اب عالمی ریٹنگ ایجنسی ‘ایس اینڈ پی’ نے بھی ہندوستانی معیشت کو بتایا ’بحران کا شکار‘

ایس اینڈ پی ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ ہندوستانی معیشت سنگین بحران کے دور سے گزر رہی ہے اور اس کی شرح ترقی موجودہ مالی سال میں 5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایس اینڈ پی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہندوستانی معیشت سنگین بحران کے دور سے گزر رہی ہے اور اس کی شرح ترقی موجودہ مالی سال میں 5 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔ ایس اینڈ پی نے ایک اَپ ڈیٹ میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے جس میں اس نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ "ہندوستان کی معیشت سنگین بحران میں ہے۔ وائرس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات، کمزور پالیسی پر مبنی رد عمل اور داخلی کمزوری، خاص طور سے پورے مالی سیکٹر میں، ہمیں موجودہ مالی سال میں شرح ترقی میں 5 فیصد گراوٹ کی طرف لے جا رہی ہے جب کہ 2021 میں اس میں بہتری آئے گی۔"

ایس اینڈ پی نے 'ایشیا پیسفک لاسیس نیئر 3 ٹریلین ڈالر ایج بیلنس شیٹ رسیسن لومس' نامی اپنی رپورٹ میں اس علاقہ کی معیشت میں 2020 میں 1.3 فیصد کی گراوٹ کا اندازہ لگایا ہے، لیکن 2021 میں یہ 6.9 فیصد کی شرح سے اضافہ کر سکتی ہے اور ان دو سالوں کے دوران 30 کھرب ڈالر کا نقصان ہوگا۔

ایس اینڈ پی میں ایشیا پیسفک کے لیے اہم ماہر معیشت شون روچے نے کہا کہ "ایشیا پیسفک نے کووڈ-19 کو کنٹرول کرنے میں کچھ کامیابی پائی ہے اور کل ملا کر بااثر میکرواکونومک پالیسیوں کے ذریعہ رد عمل دیا ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "یہ تھوڑی مددگار ہو سکتی ہے اور اصلاح کے لیے ایک پُل مہیا کرا سکتی ہے۔ حالانکہ لگتا ہے کہ ریکوری قرض سے ڈوبے بیلنس شیٹ کے سبب دھیمی ہوگی۔"

روچے نے کہا کہ "کووڈ-19 کے سبب گراوٹ کسی بیلنس شیٹ بحران کی شکل میں شروع نہیں ہوئی تھی لیکن بیلنس شیٹ بحران کی شکل لے سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کم سرمایہ کاری، دھیمی وصولی، اور معیشت پر ایک جھٹکا جو ویکسین آنے کے بعد بھی بنا رہے گا۔"

Published: 27 Jun 2020, 7:40 PM