ماسٹر مدن: وہ طلسماتی آواز جو 14 برس کی عمر میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی

صرف 14 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والے ماسٹر مدن برصغیر کے ان نادر گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی جادوئی آواز آج بھی سامعین کو مسحور کر دیتی ہے۔ ان کی مختصر زندگی موسیقی کا ایک لازوال باب ہے

<div class="paragraphs"><p>ماسٹر&nbsp; مدن / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہندستانی موسیقی کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو مختصر عمر کے باوجود ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ ماسٹر مدن بھی ایسی ہی ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ اپنی بے مثال آواز، حیرت انگیز موسیقی فہم اور دل موہ لینے والے اندازِ گائیکی کے باعث وہ کم عمری میں ہی پورے برصغیر میں شہرت حاصل کر چکے تھے، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ صرف 14 برس کی عمر میں ان کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا اور موسیقی کی دنیا ایک عظیم صلاحیت سے محروم ہو گئی۔

ماسٹر مدن کی پیدائش 28 دسمبر 1927 کو پنجاب کے جالندھر میں ایک سکھ خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد سردار امر سنگھ محکمۂ تعلیم سے وابستہ تھے اور موسیقی سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ وہ ہارمونیم اور طبلے پر مہارت رکھتے تھے، جبکہ گھر کے دیگر افراد بھی موسیقی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مدن کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں سُر، تال اور موسیقی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ماسٹر مدن نے محض 2 برس کی عمر میں موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے پنڈت امرناتھ اور گوسائی بھگود کشور جیسے نامور اساتذہ سے بھی رہنمائی حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی موہن سنگھ موسیقی کا باقاعدہ ریاض کرتے تھے اور مدن اکثر ان کے ساتھ بیٹھ کر سیکھتے رہتے۔ غیر معمولی حافظے اور فطری صلاحیت کے باعث وہ بہت کم عمر میں ہی راگوں اور سروں کی باریکیوں کو سمجھنے لگے تھے۔

اس زمانے کے عظیم گلوکار کندن لال سہگل بھی ان کے گھر آیا کرتے تھے اور موسیقی کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ کم سن مدن ان محفلوں کو بڑی توجہ سے سنتے اور سیکھتے تھے۔ یہی مشاہدہ اور مسلسل ریاض ان کی فنی پختگی کا سبب بنا۔


صرف 3.5 یا 4 برس کی عمر میں ماسٹر مدن نے اپنی پہلی عوامی موسیقی پیش کی۔ انہوں نے راگ درپد میں گائیکی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ حاضرین دنگ رہ گئے۔ موسیقی کے ماہرین کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ اتنی کم عمر کا بچہ سُر اور تال پر اتنی مضبوط گرفت کیسے رکھ سکتا ہے۔ ان کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں سونے کی انگوٹھی اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا، جبکہ ملک کے بڑے اخبارات نے ان کی تصاویر اور خبریں نمایاں طور پر شائع کیں۔

اس کے بعد ماسٹر مدن کی شہرت تیزی سے پورے ملک میں پھیل گئی۔ موسیقی کی محفلوں اور ثقافتی تقریبات میں انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا جانے لگا۔ ان کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس، سوز اور کشش تھی جو سامعین کو پہلی ہی سماعت میں اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کم عمری کے باوجود وہ ملک کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہونے لگے۔

ماسٹر مدن کی گائی ہوئی غزل ’حیرت سے تک رہا ہے‘ آج بھی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ 9.5 برس کی عمر میں انہوں نے اسے آل انڈیا ریڈیو دہلی سے پیش کیا تھا۔ طویل عرصے تک ان کی صرف چند ہی ریکارڈنگز دستیاب تھیں لیکن بعد میں تحقیق کے دوران مزید غزلیں، اردو گیت اور پنجابی نغمے دریافت ہوئے، جنہوں نے ان کے فن کی عظمت کو مزید نمایاں کیا۔

بدقسمتی سے یہ روشن ستارہ بہت جلد غروب ہو گیا۔ 5 جون 1942 کو صرف 14 برس، 5 ماہ اور 11 دن کی عمر میں ماسٹر مدن کا انتقال ہو گیا۔ عام طور پر یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا، اگرچہ اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں اور حتمی حقیقت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ ان کی وفات کے بعد موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جو کبھی پُر نہ ہو سکا۔


آج بھی جب ماسٹر مدن کی ریکارڈنگز سنی جاتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی کم عمر میں کسی فنکار کی آواز میں اتنی پختگی، گہرائی اور اثر انگیزی کیسے آ سکتی ہے۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسیقی کے سنجیدہ حلقوں میں ماسٹر مدن کو محض ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک کرشمائی صلاحیت کا حامل فنکار سمجھا جاتا ہے۔

مختصر زندگی کے باوجود ماسٹر مدن نے جو ورثہ چھوڑا، وہ ہندستانی موسیقی کی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ ان کی آواز آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ بعض فنکار عمر سے نہیں بلکہ اپنے فن کی عظمت سے امر ہوتے ہیں۔

(ان پٹ: یو این آئی)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔