی بقیہ زندگی ان کے نقش قدم پر چل کر ہی گزار نے کا عزم ہے اور اسی خواہش کی تکمیل کو ان کو بہترین خراج عقیدت پیش کرنا سمجھتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے تمام چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

میرا وجود بھی تو ساتھ لے گیا اپنے

عجیب شخص تھا تنہا جو کر گیا مجھ کو

(مضمون نگار آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن ہیں)

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next