پیاز کی آسمانی قیمتوں سے کوئی راحت نہیں، مودی حکومت نے درآمد بھی کیا تو محض 3 دن کا اسٹاک!

پیاز کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور کسانوں کو فائدہ نہیں مل رہا کیونکہ تاجر سارا منافع ہڑپ لیتے ہیں، ایسے حالات میں ڈاکٹر کورین کی مدر ڈیری کی دکانوں پر سبزیوں کی فروخت جیسے اقدامات کرنا ہوں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دیویندر شرما

گزشتہ دو ماہ سے ملک میں پیاز کی آسمانی قیمتوں کے حوالہ سے عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں پیاز کی قیمتیں 100 روپے فی کلو کو عبور کر چکی ہیں، جبکہ ’میٹرو سٹیز‘ میں تو یہ 150 روپے فی کلو کی سطح کو چھونے لگی ہیں۔ حکومت نے اس کے لئے درآمد کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن یہ قدم کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 1.5 لاکھ ٹن درآمد کا معاہدہ ہو چکا ہے اور ملک میں روزانہ پیاز کی کھپت 50 ہزار ٹن کے لگ بھگ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سارا اسٹاک تین دن میں ختم! ظاہر ہے کہ اس سے تو مسئلہ کا حل ہونے سے رہا۔

پیاز کی قیمتیں جوں ہی قابو سے باہر ہونا شروع ہوئیں حکومت فوراً حرکت میں آئی لیکن اس نے دانشمندی سے اقدام نہیں لئے۔ پہلے برآمدات کی کم از کم قیمت 850 روپے فی ٹن کر دی گئی۔ جب اس سے بات نہیں بنی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا تو پیاز کی برآمدگی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں کے لئے پیاز کے ذخیرہ کرنے کی حد بھی محدود کر دی گئی لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ دریں اثنا، حکومت نے مصر سے 6090 ٹن پیاز درآمد کرنے کے آرڈر کے علاوہ ایم ایم ٹی سی کو بھی ترکی سے گیارہ ہزار ٹن پیاز کی درآمد کرنے کی ہدایت دی۔ ادھر، افغانستان سے درآمد کی گئی پیاز بھی ہندوستان پہنچی شروع ہو گئی۔ پیر کے روز، پیاز لے جانے والے 110 ٹرک پنجاب میں اٹاری بارڈر پر پہنچے اور آئندہ وقت میں بھی پیاز کی اسی طرح کی درآمد جاری رہے گی۔

اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ درآمد کا پیاز کی گراں بازاری پر نفسیاتی اثر پڑے گا لیکن اس سے زمینی صورتحال پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ملک بھر میں پیدا ہونے والی پیاز کا 50 فیصد مہاراشٹر اور کرناٹک میں پیدا ہوتا ہے اور ان دونوں ریاستوں میں وقت پر بارش نہ ہونے اور پھر پیاز کی فصل تیار ہونے کے بعد لگاتار بارش ہونے کی وجہ سے پیاز کی پیداوار پوری طرح تباہ ہو گئی۔

مہاراشٹر میں پیاز کے لئے اکتوبر کے اوائل سے نومبر کے اوائل کا وقت کلیدی ہوتا ہے اور اس مرتبہ اس مذکورہ دورانیہ میں 1.5 گنا زیادہ بارش درج کی گئی۔ دوسری طرف، کرناٹک میں پیاز کے 45 فیصد کھیت بے وقت کی بارش کی نذر ہو گئے۔ بے وقت کی بارش کی وجہ سے پیاز کی پیداوار کے سرکاری اندازے میں 18 لاکھ ٹن کی کمی آ گئی اور اس سے بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پیاز کی قیمتوں نے آسمان چھونا شروع کر دیا۔ اگرچہ اس بار پیاز کی پیداوار میں ایک چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس بے تحاشہ گراں بازاری کا کوئی فائدہ کسانوں کو نہیں مل سکا۔

کچھ عرصہ پہلے مہاراشٹر کے ایک کسان کی 8 روپے فی کلو کی قیمت پر پیاز فروخت کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ظاہر ہے کہ اس بےچارے کسان کو آج بھی پیاز چھوتی قیمتوں کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہے۔ دسمبر کے آغاز میں سولاپور منڈی میں پیاز کی قیمتیں 60 سے 70 روپے فی کلو تھیں اور ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ صرف اور صرف تاجروں کو حاصل ہوا۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جب پیاز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں تبھی میڈیا میں ہلچل کیوں ہوتی ہے؟ جب کسان اپنے فصل کی لاگت بھی حاصل نہیں کر پاتا اور پیاز پھینکنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو اس وقت میڈیا کہاں میڈیا والے کہاں سوئے رہتے ہیں؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت کو کسانوں کے لئے ذخیرہ کرنے کے زیادہ انتظامات کرنے چاہئیں لیکن مسئلہ صرف یہی نہیں ہے۔ اگر اسٹوریج ہی اس مسئلے کی اصل وجہ ہوتی تو امریکہ کے فلوریڈا میں کاشتکاروں کو ڈھائی ڈالر میں 3 پاؤنڈ کی پیاز کی بوری فروخت نہیں کرنا پڑتی، جوکہ پیداوار کی لاگت سے بھی کم ہے۔ وہاں سے ایک پیاز کے کاشت کار نے ٹویٹ کیا کہ اسے 30 سال پہلے کی قیمت پر پیاز فروخت کرنی پڑ رہی ہے۔

در حقیقت، ہندوستان میں تاجرین تو امریکہ میں سپر مارکیٹ پیاز کے کاشتکاروں کے حصہ کا منافع چھین رہے ہیں۔ کسانوں کے لئے قیمتوں کے استحکام کے لئے فنڈ کی ضرورت ہے۔ فی الحال، 500 کروڑ کا فنڈ موجود ہے لیکن اس کا مقصد صارفین کو مناسب قیمت پر پیاز مہیا کرنا ہے۔ ایسے انتظامات کرنے ہوں گے جو صارفین کے ساتھ ساتھ پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کو بھی راحت فراہم کریں۔ اس کے لئے ٹماٹر، آلو اور پیاز پیدا کرنے والے کاشتکاروں کے لئے امول کوآپریٹو کی طرز پر ایک ڈھانچہ تشکیل دینا ہو گا۔ جس طرح سے ڈاکٹر ورگیس کورین نے ’مدر ڈیری‘ کی دکانوں پر سبزیوں کی فراہمی کا ایک جدید طریقہ شروع کیا تھا، ہمیں اسی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا، یہی واحد راستہ ہے کہ کسانوں اور صارفین دونوں کو راحت پہنچایا جا سکتا ہے۔

next