شہریار: والد پولیس افسر بنانا چاہتے تھے، مگر وہ اردو ادب کا درخشاں ستارہ بن گئے
شہریار اردو ادب کے ممتاز شاعر، استاد اور انسان دوست شخصیت تھے۔ ان کی شاعری نے ادب اور فلم دونوں کو نئی جہت دی۔ امراؤ جان کے لازوال نغمے آج بھی ان کی تخلیقی عظمت کی گواہی دیتے ہی

’دل چیز کیا ہے، آپ میری جان لیجیے‘ اور ’ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں‘ جیسے لازوال نغمے آج بھی موسیقی اور شاعری کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان امر گیتوں کے خالق اردو ادب کے ممتاز شاعر شہریار تھے۔ تاہم شہریار صرف ایک عظیم شاعر ہی نہیں بلکہ ایک شفیق استاد، مخلص دوست اور اعلیٰ انسانی اوصاف کے حامل شخص بھی تھے۔
شہریار، جن کا اصل نام اخلاق محمد خان تھا، 16 جون 1936 کو اتر پردیش کے ضلع بریلی کے قصبے آنولہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ابو محمد خان پولیس افسر تھے اور ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی پولیس کی ملازمت اختیار کرے۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شہریار کا رجحان وردی اور سرکاری منصب کی بجائے ادب، کتابوں اور لفظوں کی دنیا کی طرف تھا۔ انہوں نے خاندانی خواہشات کے برخلاف ادب اور شاعری کا راستہ اختیار کیا، اور یہی فیصلہ بعد میں اردو شاعری کے لیے ایک بیش بہا سرمایہ ثابت ہوا۔
گھر کا ماحول نظم و ضبط اور سخت اصولوں پر مبنی تھا۔ بچپن میں شہریار کو کھیلوں سے بھی دلچسپی تھی اور ایک عرصے تک وہ ایتھلیٹ بننے کا خواب دیکھتے رہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کتابوں اور شاعری نے ان کے دل میں مستقل جگہ بنا لی۔ الفاظ کی دنیا انہیں اپنی طرف کھینچتی رہی اور وہ ادب کے اس سفر پر گامزن ہو گئے جس نے انہیں شہرت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے، جہاں ان کی زندگی کا رخ متعین ہوا۔ 1961 میں انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران ان کی ملاقات معروف شاعر خلیل الرحمٰن اعظمی سے ہوئی، جنہوں نے ان کی ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا میں ان کی تخلیقات ان کے اصل نام اخلاق محمد خان کے تحت شائع ہوتی رہیں، لیکن بعد میں انہوں نے ’شہریار‘ تخلص اختیار کیا، جو ہمیشہ کے لیے ان کی شناخت بن گیا۔
1960 کی دہائی میں ان کی شاعری نے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنانا شروع کر دی۔ شہریار کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ان کی سادگی تھی۔ وہ پیچیدہ خیالات اور گہری کیفیات کو نہایت آسان اور عام فہم زبان میں بیان کرتے تھے۔ یہی خوبی انہیں ہر عمر کے قارئین اور سامعین کے قریب لے آئی۔
1966 میں شہریار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ پروفیسر اور پھر شعبے کے صدر بھی بنے۔ بطور استاد وہ طلبہ میں بے حد مقبول تھے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ ان کا تخلیقی سفر بھی جاری رہا۔ ان کے ساتھیوں اور شاگردوں کا کہنا تھا کہ وہ جتنے بڑے شاعر تھے، اتنے ہی عظیم انسان بھی تھے۔ نوجوان نسل سے بے تکلف تعلق اور ہر شخص سے محبت و خلوص سے پیش آنا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ شاید اسی لیے لوگ انہیں محبت سے ’یاروں کا یار" کہا کرتے تھے۔
ان کی شاعری میں زندگی کی اداسی، انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، محبت کی لطافت اور سماجی بے چینی بھرپور انداز میں نظر آتی ہے۔ ان کا ایک مشہور شعر آج بھی زبان زدِ عام ہے:
سینے میں جلن، آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
یہی منفرد انداز انہیں اپنے عہد کے دیگر شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں گہرائی بھی تھی اور سادگی بھی۔ وہ مشکل ترین احساسات کو اس طرح بیان کرتے تھے کہ قاری یا سامع خود کو ان کے کلام کا حصہ محسوس کرنے لگتا تھا۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ’اسمِ اعظم‘ 1965 میں شائع ہوا، تاہم ’خواب کا در بند ہے‘ نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی۔ اسی مجموعے پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں انہیں ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز، گیان پیٹھ ایوارڈ، سے بھی سرفراز کیا گیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ تیسرے ادیب تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا، جبکہ اردو زبان کے چند منتخب ادیبوں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے جنہیں یہ عظیم اعزاز ملا۔
ہدایت کار مظفر علی کی شہرۂ آفاق فلم امراؤ جان کے لیے لکھے گئے ان کے نغمے آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجئے‘، ’ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں‘ اور ’جستجو جس کی تھی‘ جیسے گیتوں نے انہیں فلمی دنیا میں لازوال مقام عطا کیا۔
اس کے باوجود شہریار خود کو روایتی فلمی نغمہ نگار نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ فلمی گیت اسی وقت لکھنا چاہیے جب وہ کہانی کا فطری حصہ ہو اور اس میں شاعری کی حقیقی گنجائش موجود ہو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فلموں کے لیے بہت کم لکھا، مگر جو کچھ بھی لکھا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔
13 فروری 2012 کو کینسر کے باعث شہریار اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن شاعر کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنے الفاظ، خیالات اور احساسات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ شہریار بھی اپنی غزلوں، نظموں اور لازوال نغموں کے ذریعے آج تک لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں اور آئندہ نسلوں کو بھی متاثر کرتے رہیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
