یس بینک صارفین کے لئے خوش خبری، پیسے نکالنے پر عائد پابندی ہٹی

حکومت نے 13مارچ کو دیر رات بینک کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق بینک سے پیسے نکالنے پر لگی پابندی بدھ کی شام 6 بجےہٹا دی گئی ہے۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: نجی شعبہ کے چوتھے بڑے بینک یس بینک لمیٹڈ کی تشکیل نو کے ساتھ ہی بدھ کی شام چھ بجے سے پیسے نکالنے سمیت ہر طرح کی پابندی ہٹا لی گئی ہے اور اب اس کے گاہک عام دنوں کی طرح لین دین کرسکتے ہیں۔

اس بینک کے بحران میں پھسنے کے بعد گزشتہ پانچ مارچ کو ریزرو بینک نے بینک سے پیسے نکالنے کی حد 50 ہزار طے کردی تھی اور اس سے زیادہ پیسے بینک سے نکالنے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ حد 30 دنوں کےلئے طے کی گئی تھی لیکن حکومت اور ریزرو بینک نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے اس کی تشکیل نو کرنے کا فیصلہ کیا جس سے صرف 13دنوں میں ہی گاہکوں کو عام بینکنگ کی سہولت ملنے لگی ہے۔

حکومت نے 13مارچ کو دیر رات بینک کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق بینک سے پیسے نکالنے پر لگی پابندی بدھ کی شام 6 بجےہٹا دی گئی ہے۔ بینک کاری ریگولیشن ایکٹ 1949 کے تحت جاری اس نوٹیفکیشن میں بینک کے لئے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی تشکیل کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے سابق چیف فنانس افسر اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر پرشانت کمار کو تشکیل نو یس بینک کا چیف ایگزیکٹیو افسر مقرر کیا گیا ہے۔ مہیش کرشن مورتی اور اتول بھیڈا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بنائے گئے ہیں۔ریزروبینک آف انڈیا اڈیشنل ڈائریکٹرس کے طور پر ایک یا زیادہ لوگوں کو مقرر کر سکے گا۔

نو تشکیل شدہ بینک، یس بینک کی پرانی سبھی دین داریوں کو پورا کرے گا۔ بینک کے پاس رکھی سبھی جمع رقوم اور دین داری، دین داروں کے حقوق مکمل طور پر غیر موثر رہیں گے۔ بینک کے سبھی ملازمین کو کم از کم ایک سال تک پہلے کی طرح تنخواہ بھتے ملتے رہیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یس بینک سے پیسے نکالنے پر لگی روک تین کام کے دنوں میں ہٹا دی جائے گی اور بینک کے لئے مقرر انتظامیہ سات دنوں میں دفتر خالی کردیں گے۔ اس طرح سے بدھ کی شام چھ بجے سے پیسے نکالنے پر لگی پابندی ختم ہوگئی ہے۔ نوتشکیل شدہ بینک کا مقررہ سرمایہ 6200 کروڑ روپے ہوگا اور اس کے شیئر کی قیمت دو روپے ہوگی۔ مقررہ شیئر سرمایہ 200 کروڑ روپے بنا رہے گا۔

کابینہ نے بھی تشکیل نو منصوبے کو منظوری دی تھی۔ یس بینک میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 49 فیصد حصہ داری لی ہے اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں دو رکن ہوں گے۔ وہ اپنے سرمایہ میں سے 26 فیصد حصہ داری کی تین سال تک سرمایہ کاری نہیں کرسکے گا۔ یہ لاکنگ مدت ہے۔ دیگر سرمایہ کاروں کے لئے یہ مدت 75 فیصد اور تین سال ہے۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذریعہ حکومت کو سونپے گئے سرمایہ کی تجویز کے مطابق نو تشکیل شدہ بینک میں 11ہزار کروڑ روپے کا سرمایہ کیا جائے گا، جس میں اسٹیٹ بینک 7250 کروڑ روپے سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی نجی شعبہ کی چار اہم مالیاتی کمپنیاں ایچ ڈی ایف سی لمیٹڈ اور آئی سی آئی سی آئی بینک ایک ایک ہزار کروڑ روپے سرمایہ کرے گا جبکہ ایکسس بینک 600 کروڑ روپے اور کوٹک مہندرا 500کروڑ روپے کا سرمایہ کاری کرے گا۔ بھارتیہ جیون بیمہ نیگم(ایل آئی سی) کے بھی اس میں سرمایہ کاری کرنے کی بات ہے لیکن وہ کتنی رقم کی سرمایہ کاری کرے گا یہ ابھی واضح نہیں کیا گیا ہے لیکن بورڈ آف ڈائریکٹرس کی منظوری کی بنیاد پر ہی یہ سرمایہ کاری کرے گا۔