کیوں نہ کہوں: وبا تو نہیں لیکن بے روزگاری اور معاشی تنگی ضرور جان لے لیگی

میں یہ کیوں نہ کہوں کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریب مزدوروں نے جو تکالیف برداشت کی ہیں اور جس طرح پریشان ہو کر وہ خوفزدہ اپنے گھروں پر پہنچے ہیں اصل میں وہی اس ویکسین کے پہلے مستحق ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

زندگی میں اچانک شامل ہوئے نئے ضابطوں میں سماجی دوری، منھ پر ماسک، ورک فرام ہوم، آن لائن تعلیم وغیرہ گزشتہ دس ماہ کے دوران لازمی حصہ بنے رہے۔ اس کے ساتھ لوگوں نے کاڑھا خود پینے اور دوسروں کو پینے کی تلقین خوب کی، اپنے تجربات سانجھا کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیم لینے کے لئے کہتے رہے اور شہروں کی تو بڑی آبادی نے گھروں میں آکسیجن ناپنے کے لئے آکسیمیٹر خرید لئے۔ بہرحال خوف کے سائے میں جیتے ہوئے زندہ رہنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے، ساتھ ہی ایک طبقہ اس رائے کا بھی اظہار کرتا رہا کہ کورونا ورونا کچھ نہیں ہے، سب بکواس ہے اور سرمایہ داروں اور طبی کمپنیوں کی ایک سازش ہے۔

اب جب دنیا کے کئی ممالک میں کورونا کی ویکسین بن چکی ہے اور اس کا استعمال بھی بڑے پیمانہ پر شروع کیا جا چکا ہے، خود ہندوستان میں دو ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کے لئے منظوری دی جا چکی ہے، وبا کا خوف دبے پاؤں جاتا نظر آ رہا ہے اور اعتماد کی بحالی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں کورونا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن نے سماجی زندگی اور معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ سماجی زندگی تو اس قدر متاثر ہوئی کہ لوگ اپنے سگوں سے خوفزدہ رہنے لگے تھے۔ اس کی وجہ سے جہاں بہت سے خاندان اپنے قریبی اور عزیزوں کی تدفین وغیرہ میں شرکت نہیں کرپائے وہیں عبادت گاہوں کے بند ہونے سے بزرگ مذہبی افراد کی سماجی زندگی پوری طرح تباہ ہوگئی۔

کورونا وبا سے لڑتے وقت جہاں ہماری حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کیا وہیں وزیر اعظم نے الگ الگ موقعوں پر خطاب کر کے عوام سے کبھی تالی اور تھالی بجوائی تو کبھی چراغاں کرایا۔ سماج کے ایک طبقہ نے ملک کے دوسرے طبقہ کو اس وبا کے پھیلاؤ کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا، اس وبا کو ہندوستان کے عالمی طاقت بننے کا ذریعہ بننے کی تشہیر شروع کر دی اور بابا رام دیو نے اس کی دوا کا بھی اعلان کر دیا، جس کے لئے ایک پریس کانفرنس بھی کر دی گئی۔ وہ تو وقت رہتے ان کی اس دوا کو خارج کر دیا گیا۔ گزشتہ دس ماہ کے دوران سب کچھ ہوا لیکن اب پوری دنیا سے ایک ساتھ اس وبا سے بچاؤ کے لئے ویکسین تیار ہونے کی خبریں آنی شروع ہو گئیں۔

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بایئڈن، اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس ویکسین کو لگوایا اور اس کی تشہیر بھی کی۔ اب ہندوستان میں دو کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسین کو استعمال کی منطوری مل چکی ہے۔ اس کو کیسے ریاستوں میں لگوایا جائے گا اس کے لئے ڈرائی رن بھی شروع ہوچکا ہے، بس اس میں ابھی وزیراعظم کے خطاب کا تڑکا لگنا باقی ہے۔ بہاراسمبلی انتخابات کے بعد سے وزیراعظم نے قوم سے خطاب بھی نہیں کیا ہے۔ ان کا آخری قوم سے خطاب اکتوبر ماہ میں ہوا تھا۔ وزیر اعظم اس کے باقائدہ شروع کرنے کے اعلان کے لئے کسی دن یا رات کو قوم کے سامنے آئیں گے یا 26 جنوری کے موقع کو اس کے لئے استعمال کریں گے، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم اس موقع کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے اور اس سب کے لئے اپنی حکومت کی پیٹھ بھی تھپتھپائیں گے۔ ویسے اس وبا سے لڑائی کے دوران دنیا کے بہت کم ممالک کے سربراہوں نے تالی تھالی بجوائی ہو، یہ ضرور ہے کہ دنیا کے سربراہوں نے وبا سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی۔

ویکسین دنیا کی کئی کمپنیوں نے تیار کرلی ہے اور دنیا میں اس کا استعمال بھی شروع ہوچکا ہے، ویکسین کے استعمال سے عوام میں مزید اعتماد پیدا ہوگا اور خوف کم ہوگا۔ اس وبا کی وجہ سے بڑی تعداد میں ملک کی آبادی متاثر ہوئی ہے اس لئے ویکسین کے ساتھ ان کو کھڑا کرنے پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں یہ کیوں نہ کہوں کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریب مزدوروں نے جو تکالیف برداشت کی ہیں اور جس طرح پریشان ہو کر وہ خوفزدہ اپنے گھروں پر پہنچے ہیں اصل میں وہی اس ویکسین کے پہلے مستحق ہیں۔ اگر جیسا ہوتا رہا ہے ویسا ہی ہوا کہ صرف پیسے والے اور رسوخ والے لوگ ہی اس کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہیں گے تو ان غریبوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر زیادتی ہو گی۔ بہرحال ان غریبوں کا یہ وبا تو کچھ بگاڑ نہیں پائے گی لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس وبا سے پیدا ہونے والی معاشی تنگی اور بے روزگاری ان غریبوں کی جان ضرور لے لیگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next