چھ ماہ میں ہموار ہو جائے گا مزید ایک منافع بخش سرکاری کمپنی کو بیچنے کا راستہ!

حکومت نے مارچ 2020 میں بی پی سی ایل کو فروخت کرنے کے لیے بولی مدعو کی تھی، نومبر 2020 تک کم از کم تین بولیاں آ چکی تھیں، لیکن حکومت اسے بیچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

بی پی سی ایل دفتر
بی پی سی ایل دفتر
user

قومی آوازبیورو

مرکز کی مودی حکومت ایک کے بعد ایک سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کا راستہ صاف کر رہی ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) کی نجکاری کا راستہ آئندہ چھ ماہ میں ہموار ہو جائے گا۔ اس بات کی جانکاری ڈی آئی پی ایم (ڈپارٹمنٹ آف انویسٹمنٹ اینڈ پبلک ایسیٹ مینجمنٹ) کے سکریٹری توہن کانت پانڈے نے دی ہے۔ بی پی سی ایل کی خرید میں دلچسپی دکھانے والی تین میں سے دو کمپنیوں نے اپنے ہاتھ واپس کھینچ لیے تھے، اس کی وجہ سے حکومت نے بی پی سی ایل کی نجکاری کے عمل کو رد کر دیا تھا۔ یعنی ایک بار پھر سے اس کو فروخت کرنے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔

توہن پانڈے کا کہنا ہے کہ ’’جہاں تک بی پی سی ایل کی نجکاری کی بات ہے، تو ہمیں کچھ وقت انتظار کرنا ہوگا۔ ابھی حالات کا جائزہ لینا ہوگا پھر کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میرے حساب سے آئندہ چھ ماہ میں چیزیں ہمارے لیے صاف ہو جائیں گی کہ ہمیں بی پی سی ایل کے معاملے میں کس طرح آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘ توہن پانڈے نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دنوں بازار کے حالات موافق نہیں تھے، اسی وجہ سے حتمی طور پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔


واضح رہے کہ حکومت نے پالیسی پر مبنی ڈِس انویسٹمنٹ کے ذریعہ بی پی سی ایل میں اپنی پوری 52.98 فیصد شراکت داری فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ حکومت نے مارچ 2020 میں بی پی سی ایل کو فروخت کرنے کے لیے بولی مدعو کی تھی۔ نومبر 2020 تک کم از کم تین بولیاں آ چکی تھیں، لیکن حکومت اسے بیچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حکومت نے مالی سال 23-2022 کے لیے 65000 کروڑ روپے کے ڈِس انویسٹمنٹ کا ہدف مقرر کیا ہے، جو ہدف سے کافی کم ہے۔ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ 65 ہزار کروڑ روپے کا ہدف بھی کچھ زیادہ ہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔