بجٹ پیش کئے جانے سے قبل کانگریس نے معیشت کی بہتری کے لئے مرکزی حکومت کو دیئے مشورے

کانگریس لیڈران نے سال 2020-21 کے بجٹ کی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجٹ غلط خیالات پر مبنی تھا اور اگر وبا نہیں بھی پھیلتی تو بھی معیشت کا گرنا طے تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مرکزی حکومت کی طرف سے یکم فروری کو ایسے وقت میں سال 2021-22 کا عام بجٹ پیش کیا جائے گا جب معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے ختم ہونے جا رہے مالی سال 2021 کا جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت بہت ضدی ہے اور بہتر مشورہ کو نہیں مانتی، نیز حکومت اپنی تباہ کن پالیسیوں کے نتائج کے تئیں بھی لاپرواہ ہے۔

بجٹ کے حوالہ سے جمعرات کے روز کانگریس کے سینئر لیڈران پی چدمبرم، ملکارجن کھڑگے اور جے رام رمیش نے ایک مشترکہ پریس کانفرس کی اور معیشت کے حوالہ سے حکومت کو مشورہ دیا۔ پریس کانفرس میں کانگریس لیڈران نے کہا ’’چار دن بعد 2021-22 کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی رواں مالی سال کے جائزہ امور کی فہرست پیش کر رہے ہیں جنہیں 2021-22 میں کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ صاف کر دیں کہ موجودہ مرکزی حکومت سے کوئی بھی امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہمارے مشوروں پر کوئی توجہ دے گی، اس کے باوجود ہم ملک کے عوام کے سامنے اپنے مشوروں کو رکھ رہے ہیں۔’’


کانگریس لیڈران نے سال 2020-21 کے بجٹ کی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجٹ غلط خیالات پر مبنی تھا اور اگر وبا نہیں بھی پھیلتی تو بھی معیشت کا گرنا طے تھا۔ انہوں نے کہا کہ لگاتار گرتی ہوئی معیشت کو کورونا کی وبا نے زمین دوز کر کے رکھ دیا ہے اور یہ 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں منفی 23.9 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 7.5 فیصد تک گر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2020-21 کا اختتام منفی ترقی کے ساتھ ہوگا اور حکومت کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے گی، سرمایہ کاری کو دھچکا پہنچے گا، آمدنی 5 فیصد رہے گی اور مالی خسارہ بڑھ کر 7 فیصد سے زیادہ پہنچ جائے گا۔

کانگریس لیڈران نے کہا کہ ’’ہمیں خدشہ ہے کہ لیپا پوتی کر کے وزیر مالیات 2020-21 کے لئے ترمیم شدہ تخمینہ پیش کر کے 2021-22 کے لئے سنہری کہانی گڑھنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا 2020-21 کے لئے ترمیم شدہ تخمینہ جھوٹے اعداد و شمار کا پلندہ ہوگا اور 2021-22 کا بجٹ تخمینہ ایک فریب دہ وہم۔


معیشت کی گراوٹ کو روکنے کے لئے اور اصلاحات کو سرعت دینے کے لئے کانگریس لیڈران نے مندرجہ ذیل تجویزات پیش کیں اور کہا کہ حکومت سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم غلط پالیسیوں، نااہل معاشی انتظامات اور ہاتھ سے جاتے مواقع کو آپ کے سامنے پیش کریں۔ اور خوش قسمتی سے اگر ہمارے کسی مشورہ کو حکومت مان بھی لیتی ہے تو ہمیں ہندوستان کے عوام کے لئے خوشی اور راحت محسوس ہوگی۔

  • تاخیر سے ہی صحیح معیشت کو بڑی مالی امداد دی جائے۔ اس طرح کی امداد سے لوگوں کے ہاتھوں میں پیسہ پہنچے گا اور مانگ بڑھے گی۔

  • معیشت میں سب سے نیچے موجود 20 سے 30 فیصد کنبوں کے ہاتھوں میں کم از کم 6 مہینے تک براہ راست پیسہ بھیجا جائے۔

  • مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو از سر نو زندہ کرنے کا منصوبہ بنا کر لاگو کیا جائے تاکہ بند ہو چکی یونٹ دوبارہ کھل سکیں، ختم ہو چکی نوکریاں بحال ہوں اور جن لوگوں کے پاس اوسط تعلیم اور مہارت ہے ان کے لئے نوکریاں پیدا کی جا سکیں۔

  • ٹیکس کی شرحوں بالخصوص جی ایس ٹی اور دیگر بالواسطہ ٹیکس شرحوں یعنی پٹرول اور ڈیزل کی ٹیکس شرحوں میں تخفیف کی جائے۔

  • سرکاری سرمایہ کاری کے خرچ کو بڑھایا جائے۔

  • عوامی شعبہ کے بینکوں کو پیسہ پہنچایا جائے اور انہیں ہر لون پر جانچ ایجنسیوں کی نگرانی کے خوف کے بغیر قرض دینے کے لئے حوصلہ افزا کیا جائے۔

  • تحفظ پسند پالیسیوں کو ختم کیا جائے، دنیا کے ساتھ پھر سے جڑیں، زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ باہمی کاروباری معاہدے ہوں اور درآمدات کے خلاف تعصب کو ترک کیا جائے۔

  • ٹیلی مواصلات، بجلی، کانکنی، تعمیرات، ہوابازی اور سیاحت و مہمان نوازی کے لئے شعبے سے متعلق حیات نو کے پیکیجز بنائے جائیں۔

  • ٹیک قونین کے لئے جائزہ لے کر ان ترمیم کو ختم کریں جنہیں وسیع طور پر ٹیکس ٹیررازم مانا گیا ہے۔

  • آر بی آئی، سیبی، ٹرائی اور دیگر ریگولیٹری ایجنسیوں کی طرف سے بنائے گئے ان اصولوں کا تفصیلی اور وقت وقت پر جائزہ لیا جائے جنہیں وسیع پیمانے پر سخت ضابطے کے لئے طور پر دیکھا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Jan 2021, 3:11 PM