ڈووال کے بیٹے کی کیمین جزیرے میں ’ڈی کمپنی‘، غیر ملکی سرمایہ کاری کا 17 سالہ ریکارڈ ٹوٹا

کیمین جزیرے کو ٹکس ہیون قرار دیا جاتا ہے یعنی یہاں کی کمپنیوں کو ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ اس جزیرے میں جوں ہی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے بیٹے نے کمپنی بنائی، ایف ڈی آئی میں تاریخی اضافہ ہو گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

لفظ ’ڈی کمپنی‘ کو انڈر ورلد ڈان داؤد ابراہیم سے جوڑا جاتا ہے اور مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ایسی خبریں خوب پھیلائی گئیں کس طرح قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال ’ڈی کمپنی‘ کی کمر توڑنے کیلئے آپریشن انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ’کارواں میگزین‘ نے اب اجیت ڈووال کے خاندان سے وابستہ کمپنی کو ہی ڈی کمپنی کا نام دے دیا ہے۔

اس حوالہ سے کارواں میگزین سے وابستہ صحافی کوشل شراف کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحافی نے برطانیہ، امریکہ، سنگاپور اور کیمین جزیرے سے بہت سے حاصل کئے ہیں، جن سے معلوم چلتا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے چھوٹے بیٹے وویک ڈووال کیمین جزیرے (آئیز لینڈ) میں ایک سرمایہ کاری فنڈ یعنی ہیز فنڈ چلاتے ہیں۔ یہاں غورطلب بات یہ ہے کہ کیمین جزیرے کو ٹیکس ہیون یعنی ایسا مقام قرار دیا جاتا ہے جہاں سے کاروبار کرکے بڑے بڑے تاجر ٹیکس کی چوری کرتے ہیں۔

کارواں کو حاصل ہوئے دستاویزات کے مطابق ہیز فنڈ 2016 میں نوٹ بندی کا اعلان ہونے کے 13 دن بعد رجسٹر کرایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وویک ڈووال کا کاروبار ان کے بھائی اور اجیت ڈووال کے بڑے بیٹے شوریہ ڈووال سے وابستہ ہے۔ شوریہ ڈووال مودی حکومت کے نزدیکی تھنک ٹینک ’انڈیا فاؤنڈیشن‘ کے سربراہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق این ایس اے اجیت ڈووال کے حوالہ سے 2011 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے ٹیکس ہیون اور بیرونی کمپنیوں پر روک لگانے کی وکالت کی تھی لیکن انہیں ٹیکس ہیون میں اب ان کے بیٹے ہیز فنڈ چلا رہے ہیں۔

کارواں کے مطابق وویک ڈووال ماہر اقتصادیات ہیں اور امریکی شہریت حاصل ہے۔ سال 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈووال کے ہیز فنڈ کا نام ’جی این وائی ایشیا فنڈ‘ ہے اور اس میں ڈان ڈبلیو ای بینکس اور محمد الطاف مسلیام ویتر ڈائریکٹر ہیں۔ ای بینکس کا نام پیراڈائز پیپرز میں بھی آ چکا ہے۔ وہ کیمین جزیرے میں رجسٹرڈ دو کمپنیوں میں ڈائریکٹر ہیں۔ ای بینکس کبھی کیمین حکومت کے ساتھ کام کرتے تھے اور وہاں کے وزیر خزانہ اور دوسرے وزرا کو صلاح دیتے تھے۔ وہیں محمد الطاف ’لولو گروپ انٹر نیشنل‘ کے ریجنل ڈائریکٹر ہیں۔ یہ کمپنی ویسٹ ایشیا میں تیزی سے بڑھتی ’ہائیپر مارکٹ‘ کی چین چلاتی ہے۔ ’جی این وائی ایشیا فنڈ‘ کا جو قانونی پتا دیا گیا ہے اس کے مطابق یہ ’وارکس کارپوریٹ لمیٹڈ‘ سے جڑی کمپنی ہے جس کا نام پناما پیپرز میں آ چکا ہے۔

کارواں کے صحافی نے وویک ڈووال اور ان کے بڑے بھائی شوریہ ڈووال کی کمپنیوں کے تعلقات کا پتا لگایا ہے۔ شوریہ کے ہندوستان میں کاروبار سے جڑے بہت سے ملازمین جی این وائی ایشیا اور اس کی کمپنیوں کے ساتھ بھی قریب سے جڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ان دونوں بھائیوں کے کاروبار کے تار سعودی عرب کے شاہی السعود خاندان سے بھی جڑے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جی این وائی ایشیا کو 21 نومبر 2016 کو رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔ اس کے ہیز فنڈ ریسرچ ہیڈ کے طور پر ماہر اقصادیات امت شرما کام کرتے ہیں اور وہ پورٹ فولیو منیجر بھی ہیں۔ کارواں کا دعوی ہے کہ اسے ملی اطلاعات کے مطابق اسیٹ منیجمنٹ کمپنی گورڈیل کیپیٹل سنگاپور پرائیوٹ لمیٹڈ، ہیز فنڈ کو چلانے والی کمپنی ہے جسے جی این وائی کی کمائی کا 3 فصد حصہ حاصل ہوتا ہے۔ گورڈین کیپیٹل کی ویب سائٹ کے مطابق جی این وائی ایشیا کی مالی مشیر لندن واقع جی این وائی کیپیٹل لمیٹڈ ہے۔ برطانیہ میں جمع کمپنی کے دستاویزات کے مطابق اکتوبر 2016 تک جی این وائی کی کل املاک 5400 پاؤنڈ تھی، جو 4.40 لاکھ ہندوستانی روپے کے برابر ہے۔

یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ ہیز فنڈ چلانے کے لئے ابتدائی طور پر رقم کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی بعد میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے لیکن جی این وائی کی ابتدائی رقم کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ بزنس نیوز شائع کرنے والی بلوم برگ سے گفتگو کے دوران امت شرما نے بتایا، ’’ابتدائی رقم کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کے حکمت عملی ساز سرمایہ کار سے حاصل کیا جائے گا۔‘‘ بتایا گیا تھا کہ کمپنی اس سال دسمبر سے جی این وائی ٹریڈنگ شروع کرے گی اور یہ اوسط 30 اسٹاک پر توجہ دے کر کاروبار کرے گی۔ امت شرما نے اس وقت یہ انکشاف نہیں کیا تھا کہ جی این وائی ایشیا کی ملکیت کتنی ہے۔ امریکہ کے ’سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن‘ میں جمع دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی 2018 تک کل ہیز فنڈ 11.19 ملین ڈالر یعنی 77 کروڑ روپے ہو گیا تھا۔

کل ملا کر کمپنیوں کا ایک ایسا جال بچھا ہوا ہے جس سے کروڑوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ اس پوری کہانی کو نیچے دئے گئے نکات سے سمجھا جا سکتا ہے اور ان سے کچھ ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جواب حکومت کو دینے ہوں گے۔

بڑے سوالات:

  • کیمین جزیرے سے 17 سالوں میں جتنی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی، اس کے برابر سرمایہ کاری صرف ایک سال میں کس طرح ہو گئی؟
  • کیمین جزیرے سے 2000 سے 2018 کے درمیان تقریباً اتنا ہی پیسہ ایک سال میں کس طرح آ گیا؟
  • کیا نوٹ بندی اور ’جی این وائی‘ کے قیام کے درمیان کوئی تعلق ہے؟

ڈی کمپنی نمبر-1 (وویک ڈووال)

  • وویک ڈووال اور شوریہ ڈووال قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے بیٹے ہیں۔
  • وویک ڈووال کیمین جزیرے میں ہیز فنڈ یعنی سرمایہ کاری فنڈ چلاتے ہیں۔
  • کیمین جزیرے کو ٹیکس چوروں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔
  • وویک ڈووال کے ہیز ہنڈ کا نام جی این وائی ایشیا فنڈ ہے۔
  • اس فنڈ کو 2016 کے نومبر میں ہوئی نوٹ بندی کے 13 دن بعد رجسٹر کرایا گیا تھا۔
  • وویک ڈووال ماہر اقتصادیات ہیں، مریکہ شہری ہیں اور سنگاپور میں رہتے ہیں۔
  • وویک کی کمپنی میں ڈان ڈبلیو ای بینکس اور محمد الطاف مسلیام ویتر ڈائریکٹر ہیں۔
  • ای بینکس کا نام پیراڈائیز پیپرز معاملہ میں آ چکا ہے۔
  • محمد الطاف لولو گروپ کے ریجنل ڈائریکٹر ہیں۔
  • جی این وائی ایشیا فنڈ کو جو قانونی پتا ہے وہی وارکس کارپوریٹ سے وابستہ کمپنی کا ہے جس کا نام پناما پیپرز میں آ چکا ہے۔
  • وویک ڈووال کی کمپنی کا ان کے بھائی شوریہ ڈووال کی کمپنیوں سے کاروباری تعلق ہے۔
  • شوریہ کے کاروبار کے لئےت کام کرنے والے کئی ملازمین جی این وائی ایشیا سے بھی جڑے ہیں۔
  • ان دونوں بھائیوں کے تار سعودی عرب کے شاہی خاندان سے جڑے ہیں۔
  • جی این وائی کی 2016 میں کل املاک 5400 پاؤنڈ یعنی 4.40 لاکھ روپے کی تھی۔
  • جولائی 2018 میں جی این وائی کا کل ہیز فنڈ 11.19 ملین ڈالر یعنی 77 کروڑ روپے ہو گئی
  • جی این وائی کی آفیشیل کسٹوڈین یعنی سرپرست کمپنی ایڈلوائیز کسٹوڈیل سروس لمیٹڈ ہے۔
  • ایڈیلوائیز نے 2017 میں انڈیا کانفرنس کے نام سے سرمایہ کاروں کی کانفرنس منعقد کی تھی۔
  • اس کانفرنس میں جی این وائی ایشیا نے بھی حصہ لیا تھا۔
  • جی این وائی نے اس کانفرنس کے دوران ہندوستان کی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں اور بینکنگ تنظیموں کے ساتھ اسٹیج کا اشتراک کیا تھا۔
  • جس وقت یہ کانفرنس ہوئی اس وقت تک جی این وائی ایشیا کے پاس لیگل اینٹٹی آئیڈینٹی فائر کوڈ نہیں تھا۔
  • یہ 20 حروف کا کوڈ مالی علاقہ میں لین دین کرنے والی کمپنیوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
  • جی این وائی ایشیا کو ستمبر 2017 میں یہ کوڈ حاصل ہوا۔
  • جی این وائی ایشیا ایف پی آئی میں بھی رجسٹر نہیں ہے جوکہ سیبی کی طرف سے طے شدہ زمرے کے لئے ضروری ہے۔
  • نومبر 2018 میں جی این وائی کیپیٹل نے اپنا پتا بدلا اور جو نیا پتا دیا گیا وہ 120 دوسری کمپنیوں کا بھی پتا ہے۔
  • کیمین جزیرے سے 2017 میں ہندوستان کو ہونے والی براہ راست سرمایہ کاری اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی۔
  • آر بی آئی کے مطابق اس سرمایہ کاری میں 2226 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔
  • کیمین جزیرے سے 2017 میں 1140 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہندوستان میں کی گئی۔
  • دسمبر 2017 اور مارچ 2018 کی دو سہ ماہی میں کیمین جزیرے سے 1.08 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔

ڈی کمپنی نمبر-2 (شوریہ ڈووال)

  • وویک ڈووال کا بیرونی کاروبار ایشیا میں ان کے بڑے بھائی شوریہ ڈووال کے کاروبار سے جڑا ہے۔
  • شوریہ ڈووال بیرونی ملک میں انویسٹمنٹ بینکر تھے لیکن 2009 میں ہندوستان آ گئے تھے۔
  • شوریہ ڈووال انڈیا فاؤنڈیشن ڈائریکٹر بن گئے۔
  • انڈیا فاؤنڈیشن بیرونی سفیروں اور معجز لوگوں کا اجلاس منعقد کرتی ہے۔
  • نیویارک کے میڈیسن سکوائر میں وزیر اعظم مودی کے پروگرام کا انعقاد انڈیا فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔
  • مودی حکومت کے کئی وزرا انڈیا فاؤنڈیشن میں ڈائریکٹر ہیں۔
  • شوریہ ڈووال کے کاروبار ان کے بھائی کے کاروبار سے گہرائی سے جڑے ہیں۔
  • شوریہ ڈووال سنگاپور کی اسیٹ منیجمنٹ کمپنی ٹارچ انویسٹمنٹ کے سی ای او ہیں۔
  • اس سے پہلے شوریہ ہندوستان کی زیئس کیپ کے سربراہ تھے۔
  • سال 2017 میں زیئس کیپ کا انضمام ٹارچ انویسٹمنٹ میں ہو گیا۔
  • جنوری 2019 میں ٹارچ انوسٹمنٹ کے سربراہ کی حیثیت سے شوریہ نے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رائسینہ ڈائیلاگ میں حصہ لیا تھا۔
  • وویک ڈووال کی جی این وائی ایشیا کے ڈائریٹر امت شرما دہلی کی کمپنی وائی فن ایڈوائیزر کے بھی ڈائریکٹر ہیں۔
  • وائی فن ایڈوائیزر کے واح شیئر ہولڈر شوریہ ڈووال ہیں۔
  • ٹارچ فنانشل سروسز کے بورڈ میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے مشعل بن عبداللہ بن ترکی بن عبد العزیز بھی شامل ہیں۔