لاک ڈاؤن نے سروس سیکٹر کو کیا تباہ، مئی میں تاریخی گراوٹ درج: رپورٹ

’آئی ایچ ایس مارکیٹ‘ کی آج جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی مہینہ میں سروس سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں کا انڈیکس 12.6 ریکارڈ کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: كووڈ-19 وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیداوار اور نئے آرڈرز میں اپریل کے مقابلے مئی میں زبردست کمی سے ملک کی سروس سیکٹر میں دوسری بڑی تاریخی مندی ریکارڈ کی گئی۔ ’آئی ایچ ایس مارکیٹ‘کی آج جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی میں سروس کاروبار سرگرمیوں کا انڈیکس 12.6 ریکارڈ کیا گیا۔ خیال رہے ماہ درماہ کی بنیاد پر جاری آئی ایچ ایس مارکیٹ کی رپورٹ میں انڈیکس کا 50 سے نیچے رہنا کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ انڈیکس 50 سے زیادہ نیچے ہوتا ہے تو کمی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ پچاس کی سطح مستحکم اور انڈیکس کا اس سے زیادہ ہونا تیزی کا اشاریہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 14 سالہ تاریخ میں اس سال اپریل کے بعد کی یہ سب سے گراوٹ ہے۔ اپریل میں انڈیکس 5.4 پر رہا تھا۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ نے 14 سال پہلے ہی سروس سیکٹر کے اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے یکم جون کو مینوفیکچرنگ کے شعبے کے اعداد و شمار جاری کئے گئے تھے اور اس میں بھی زبردست گراوٹ کے ساتھ انڈیکس 30.8 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آئی ایچ ایس مارکیٹ کے ماہر اقتصادیات جو ہیج نے رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروس سیکٹر میں ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کی مانگ کمزور ہے۔ كلائنٹس کا کاروبار بند رہنے اور گاہکوں کے آنے میں تاریخی کمی کی وجہ سے مانگ میں بھی گراوٹ آئی ہے، مسٹر ہیج نے کہا کہ جی ڈی پی کے كووڈ -19 سے پہلے کی سطح پر پہنچنے میں وقت لگے گا۔ کمزور مانگ کے درمیان کمپنیوں نے جم کر ملازمین کی چھٹنی کی تاہم اس کی رفتار بھی اپریل کے مقابلے میں کم رہی۔ ان سب کے درمیان اگلے ایک سال کے لئے کاروباری سرگرمیاں تاریخی کمترین سطح پر رہی۔

Published: 3 Jun 2020, 3:29 PM