کورونا وائرس سے کئی خوشحال ممالک کی معیشت تباہ، لاکھوں ملازمتیں ختم

او این ایس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی کے شروعاتی اشارے یہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں پیرول پر ملازمین کی تعداد میں مارچ کے مقابلے 2.1 فیصد یا 612000 کی گراوٹ ہوئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

برطانیہ کے قومی اسٹیٹسٹکس دفتر (او این ایس) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے سبب نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لیبر مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانوی پیرول پر ملازمین کی تعداد 6 لاکھ سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق او این ایس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی کے شروعاتی اشارے یہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں پیرول پر ملازمین کی تعداد میں مارچ کے مقابلے 2.1 فیصد یا 612000 کی گراوٹ ہوئی ہے۔

او این ایس ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ سے مئی تک پورے برطانیہ میں 476000 اسامیاں تھیں، جو گزشتہ سہ ماہی (دسمبر 2019 سے فروری 2020) سے 342000 کم ہے۔ یہ 2001 میں شروع ہوئی موجودہ سیریز کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی سہ ماہی گراوٹ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سوشل ڈسٹنسنگ کی ترکیبوں کے سبب ہوٹل، ریسٹورینٹ اور خوردہ اسٹور بند ہونے کی وجہ سے تھوک، خوردہ کاروبار اور موٹر گاڑی رپیئر انڈسٹری سیکٹر میں اسامیوں میں 49.9 فیصد سہ ماہی گراوٹ آئی ہے اور ایکوموڈیشن اور فوڈ سروس سیکٹر میں اسامیوں میں 70.7 فیصد گراوٹ آئی ہے۔

معروف ماہر معیشت ہارورڈ آرچر کا کہنا ہے کہ "برطانیہ لیبر مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار واضح گراوٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔ ادائیگی بری طرح متاثر ہونے سے خریداری کی صلاحیت گھٹ گئی ہے۔" لاک ڈاؤن کی وجہ سے لگے تباہ کن جھٹکے سے نمٹنے کے لیے برطانوی حکومت نے اپنی معیشت کو ابارنے کے ایک قدم کی شکل میں انگلینڈ کی اہم سڑکوں پر غیر ضروری خوردہ دکانوں کو پیر سے کھولنے کی اجازت دے دی۔ سرکاری خزانے کے چانسلر رشی منک کا کہنا ہے کہ "معیشت کو دھیرے دھیرے اور محفوظ طریقے سے کھولنے کے ہمارے منصوبے کے حصے کی شکل میں پیر سے کتابیں، کپڑے اور الیکٹرانک سامان فروخت کرنے والی دکانیں دو مہینے سے زیادہ مدت بعد پہلی بار کاروبار کے لیے کھل گئیں۔"

Published: 17 Jun 2020, 3:11 PM