’مہنگائی مین کے ہنٹر سے نئے سال کا آغاز‘، ایل پی جی مہنگائی پر کانگریس کا طنز
کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 111 روپے اضافے پر کانگریس نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر عوام کو مہنگائی کا تحفہ دیا گیا ہے اور حکومت صرف وصولی میں مصروف ہے

نئے سال 2026 کے پہلے ہی دن کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر حزب اختلاف کی اہم جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ پارٹی نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو عوام دشمن قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے پہلے ہی پریشان عوام پر نئے سال کے آغاز میں مزید مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
کانگریس نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ کے ذریعے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے پہلے ہی دن عوام پر ’مہنگائی مین‘ کا ’ہنٹر‘ چلایا گیا ہے۔ پوسٹ میں کہا کیا گیا کہ یکم جنوری سے کمرشل ایل پی جی سلنڈر پر 111 روپے زیادہ ادا کرنے ہوں گے، جو براہِ راست کاروباری طبقے اور بالواسطہ عام صارفین کو متاثر کرے گا۔ کانگریس نے اس تناظر میں حکومت کو ’وصولی سرکار‘ قرار دیا۔
پارٹی کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ایل پی جی سلنڈر کی تصویر شیئر کی گئی، جس پر طنزیہ انداز میں لکھا گیا کہ نئے سال پر یہ ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔ کانگریس کے مطابق یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے اور ہر موقع پر عوام کی جیب پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔
واضح رہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے یکم جنوری 2026 سے 19 کلو گرام کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 111 روپے تک اضافہ کیا ہے، جبکہ 14 کلو گرام گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ہوٹل، ریسٹورنٹ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ طبقے میں تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ کمرشل گیس کی قیمت بڑھنے سے اشیائے خورد و نوش اور خدمات مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت گھریلو گیس کی قیمتوں کو برقرار رکھ کر یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ عام صارف محفوظ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمرشل سلنڈر کی مہنگائی کا اثر آخرکار عام لوگوں تک ہی پہنچتا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کی جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔