ایک گمنام مجاہد آزادی، ہاجرہ بی بی اسماعیل... برسی کے موقع پر خصوصی پیش کش

ہاجرہ بی بی اسماعیل 16 جون 1994ء کو تینالی میں انتقال کر گئیں، لیکن ستم بالائے ستم آج ہاجرہ بی بی کی حب الوطنی اور جاں نثاری تاریخ ہند کے صفحات میں گم نظر آتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

شاہد صدیقی علیگ

برطانوی استعماری قوت کے پنجوں سے مادرہند کو آزاد کی طویل جدوجہد میں ایسی بے شمار خواتین ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کے کندھے سے کندھا ملا کر ان کا پورا ساتھ دیا۔ ایسی ہی ایک دختر ہند ہاجرہ بی بی بھی ہیں جو مجاہد آزادی محمد اسماعیل کی زوجہ تھی، جو نہ صرف ایک باوفا رفیق حیات تھی بلکہ ایک محب وطن خاتون بھی تھی۔

مجاہد آزادی محمد اسماعیل آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے تینالی سے تعلق رکھتے تھے، جو مہاتما گاندھی کی شخصیت سے بہت متاثر تھے، انہوں نے گاندھی جی کی سودیشی تحریک کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا اور تینالی میں پہلا سودیشی کھادی اسٹور کھولا۔ جس کی وجہ سے محمد اسماعیل کھدر اسماعیل کے نام سے بھی مشہور ہوگئے۔ تینالی میں مسلم لیگ بہت سرگرم عمل تھی لہٰذا وہ ہاجرہ بی بی اور ان کے شوہر محمد اسماعیل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئی۔ جن کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کو بے پناہ اذیتیں اٹھانی پڑیں، جسے انہوں نے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں۔


ہاجرہ بی بی شوہر کی طرح انڈین نیشنل کانگریس کے ہر پروگرام میں پیش پیش رہتی تھیں۔ان کے شوہر محمد اسماعیل کو کانگریس کی مہمات میں حصہ لینے کی پاداش میں متعدد مرتبہ قید فرنگ کی ہوا کھانی پڑیں، مگر ہاجرہ بی بی کے قدموں میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ مزید برآں دونوں میاں بیوی کی آرزو تھی کہ ان کے بچے قوم پرستی سے لبریز تعلیم حاصل کریں، چنانچہ انہوں نے اپنی لڑکیوں کا ایک ہندی اسکول میں داخلہ کرایا، جس کا تعلیمی نظام قوم پرستی کے جذبے سے سرشار تھا۔

تاہم اس قوم پرستی کی انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی کیونکہ ان کا برادری نے سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا، ہاجرہ بی بی نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور بڑی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان گاندھی جی کے نظریات پر عمل پیرا ہے اور وہ اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ بار بارقید وبند نے محمد اسماعیل کی صحت پر خراب اثر ڈالا ہمہ جہت گاندھی کے سخت گیر حامی محمد اسماعیل 1948 میں ہاجرہ بی بی کو داغ مفارقت دے گئے۔


حکومت ہند نے شوہر کے انتقال کے بعد انہیں مجاہدین آزادی کے زمرے میں زمین عطا کرنے کی پیشکش کی، لیکن ہاجرہ بی بی اتنی خودار طبعیت کی مالک تھیں کہ انہوں نے شائستگی سے زمین لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ ان کی حب الوطنی کو جائیداد کے طور پر اہمیت دی جائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے شوہر کی تمنا کے مطابق اپنی خاندان زمین کو ”کاوُرو ونایاشرم“کے نام عطیہ کر دی تھی۔ ہاجرہ بی بی آخری دم تک اپنے شوہر کے نظریات کی پیروی کرتی رہیں اور اپنے بچوں کے تعاون سے کھادی کی دکان چلائی۔

ہاجرہ بی بی اسماعیل 16 جون 1994ء کو تینالی میں انتقال کر گئیں، لیکن ستم بالائے ستم آج ہاجرہ بی بی کی حب الوطنی اور جاں نثاری تاریخ ہند کے صفحات میں گم نظر آتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔