یسوداس: موسیقی کو روحانیت سے جوڑنے والا گلوکار

یسوداس ہندوستانی موسیقی کی وہ آواز ہیں جنہوں نے فلمی، کلاسیکی اور بھکتی گائیکی میں بے مثال مقام حاصل کیا۔ 6 دہائیوں پر محیط کریئر میں انہوں نے زبانوں اور سرحدوں سے ماورا ہو کر کروڑوں دلوں کو مسحور کیا

<div class="paragraphs"><p>گلوکار یسوداس</p></div>
i
user

یو این آئی

ہندوستانی موسیقی کی تاریخ میں اگر کسی آواز نے مذہب، زبان اور خطے کی سرحدوں سے ماورا ہو کر کروڑوں دلوں کو جوڑا ہے تو وہ کے جے یسوداس کی آواز ہے۔ کٹاسّری جوزف یسوداس نہ صرف ایک عظیم گلوکار ہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت بھی ہیں جنہوں نے موسیقی کو محض تفریح کے دائرے سے نکال کر روحانیت اور بھکتی سے جوڑ دیا۔ ان کی آواز میں سادگی، پاکیزگی اور جذباتی گہرائی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا بھر میں ’گانا گندھروَن‘ یعنی الوہی گلوکار کہا جاتا ہے۔

کے جے یسوداس کی پیدائش 10 جنوری 1940 کو کیرالہ کے شہر کوچی میں ایک موسیقی سے وابستہ گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد آگسٹین جوزف خود ایک معروف موسیقار اور اسٹیج آرٹسٹ تھے، جبکہ والدہ الزبتھ جوزف گھریلو خاتون تھیں۔ سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر پیدا ہونے والے یسوداس کو بچپن ہی سے موسیقی کا ماحول میسر آیا۔

کے جے یسوداس نے ابتدائی اپنے والد سے حاصل کی اور کم عمری میں ہی ان کی غیر معمولی سریلی آواز نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ محض سات سال کی عمر میں فورٹ کوچی میں منعقدہ ایک مقامی موسیقی مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتنا ان کی فطری صلاحیت کا واضح ثبوت تھا۔

بعد ازاں یسوداس نے کرناٹک کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اسی بنیاد پر انہوں نے اپنی گائیکی کو مضبوط فنی اساس فراہم کی۔ کلاسیکی موسیقی میں مہارت کے باوجود ان کی آواز میں ایک ایسی سادگی اور خلوص موجود رہا جو عام سامع کو بھی فوراً اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشکل کلاسیکی بندشوں کے ساتھ ساتھ سادہ اور جذباتی فلمی گیت بھی یکساں مہارت سے گاتے رہے۔ خاص طور پر بھکتی گیتوں، بھجنوں، کیرتنوں اور عیسائی مذہبی نغمات میں ان کی آواز ایک روحانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔


یسوداس کے فلمی کریئر کا آغاز 1960 کی دہائی میں ملیالم فلموں سے ہوا، لیکن جلد ہی ان کی آواز جنوبی ہندوستان کی سرحدوں سے نکل کر پورے ملک میں پہچانی جانے لگی۔ انہوں نے ملیالم، تمل، تلگو اور کنڑ کے ساتھ ساتھ ہندی، بنگالی، مراٹھی، اُڑیہ اور پنجابی زبانوں میں بھی بے شمار یادگار گیت گائے۔ یہی نہیں، بلکہ عربی، انگریزی، لاطینی اور روسی زبانوں میں گلوکاری کر کے انہوں نے اپنی بین الاقوامی مقبولیت کا بھی ثبوت دیا۔

بالی ووڈ میں ان کا باقاعدہ داخلہ 1971 میں فلم جے جوان جے کسان سے ہوا، مگر اصل پہچان 1975 میں فلم چھوٹی سی بات کے گیت ’جانِ من جانِ من‘ سے ملی۔ اس کے بعد 1976 میں ریلیز ہونے والی فلم چت چور کا گیت ’گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا‘ ان کے کریئر کا سنگ میل ثابت ہوا۔ رویندر جین کی موسیقی میں یہ گیت آج بھی ہندوستانی سنیما کے کلاسک نغمات میں شمار کیا جاتا ہے اور اسی گیت پر یسوداس کو قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے دیگر مشہور گیتوں میں ’تو جو میرے سر میں سر ملا لے‘‘، ’مدھوبن خوشبو دیتا ہے‘، ’دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے‘، ’چاند جیسے مکھڑے پر‘ اور ’جب دیپ جلے آنا‘ شامل ہیں۔

یسوداس نے امیتابھ بچن، امول پالیکر اور جیتندر جیسے بڑے اداکاروں کے لیے گیت گائے اور رویندر جین، خیام، بپّی لہری، راج کمل اور سلیل چودھری جیسے نامور موسیقاروں کے ساتھ طویل اور یادگار اشتراک کیا۔ ان کی آواز ہر اداکار اور ہر صنف کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہے، جو ان کی فنی وسعت کا ثبوت ہے۔

موسیقی کے فروغ کے لیے انہوں نے 1980 میں ترواننت پورم میں تھرنگِنی اسٹوڈیو قائم کیا، جسے بعد میں چنئی منتقل کیا گیا اور 1998 میں امریکہ میں رجسٹر کرایا گیا۔ تھرنگِنی اسٹوڈیو اور تھرنگِنی ریکارڈز نے کیرالہ میں جدید ریکارڈنگ کے شعبے کو نئی سمت دی اور پہلی بار ملیالم فلمی گیتوں کی اسٹیریو آڈیو کیسٹیں جاری کی گئیں۔


1999 میں پیرس میں منعقدہ ’میوزک فار پیس‘ پروگرام کے دوران یونیسکو نے یسوداس کو ’’موسیقی اور امن کے لیے شاندار خدمات‘‘ کے اعزازی ایوارڈ سے نوازا۔ اس عالمی تقریب میں لیونل رچی، رے چارلس اور زوبن مہتا جیسے فنکاروں کی موجودگی نے اس اعزاز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

کے جے یسوداس کو پدم شری، پدم بھوشن اور پدم وبھوشن سمیت بے شمار قومی اور بین الاقوامی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی سادگی کی مثال ہے۔ اہلیہ پربھا اور تین بیٹوں ونود، وجے اور وشال کے ساتھ ان کا خاندانی رشتہ مضبوط رہا ہے، جبکہ وجے یسوداس خود بھی موسیقی کے میدان میں ایک نمایاں نام بن چکے ہیں۔

چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کریئر میں یسوداس نے مختلف زبانوں میں پچاس ہزار سے زیادہ گیت گائے اور ایک ہی دن میں 16 زبانوں میں گیت گانے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ انہوں نے موسیقی کو عبادت، محبت اور انسانیت کا پیغام بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز آج بھی نسل در نسل سامعین کے دلوں میں زندہ ہے اور موسیقی سے محبت کرنے والوں کے لیے مستقل تحریک کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔