منریگا: دیہی معیشت، مزدوری اور سماجی انصاف...میناکشی نٹراجن

منریگا نے دیہی مزدوروں کو کم از کم اجرت اور وقار دیا۔ اسے کمزور کرنا مزدوری کی شرح گرا دے گا اور سماجی عدم انصاف بڑھے گا۔ دیہی ترقی کے لیے کسان اور مزدور دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

میناکشی نٹراجن

سوراج یا آزادی کبھی یک طرفہ نہیں ہوتی۔ حق کی تلاش کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی مسئلے کے تمام پہلوؤں کو باریک بینی سے دیکھا جائے۔ منریگا کے تحت دیے گئے “کام مانگنے کے حق” کے ختم ہو جانے اور اس کی جگہ ایک نئی اسکیم کے آنے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن منریگا کے معاشی و سماجی پہلو اور اس کی سیاسی معیشت کو سمجھنا آج بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور پورے ہندوستان میں یکساں نوعیت کا نہیں۔

ان علاقوں میں جہاں بارش کم ہوتی ہے اور پورے سال میں بمشکل ایک ہی فصل ہو پاتی ہے، وہاں منریگا واقعی زندگی بخش ثابت ہوئی۔ اس کے برعکس وہ علاقے جہاں زرعی سرگرمیاں زیادہ ہیں اور سال میں کم از کم دو یا تین فصلیں ہوتی ہیں، وہاں منریگا پر بطور روزگار انحصار نسبتاً کم رہا۔ اتفاق سے مدھیہ پردیش کے مغربی مالوا خطے میں طویل عرصے تک زراعت خوشحال رہی ہے، اگرچہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث وہاں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

متعدد گرام چوپالوں میں ہونے والے مکالموں سے کئی بنیادی سوال سامنے آئے۔ پہلا سوال یہی تھا کہ کیا ایسے علاقوں میں منریگا کی واقعی کوئی ضرورت نہیں تھی؟ اور اگر تھی تو اب اس حق کے ختم ہونے سے وہاں کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ کیا منریگا کو صرف انہی علاقوں تک محدود رکھنا چاہیے تھا جہاں زراعت پر مکمل انحصار ممکن نہیں؟ اور اگر اسے بحال کرنے کی بات کی جائے تو کیا علاقائی ضرورتوں کو سامنے رکھنا ضروری نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ منریگا محض روزگار فراہم کرنے کا ایک حق ہے یا ایک بنیادی تبدیلی لانے والا نظام؟

منریگا مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت کی ایک ضمانت ہے، بالکل اسی طرح جیسے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کسانوں کے لیے فصل کی کم سے کم قیمت طے کرتی ہے۔ آزادی کے بعد کے ابتدائی عشروں میں ایم ایس پی کے فیصلے نے فصل کو اونے پونے داموں فروخت ہونے سے بچایا۔ بعد ازاں یو پی اے حکومت نے معمولی جنگلاتی پیداوار کے لیے بھی امدادی قیمت مقرر کی، جس سے بیچولیوں اور استحصالی آڑھتیوں کے اثر و رسوخ میں کمی آئی، اگرچہ اس نظام میں آج بھی کئی اصلاحات کی ضرورت ہے۔


دالوں اور تیلہن کی خرید صرف پیداوار کے تقریباً 25 فیصد تک محدود ہے، جبکہ اناج کی خرید پر کوئی بالائی حد نہیں۔ یہ صورتِ حال خاص طور پر چھوٹے اور حاشیے پر کھڑے کسانوں کے لیے اطمینان بخش نہیں۔ سماجی سطح پر بھی یہی کسان سب سے نچلے زینے پر ہوتے ہیں۔ منڈیوں میں سرکاری خرید کے باوجود نجی تاجروں کا غلبہ برقرار رہتا ہے، تاہم سرکاری قیمت کی قانونی حیثیت ایک بڑی ڈھال ضرور ہے۔

منریگا نے مزدوروں کو بھی اسی نوعیت کا ایک تبدیلی لانے والا حق فراہم کیا۔ ایک قبائلی اکثریتی ضلع کے قریب رہائش کے باعث بچپن سے صبح سویرے چوک پر اترنے والے مزدور مرد و خواتین کو دیکھنا معمول تھا۔ طویل عرصے تک روزانہ کی اجرت دس یا بیس روپے سے شروع ہو کر پچاس تک تو پہنچی، مگر اس سے آگے کبھی نہ گئی—چاہے کام گھریلو تعمیر کا ہو یا کھیتی باڑی کا۔ اس طرح پوری دیہی معیشت سستی مزدوری پر قائم تھی۔ بعض “نیک دل” مالک مزدوروں کو تھوڑا بہت اناج لے جانے دیتے تھے، وہ بھی وہ جو صفائی کے دوران بچ جاتا تھا۔

منریگا نے اس صورتحال کو بدل دیا۔ کلیکٹر ریٹ کے تحت پہلے 150 روپے اور پھر بتدریج مغربی مالوا میں کم از کم اجرت 222 روپے تک پہنچی۔ آج دیہی علاقوں میں کہیں بھی 300 روپے سے کم مزدوری نہیں دی جاتی۔ منریگا نے مزدوروں کی اجرت میں ایک طرح کا انقلاب برپا کیا۔ اسی لیے بار بار یہ مطالبہ اٹھا کہ منریگا کو زراعت سے جوڑا جائے، خاص طور پر بڑے کسانوں کی جانب سے یہ تجویز عام رہی۔

منریگا کو جزوی طور پر زراعت سے جوڑا بھی گیا۔ چھوٹے کسانوں کو اپنی زمین کی بہتری کا موقع ملا، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کام کرتے اور اجرت حکومت ادا کرتی۔ مگر اگر منریگا کو مکمل طور پر زراعت سے جوڑ دیا جاتا تو اجرت کی شرح ایک بار پھر نیچے آ جاتی۔ آج بھی ایسا ہی ہوگا اگر اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔ مزدوروں کو سرکاری شرح تو ملے گی، مگر مسابقتی اجرت کا فائدہ ختم ہو جائے گا اور وہ صرف مقررہ نرخ پر کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔


نئی مجوزہ اسکیم اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ چونکہ اب کام مانگ پر مبنی نہیں ہوگا اور نہ ہی سال بھر دستیاب رہے گا، اس لیے زرعی موسم میں مزدور کے پاس کوئی متبادل نہیں بچے گا۔ وہ زمین کے مالک کی مقرر کردہ اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوگا، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک ہی سال میں مزدوری کی شرح گرنے لگے گی۔

کئی ترقی پسند حلقوں کا ماننا ہے کہ دیہی علاقوں میں جہاں زمین کے مالک پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، وہاں یہ نئی ترتیب انہیں خوشگوار محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس سے پرانی سماجی بالادستی کی واپسی ممکن ہے۔ یہی طبقہ اقتدار کے قریب بھی ہے۔ اسی کے ایک محدود حصے نے اکثریتی سیاست کو تقویت دی، جو درج فہرست طبقات کو زمین کے پٹے دینے، بینکوں کے قومیانے اور سودخوری پر پابندی جیسے اقدامات کا مخالف رہا ہے۔

تاہم گزشتہ برسوں میں زراعت پر دباؤ بھی بے حد بڑھا ہے۔ چھوٹے کسانوں کو بڑھی ہوئی اجرت ادا کرنی پڑتی ہے، مگر وسائل کی کمی انہیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ کسان کی لاگت ہر طرف سے بڑھی ہے، مگر اس تناسب سے فصل کی قیمت نہیں بڑھی۔ جن علاقوں میں کبھی سویا بین جیسی فصل منافع بخش تھی—2011-12 میں جس کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے تک پہنچی—وہاں درآمدی سویا بین نے بازار کو گرا دیا۔ حکومت بڑے کاروباری مفادات کے مطابق کسٹم ڈیوٹی طے کرتی ہے۔ نتیجتاً سویا بین سستی اور تیل مہنگا ہو جاتا ہے، جبکہ اندرونِ ملک خریداری کی قیمتیں گر جاتی ہیں۔

ایسے حالات میں بڑے کسان بھی، جو زمین کے مالک اور پسماندہ طبقات سے ہیں، معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ بڑھتی لاگت اور اجرت کے مقابلے میں آمدنی کم ہو رہی ہے۔ جب حکومت مسائل حل نہ کر سکی تو سارا غصہ سب سے کمزور طبقے پر نکالا گیا۔ ممکن ہے کہ اس تبدیلی سے کچھ کسانوں کو وقتی راحت محسوس ہو، اور شاید یہ قدم انہیں اپنے سیاسی حق میں کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہو تاکہ ذات پر مبنی مردم شماری اور سماجی انصاف کی تحریک کو کمزور کیا جا سکے۔


یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ حکومت نے یہ قدم کسانوں کی تکلیف سمجھ کر نہیں اٹھایا۔ یہ طبقہ اپنی محنت، مہارت اور اختراعی سوچ سے خوشحال ہوا ہے۔ آزادی کے بعد کے زمینی اصلاحات، جاگیرداری کے خاتمے، ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈی نے بھی کردار ادا کیا۔ اس طبقے نے پولی ہاؤس، باغبانی اور دواؤں والی فصلوں جیسے تجربات سے زراعت کو منافع بخش بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس طبقے کے خلاف رائے قائم کرنا بھی سوراج کی روح کے خلاف ہے، مگر انہیں بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنی پریشانی کم کرنے کے لیے سب سے کمزور کو مجبور کرنا انصاف نہیں۔

سوراج کا مطلب یہ ہے کہ پوری دیہی معیشت کو سمجھا جائے اور ہر طبقے کے ساتھ حساسیت برتی جائے۔ حقیقی دیہی خود کفالت اور ترقی تبھی ممکن ہے جب کسان اور مزدور—دونوں کو انصاف ملے۔ مزدور کی اجرت کم کر کے خوشحالی نہیں آ سکتی۔ کسان کو مناسب قیمت، بہتر فصل بیمہ، تجارتی پالیسی میں شمولیت اور منڈیوں میں جمہوریت کی واپسی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہ سب منریگا کو کمزور کر کے ممکن نہیں۔ کسان اور کھیت مزدور کا مشترکہ جدوجہد ہی آنے والے عشرے کی اصل آواز ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔