سینسیکس نئی چوٹی کو چھونے کے ساتھ ہی منافع وصولی کا شکار ہوگیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح مارکیٹ نے گزشتہ ہفتے میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے یہی رجحان اگلے ہفتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا، خوردہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

سینسیکس
سینسیکس
user

یو این آئی

ممبئی: عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گھریلو اسٹاک مارکیٹ نئی چوٹی کو چھونے کے ساتھ ہی منافع وصولی کا شکار ہوگیا اور ہفتہ کے آخر میں گر کر بند ہوا، اگلے ہفتے مارکیٹ میں اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کی توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کے پیش نظر خوردہ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس اس عرصے کے دوران 56 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرنے میں کامیاب رہا تاہم ہفتے کے اختتام پر یہ 107.97 پوائنٹس کی کمی سے 55329.32 پوائنٹس پر آگیا۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی اس عرصے کے دوران پہلی بار 16700 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا لیکن فروخت کے دباؤ کے باعث یہ 66.35 پوائنٹس گر کر 16450.50 پر آ گیا۔ بڑی کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر بھی دکھا اور انہوں نے بڑی کمپنیوں سے زیادہ فروخت کیا۔ بی ایس ای مڈکیپ 261.17 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 22679.87 اور اسمال کیپ 597.09 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 25758.11 پوائنٹس پر بند ہوا۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ابھی تک کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ کووڈ کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے بارے میں کچھ اندیشہ ہے لیکن عالمی مارکیٹ میں اس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر نظر نہیں دکھا ہے۔ یہاں تک کہ ملکی سطح پر بھی کورونا کی اس شکل نے اب تک کوئی خاص اثر نہیں دکھایا، جس کی وجہ سے معیشت میں تیزی سے بحالی کا امکان ہے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں مانسون کی پیش رفت بھی اچھی رہی ہے اور خریف کی فصل کی بوائی بھی اچھی ہے۔ اس کے پیش نظر دیہی علاقوں سے بھی مزید مانگ آنے کا امکان ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کے ساتھ ساتھ پائیدار صارفین کے سامان اور گاڑیوں خاص طور پر دو پہیہ اور ٹریکٹروں کی مانگ آنے کی توقع ہے۔ اس کی وجہ سے ان گروپس میں خریداری کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ بینکنگ، فنانس، آئی ٹی، ٹیلی کام اور ٹیک گروپوں میں بھی خریداری کی جا سکتی ہے۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح مارکیٹ نے گزشتہ ہفتے میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے یہی رجحان اگلے ہفتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا، خوردہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔