غزل کا شہزادہ مدن موہن، جس کی لازوال دھنیں آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں
مدن موہن نے اپنی سحر انگیز دھنوں اور لازوال غزلوں سے ہندی فلمی موسیقی کو نئی شناخت دی۔ موسیقی کے شائقین آج بھی ’آپ کی نظروں نے سمجھا‘ اور ’کر چلے ہم فدا‘ جیسے شاہکار نغموں کو محبت سے یاد کرتے ہیں

ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں چند ہی ایسے موسیقار گزرے ہیں جنہوں نے اپنے فن، طرزِ احساس اور دل نشیں دھنوں کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ انہی عظیم فنکاروں میں مدن موہن کا نام انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سحر انگیز دھنوں اور لازوال غزلوں سے ہندی فلمی موسیقی کو نئی شناخت دی۔ موسیقی کے شائقین آج بھی ’آپ کی نظروں نے سمجھا‘ اور ’کر چلے ہم فدا‘ جیسے شاہکار نغموں کو محبت سے یاد کرتے ہیں، جو ان کے غیر معمولی فن کی زندہ مثال ہیں۔
مدن موہن کی موسیقی کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی، نفاست اور جذباتی گہرائی تھی۔ وہ کلاسیکی موسیقی کو فلمی انداز میں اس مہارت سے پیش کرتے تھے کہ ہر دھن دل میں اتر جاتی تھی۔ ان کے نغموں میں محبت، جدائی، درد، امید اور وطن سے محبت جیسے جذبات اس خوبصورتی سے سمٹ آتے تھے کہ سننے والا خود کو ان کا حصہ محسوس کرنے لگتا تھا۔
25 جون 1924 کو موجودہ عراق کے شہر اربیل میں پیدا ہونے والے مدن موہن کے والد رائے بہادر چنی لال فلمی صنعت کی ایک معروف شخصیت تھے۔ وہ ’بامبے ٹاکیز‘ اور ’فلمستان‘ جیسے بڑے فلمی اداروں سے وابستہ تھے۔ اگرچہ گھر کا ماحول فلمی تھا، لیکن والد کی خواہش پر مدن موہن نے ابتدا میں فوج میں ملازمت اختیار کی اور دہرہ دون میں اپنی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں ان کا تبادلہ دہلی ہوا، مگر موسیقی سے ان کی بے پناہ محبت انہیں زیادہ عرصہ فوج میں نہ روک سکی۔
فوج چھوڑنے کے بعد وہ لکھنؤ منتقل ہوئے اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ یہیں انہیں موسیقی کے عظیم فنکاروں طلعت محمود، استاد فیاض خان، استاد اکبر علی خان اور بیگم اختر کی قربت نصیب ہوئی۔ ان شخصیات سے انہوں نے نہ صرف موسیقی کی باریکیاں سیکھیں بلکہ اردو زبان اور غزل کی لطافت کو بھی قریب سے سمجھا۔ مدن موہن کی اردو نہایت شستہ تھی اور وہ زبان و بیان پر غیر معمولی عبور رکھتے تھے، جس کا اثر ان کی موسیقی میں بھی صاف محسوس ہوتا ہے۔
بعد ازاں ممبئی پہنچ کر انہوں نے ایس ڈی برمن، شیام سندر اور سی رام چندر جیسے نامور موسیقاروں کے معاون کے طور پر کام کیا۔ 1950 میں ریلیز ہونے والی فلم ’آنکھیں‘ کے ذریعے انہیں بطور موسیقار پہلی بڑی کامیابی ملی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل ایسی دھنیں تخلیق کیں جنہوں نے انہیں فلمی موسیقی کے ممتاز ترین موسیقاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
مدن موہن اور لتا منگیشکر کی جوڑی ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ کی کامیاب ترین تخلیقی شراکت داریوں میں شمار کی جاتی ہے۔ مدن موہن کی بیشتر لازوال دھنوں کو لتا منگیشکر کی آواز نے امر بنا دیا۔ خود لتا منگیشکر انہیں ’غزل کا شہزادہ‘ کہا کرتی تھیں۔ معروف موسیقار او پی نیر بھی اس جوڑی کے معترف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ لتا منگیشکر مدن موہن کے لیے بنی تھیں یا مدن موہن لتا منگیشکر کے لیے، لیکن ان جیسی موسیقار اور گلوکارہ کی جوڑی دوبارہ پیدا ہونا آسان نہیں۔
مدن موہن کا شہرۂ آفاق نغمہ ’آپ کی نظروں نے سمجھا، پیار کے قابل مجھے‘ آج بھی بہترین رومانوی گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ اس دھن سے عظیم موسیقار نوشاد اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدن موہن سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اس ایک دھن کے بدلے اپنی پوری موسیقی کا خزانہ دینے کو تیار ہیں۔ یہ واقعہ مدن موہن کے غیر معمولی تخلیقی مقام کا واضح ثبوت سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ایک وقت یہ تاثر عام تھا کہ مدن موہن صرف خواتین گلوکاراؤں، خصوصاً لتا منگیشکر، کے لیے ہی بہترین موسیقی ترتیب دے سکتے ہیں، لیکن انہوں نے اس خیال کو بھی غلط ثابت کیا۔ فلم ’دیکھ کبیرہ رویا‘ میں منا ڈے کی آواز میں ’کون آیا میرے من کے دوارے‘ اور فلم ’حقیقت‘ میں محمد رفیع کی آواز میں ’کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو‘ جیسی لازوال تخلیقات نے ثابت کیا کہ وہ ہر آواز کے مزاج کے مطابق شاہکار دھن تخلیق کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔
اسی طرح فلم ’میرا سایہ‘ میں آشا بھونسلے کی آواز میں ریکارڈ ہونے والا نغمہ ’جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں‘ آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آشا بھونسلے اکثر مزاحیہ انداز میں ان سے شکایت کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنی ہر فلم میں لتا منگیشکر کو ہی کیوں ترجیح دیتے ہیں، جس پر مدن موہن مسکراتے ہوئے جواب دیتے کہ جب تک لتا موجود ہیں، ان کی دھنوں کا اصل حسن انہی کی آواز ہے۔
1970 میں فلم ’دستک‘ کے لیے مدن موہن کو بہترین موسیقار کے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اپنے تقریباً پچیس برس کے فلمی سفر میں انہوں نے لگ بھگ سو فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی اور ہر دور کے سامعین کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
14 جولائی 1975 کو مدن موہن اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی موسیقی آج بھی زندہ ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہونے والی فلم ’موسم‘ اور ’لیلیٰ مجنوں‘ نے بھی ان کے فن کو نئی زندگی بخشی۔ بعد میں ان کے صاحبزادے سنجیو کوہلی نے والد کی غیر استعمال شدہ دھنیں فلم ساز یش چوپڑا کو سنائیں، جن میں سے آٹھ دھنیں فلم ’ویر زارا‘ میں استعمال کی گئیں۔ ان گیتوں کی بے مثال کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مدن موہن کی موسیقی وقت کی پابند نہیں، بلکہ ہر نسل کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والی ایک لازوال میراث ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
