ایل آئی سی کے سرمایہ کاروں کو 1.2 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ، ایشیو پرائس سے 20 فیصد نیچے گرے شیئر

لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا کے شیئر ایکسچینج لسٹنگ کے بعد سے ہی گر رہے ہیں، لہٰذا جن سرمایہ کاروں نے آئی پی او میں اپنا پیسہ لگایا تھا، ان کے پورٹ فولیو میں زبردست ڈیویلویشن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لائف انشورنس کاپوریشن آف انڈیا کے شیئر ایکسچینج لسٹنگ کے بعد سے ہی گر رہے ہیں، لہٰذا جن سرمایہ کاروں نے آئی پی او میں اپنا پیسہ لگایا تھا، ان کے پورٹ فولیو میں زبردست ڈیویلویشن کا سامنا کرنا پڑا ہے، یعنی ان کے قدر میں کمی ہوئی ہے۔ حکومت نے اپنی 3.5 فیصد شراکت داری آئی پی او کے ذریعہ فروخت کی تھی۔ آئی پی او میں ایل آئی سی کی قیمت 6 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس رپورٹ کو لکھے جانے تک کمپنی کا مارکیٹ سرمایہ تقریباً 4.8 لاکھ کروڑ روپے تھا، جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کو حال ہی میں 1.2 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

دیرینہ ایل آئی سی کے شیئروں نے 17 مئی کو اسٹاک ایکسچینج میں کمزور لسٹنگ کی۔ یہ اسٹاک ایکسچینجوں پر 8.62 فیصد کی چھوٹ پر 867 روپے پر فہرست بند ہوئی، جو کہ آئی پی او کے 949 روپے کی قیمت سے تھا۔ اب شیئر کی قیمت 756 روپے کی اپنی سب سے نچلی سطح پر ہے، جو اس کے ایشیو پرائس سے 20 فیصد سے کچھ زیادہ کی گراوٹ ہے۔ خصوصاً کمپنی کے آئی پی او کو سرمایہ کاروں سے مضبوط رد عمل ملا تھا کیونکہ انشورنس چیف کی پیشکش کو 2.89 گنا کنٹریبیوشن ملا تھا۔ اسے 16.2 کروڑ ایکویٹی شیئرس کے آئی پی او سائز کے مقابلے 46.77 کروڑ ایکویٹی شیئرس کے لیے بولیاں ملیں۔


بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے پالیسی ہولڈرس کو 60 روپے کی چھوٹ کی پیشکش کی گئی، جب کہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے یہ چھوٹ 45 روپے تھی۔ کمائی کی بات کریں تو ریاست کے ذریعہ چلنے والی بیمہ کمپنی نے مالی سال 22-2021 کے دوران 2409 کروڑ روپے کا منافع درج کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی سے سالانہ بنیاد پر 17 فیصد کم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔