مرکزی بجٹ 2026 پر کانگریس کی تنقید، پی چدمبرم نے کہا- ’یہ نہ معاشی حکمتِ عملی ہے نہ ریاستی بصیرت‘
کانگریس نے مرکزی بجٹ 2026-27 کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نہ روزگار ہے، نہ سرمایہ کاری، نہ مہنگائی، بے روزگاری اور شہری و دیہی مسائل سے نمٹنے کی کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی

نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں مرکزی بجٹ 2026-27 پر پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اور رکن پارلیمان پی چدمبرم نے حکومت اور وزیر خزانہ کے بجٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے ہمراہ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش اور ریسرچ و مانیٹرنگ کے انچارج امیتابھ دوبے بھی موجود تھے۔ پی چدمبرم نے کہا کہ بجٹ نہ تو معیشت کے سنگین چیلنجز کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی واضح معاشی حکمتِ عملی یا ریاستی بصیرت کی جھلک نظر آتی ہے۔
پی چدمبرم نے کہا کہ چند روز قبل جاری ہونے والے اکنامک سروے میں جن بنیادی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی، بجٹ تقریر میں ان کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیرف کی وجہ سے برآمدات پر پڑنے والا دباؤ، عالمی سطح پر جاری تجارتی تنازعات، چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ، غیر ملکی سرمایہ کاری کا غیر یقینی مستقبل، مالیاتی خسارہ، مہنگائی اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق، لاکھوں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی بندش، نوجوانوں میں بے روزگاری اور شہروں میں بگڑتا ہوا بنیادی ڈھانچہ ایسے مسائل ہیں جنہیں بجٹ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں محصولات اور اخراجات دونوں میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ آمدنی میں بڑی کمی رہی اور سرمایہ جاتی اخراجات میں نمایاں کٹوتی کی گئی، مگر وزیر خزانہ نے اس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ پی چدمبرم کے مطابق مرکز کا سرمایہ جاتی خرچ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے مزید گھٹ گیا ہے، جو ترقی کے دعوؤں کے برخلاف ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں جن مدات میں کٹوتی کی گئی، وہ براہِ راست عام آدمی سے جڑی ہوئی ہیں۔ دیہی ترقی، شہری ترقی، سماجی بہبود، زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں اخراجات کم کیے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ انہوں نے جل جیون مشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی پروگرام میں ہزاروں کروڑ روپے کی کٹوتی کے بعد دوبارہ اسی سطح پر رقم دکھا دینا بجٹ کے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط پر بات کرتے ہوئے پی چدمبرم نے کہا کہ مالیاتی خسارہ اب بھی مقررہ ہدف سے کافی دور ہے اور آئندہ برس میں اس میں معمولی کمی کسی جرات مندانہ اصلاح کی علامت نہیں۔ ان کے مطابق اتنی سست رفتار سے خسارہ کم کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے، جو معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
پی چدمبرم نے بجٹ تقریر میں بار بار نئی اسکیموں، مشنوں، اداروں اور اقدامات کے اعلان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اعلانات کی بھرمار سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اصل سوال ان اسکیموں کی تفصیل، فنڈنگ اور نفاذ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے انٹرن شپ پروگرام کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں لاکھوں آفرز کے باوجود بہت کم نوجوانوں نے فائدہ اٹھایا۔
آمدنی ٹیکس اور بالواسطہ ٹیکسوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثریت کا ان ٹیکسوں سے کوئی خاص تعلق نہیں، کیونکہ عام آدمی کے لیے اصل مسئلہ روزمرہ اخراجات ہیں، جن پر بجٹ خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ یہ معیشت کے لیے سمت متعین کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جے رام رمیش نے پی چدمبرم کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو بچت میں کمی اور گھریلو قرض میں اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، مگر وزیر خزانہ نے ان اعداد و شمار کا ذکر تک نہیں کیا۔ ان کے مطابق بچت کم ہونے سے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کا اثر براہِ راست معیشت پر پڑتا ہے۔
امیتابھ دوبے نے بجٹ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ نہ روزگار پیدا کرتا ہے، نہ سرمایہ کاری بڑھاتا ہے اور نہ ہی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اعداد و شمار دینا آسان ہے، مگر اصل امتحان ان کے نفاذ اور نتائج میں ہے، جو اس دستاویز میں کہیں نظر نہیں آتے۔
پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں پی چدمبرم نے دفاعی اخراجات، تعلیم، شہری بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی منصوبوں پر بھی حکومت کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا اور معیشت کو درپیش حقیقی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔