ملک کے قومی بجٹ سے زیادہ دولت ہے ملک کے 63 سرمایہ داروں کے پاس: رپورٹ

آکسفیم کنفیڈریشن نے اپنی ایک رپورٹ میں چونکانے والی معلومات پیش کی ہے اور اس کے مطابق ملک کے 63 سرمایہ داروں کے پاس جو دولت ہے وہ قومی بجٹ سے بھی زیادہ ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ملک کے 95 کروڑ لوگوں سے قریب چار گنا زیادہ دولت ہے۔ ان سرمایہ داروں کے پاس اتنی رقم ہے کہ اس سے ملک کا ایک سال کا پورا بجٹ بن جائے۔ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

سویٹزر لینڈ کے داووس شہر میں عالمی اقتصادی فورم کا اجلاس جاری ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے 50 ویں اجلاس میں آکسفیم کانفیڈریشن نے ’ٹائم ٹو کئیر‘ نام کی ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 2,153 ارب پتیوں کے پاس زمین کی کل آبادی کا 60 فیصدی حصہ رکھنے والے 4.6 ارب لوگوں سے بھی زیادہ کی دولت ہے۔ اس رپورٹ میں ہندوستان کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ یہاں 63 ارب پتیوں کے پاس ملک کے کل بجٹ سے زیادہ دولت ہے۔ اس میں سال 2018-19 کے بجٹ کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ ملک کا کل بجٹ 24 لاکھ 42 ہزار دو سو کروڑ روپے تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں امیروں اور غریبوں کے بیچ کھائی بڑھتی جا رہی ہے اور زیادہ تر امیروں کی دولت گزشتہ ایک دہائی میں دو گنی ہوئی ہے جبکہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ ایک سال میں ان کی دولت کچھ کم ہوئی ہے۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بیحر کہتے ہیں ’’امیروں اور غریبوں کے بیچ فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ جبھی ختم ہو سکتا ہے جب اس کو ختم کرنے والی پالیسیاں لائی جائیں اور ایسا بہت کم حکومتیں کر رہی ہیں۔‘‘